✕
کاروبار اور معیشت

ربیع کی بوائی کا سیزن: ڈی اے پی کھاد کی قلت سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ

  • پنجاب اور سندھ کے اہم زرعی علاقوں میں ڈی اے پی کھاد کی فراہمی پہلے ہی متاثر ہو رہی ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کا زرعی شعبہ ایک سنگین ہوتے ہوئے بحران سے دوچار ہے کیونکہ ڈائی امونیم فاسفیٹ (ڈی اے پی) کھاد کی شدید قلت سے آئندہ ربیع کی فصلوں کی بوائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال نے فصلوں کی پیداوار میں کمی، زرعی مداخل کی بڑھتی لاگت اور ملک کی غذائی سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے۔

صنعتی ذرائع کے مطابق درآمدی ڈی اے پی کھاد سے لادے بحری جہاز کراچی بندرگاہ پر برتھ کے انتظار میں قطاروں اور بیرونی لنگرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں جس کے باعث کھاد کی اہم کھیپوں کی آمد میں تاخیر ہورہی ہے۔ اس صورتحال نے 2026-27 کی گندم کی فصل کی پیداوار میں نمایاں کمی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پنجاب اور سندھ کے اہم زرعی علاقوں میں ڈی اے پی کھاد کی فراہمی پہلے ہی متاثر ہو رہی ہے۔ یہ کھاد مٹی کو اہم غذائی اجزا فراہم کرتی ہے اور گندم کی ابتدائی بوائی کے وقت استعمال کی جاتی ہے تاکہ پودوں کی جڑیں مضبوط ہو سکیں۔

زرعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بوائی کے موزوں وقت، یعنی اکتوبر اور نومبر کے دوران فاسفیٹ کھاد کے استعمال میں دو سے تین ہفتوں کی تاخیر بھی فصل کی نشوونما کو مستقل طور پر متاثر کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں گندم کی مجموعی پیداوار میں 20 سے 25 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔

صنعتی ذرائع نے بندرگاہ پر اس صورتحال کی وجہ رسدی نظام میں رکاوٹوں، کسٹمز کلیئرنس میں تاخیر اور بلک کارگو ٹرمینلز پر رش کو قرار دیا ہے۔ اگرچہ بندرگاہ کے حکام اور ٹرمینل آپریٹرز درآمدی کھاد کی کھیپوں کی ہینڈلنگ تیز کرنے کی کوششیں کررہے ہیں، تاہم زمینی سطح پر کھاد کی ترسیل اور تقسیم کا نظام بدستور شدید دباؤ کا شکار ہے جس سے ربیع کی اہم فصلوں کی بوائی کے دوران قلت کی صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔

ملک کے اندرونی تجارتی مراکز میں کھاد کے ڈیلرز نے پہلے ہی دستیاب ذخائر کی راشن بندی شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں کسانوں میں کھاد کی گھبراہٹ میں خریداری کا رجحان پیدا ہو رہا ہے اور فی بوری سرکاری نرخ سے زیادہ قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں۔

ایک صنعتی ذرائع نے خبردار کیا کہ اگر بندرگاہ پر تاخیر یا بلیک مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے باعث کسانوں کو مناسب مقدار میں ڈی اے پی کھاد کے بغیر گندم کی بوائی کرنا پڑی تو 2027 کے اوائل میں فصل کی کٹائی کے وقت فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئے گی۔

کھاد کی ممکنہ قلت ایسے نازک وقت میں سامنے آ رہی ہے جب پاکستان کی غذائی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ ملک کے بڑے شہری مراکز میں گندم کے آٹے کی قیمتیں پہلے ہی 150 سے 180 روپے فی کلوگرام کے درمیان ہیں۔

صنعتی ذرائع نے خبردار کیا کہ 2027 میں گندم کی فصل کی پیداوار میں کمی کے باعث حکومت کو مہنگی غیر ملکی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑے گا، جس سے آٹے کی خوردہ قیمت 200 روپے فی کلوگرام کی غیر معمولی حد سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

زرعی شعبے کے نمائندوں نے وزارتِ بحری امور، وزارتِ قومی غذائی تحفظ اور بندرگاہوں کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر کھاد سے لدے تمام بحری جہازوں کی فوری کلیئرنس کے لیے ہنگامی طریقہ کار کا اعلان کیا جائے۔