✕

پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری فارغ التحصیل نوجوانوں کی ملازمت کے امکانات بہتر بنانے اور مہارتوں کے فقدان کو دور کرنے کے لیے تعلیمی اداروں اور حکومت کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) نے برٹش کونسل کے اشتراک سے گلگت میں ایک اجلاس منعقد کیا جس کا مقصد یورپی یونین کے پروگرام ’ٹیم یورپ‘ کے تحت تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (TVET) کے شعبے میں صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینا تھا۔

پاشا مقامی آئی ٹی شعبے کی نمائندہ تنظیم گلگت بلتستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (GBSHA) کے ساتھ بھی پالیسی سازی کے لیے مؤثر آواز اٹھانے، مہارتوں کے فروغ، برآمدات میں سہولت فراہم کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے شعبوں میں تعاون کر رہی ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاشا کے چیئرمین اسپیشل انیشی ایٹوز محمد ذوہیب خان نے خطے کی ترقی اور تبدیلی کی بھرپور صلاحیت کو اجاگر کیا، تاہم ساتھ ہی بنیادی ڈھانچے سے متعلق اہم چیلنجز کی بھی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ڈیجیٹل شعبے کے لیے بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ٹیلنٹ موجود ہے جسے تاحال بھرپور طور پر بروئے کار نہیں لایا جا سکا۔ یہ صلاحیتیں ملکی آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافے اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

تاہم، انہوں نے زور دیا کہ اس معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ کی قابلِ اعتماد اور بلا تعطل فراہمی ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی ناکافی سہولیات خطے کے نوجوانوں کو عالمی منڈی میں دستیاب مواقع سے محروم کرسکتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جامعات اور تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے نصاب کو آئی ٹی برآمدی شعبے کی بدلتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

تقریب میں اہم متعلقہ فریقوں نے پینل مباحثوں میں بھی حصہ لیا۔ ان مباحثوں میں خطے میں آئی ٹی شعبے کی ترقی اور بنیادی سطح پر ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے پاشا کے عزم کو اجاگر کیا گیا۔

اسی وژن کی تائید کرتے ہوئے پاشا کے چیئرمین ڈاکٹر شعیب احمد خان نے کہا کہ ملک کے آئی ٹی برآمدات کے اہداف صرف بڑے شہری مراکز تک محدود رہ کر حاصل نہیں کیے جا سکتے۔