ایف پی سی سی آئی انتخابات: ایس ایم تنویر کے مقابلے میں بی ایم پی اور بی ایم جی کا مشترکہ امیدوار لانے پر غور
- بی ایم پی رہنماؤں کی زبیر موتی والا سے صدارتی انتخاب لڑنے کی درخواست، انجم نثار اور سینیٹر غلام علی بھی اجلاس میں شریک
ایف پی سی سی آئی کے انتخابات سے قبل کاروباری حلقوں میں سیاسی جوڑ توڑ تیز ہوگیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بزنس مین پینل (بی ایم پی) اور بزنس مین گروپ (بی ایم جی) ایس ایم تنویر کے مقابلے میں مشترکہ صدارتی امیدوار میدان میں اتارنے کے لیے ممکنہ اتحاد پر غور کررہے ہیں جنہیں بی ایم جی کی حمایت یافتہ مضبوط ترین امیدوار قرار دیا جارہا ہے۔
کراچی چیمبر کے سابق صدر زبیر موتی والا کو اس عہدے کے لیے ترجیحی امیدوار کے طور پر زیرِ غور لایا جارہا ہے جبکہ اس حوالے سے باضابطہ اعلان جمعرات کو کراچی چیمبر میں ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران متوقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ایچ ایم اے ہاؤس میں کے سی سی آئی کے نمائندوں اور بزنس مین پینل (بی ایم پی) کے رہنماؤں کے درمیان ایک اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کے دوران بی ایم پی رہنماؤں جن میں انجم نثار، سینیٹر غلام علی اور دیگر شامل تھے نے زبیر موتی والا پر زور دیا کہ وہ ایف پی سی سی آئی کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں۔
دریں اثنا جاوید بلوانی اور عاصم غنی عثمان کے نام بھی متبادل امیدواروں کے طور پر زیرِ غور ہیں۔
مالی سال 2027-28 کے لیے ایف پی سی سی آئی کے صدارتی انتخابات میں یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سرپرستِ اعلیٰ ایس ایم تنویر کو مضبوط ترین امیدوار تصور کیا جارہا ہے۔ ان کے مخالفین انتخابی مقابلے میں میمن برادری کی نمائندگی کو بھی ایک سیاسی عنصر کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایف پی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل نے کراچی چیمبر کے دو نمائندوں زبیر موتی والا اور ریحان حنیف سمیت چار ووٹرز کے ووٹ ڈالنے کے حق کو متنازع قرار دیتے ہوئے ان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کردیے تھے۔ تاہم انہیں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔
اس فیصلے کے ردعمل میں کراچی چیمبر نے اسے چیلنج کرنے اور جمعرات کو شیڈول پریس کانفرنس میں اپنے صدارتی امیدوار کے نام کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ پریس کانفرنس ایف پی سی سی آئی کے انتخابات سے قبل کاروباری حلقوں میں مستقبل کی سیاسی صف بندی اور انتخابی حکمتِ عملی کے تعین کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اپوزیشن گروپ بزنس مین پینل (بی ایم پی) اب تک ایس ایم تنویر کے مقابلے میں اپنا امیدوار نامزد کرنے میں ناکام رہا ہے۔
کراچی چیمبر کی پریس کانفرنس بی ایم پی کو انتخابی مقابلے میں فعال کردار برقرار رکھنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
اگر زبیر موتی والا صدارتی امیدوار کی حیثیت سے انتخابی میدان میں اترتے ہیں تو ان کی کامیابی کا امکان بظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اطلاعات کے مطابق ووٹرز کی اکثریت ایس ایم تنویر کی حمایت کی جانب مائل ہے۔
تاہم، موتی والا کی امیدوار کی حیثیت سے شمولیت انتخابی مقابلے کو زیادہ سخت اور دلچسپ بنا سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر کسی اور امیدوار کو نامزد کیا جاتا ہے تو ایس ایم تنویر کے خلاف اپوزیشن کا چیلنج نسبتاً کمزور رہنے کا امکان ہے۔