کسانوں کا گنے کی قیمت 650 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ، حکومت کو 10 روز کی مہلت
- مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اسلام آباد میں احتجاج کریں گے، کسان اتحاد
کسانوں نے گنے کی قیمت فوری طور پر 650 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو 10 روز کی مہلت دے دی ہے کہ وہ امدادی قیمتوں کا اعلان کرے اور گنے کی کرشنگ شروع کروائے۔ کسانوں نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔
کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ آبادگار اتحاد اور کسان اتحاد کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ شوگر مل مالکان ہر کرشنگ سیزن کے آغاز پر کسانوں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ دینے سے بچنے کے لیے اسی طرح کے حربے اختیار کرتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کو کسانوں کے مطالبات پورے کرنے کے لیے 10 روز کی مہلت دی گئی ہے۔
اگر مقررہ مدت کے اندر کرشنگ سیزن شروع نہ کیا گیا اور ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو کسان اسلام آباد میں احتجاج کریں گے۔
کسان اتحاد کے صدر خالد حسین باٹھ نے کہا کہ حکومت نے نہ تو گنے کی قیمت مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور نہ ہی کرشنگ سیزن شروع کرنے کی تاریخ کا اعلان کیا ہے جس کے باعث کاشتکاروں میں شدید بے یقینی پائی جاتی ہے۔
گنے کی امدادی قیمت 650 روپے فی من اور گندم کی قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خالد حسین نے کہا کہ گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم متعلقہ حکام اس حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کررہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، لیکن اس کے باوجود عوام 190 روپے فی کلو کے حساب سے آٹا خریدنے پر مجبور ہیں، ملک میں مؤثر زرعی پالیسی کا فقدان ہے جبکہ عام آدمی مسلسل مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔
خالد حسین نے دعویٰ کیا کہ درآمدی گندم کے معیار پر تحفظات کے باوجود اس کی تیسری کھیپ بھی پاکستان پہنچ چکی ہے، تاہم اس کے باوجود قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کسانوں کے مسائل کو ترجیح دے اور فوری طور پر گنے کی کرشنگ کا آغاز کروائے۔
سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپور نے کہا کہ گنے کی کرشنگ کا سیزن یکم نومبر سے شروع ہو جانا چاہیے تھا، تاہم شوگر ملوں نے تاحال کام شروع نہیں کیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ شوگر مل مالکان کو فوری طور پر گنے کی کرشنگ شروع کرنے کی ہدایت دے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ ملے۔