✕
اداریہ

اسرائیلی انتخابات، امن کی امیدیں بدستور کم

  • حتمی نتائج کے مطابق 120 ارکان پر مشتمل اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) میں نیتن یاہو کے سیاسی بلاک کو 53 نشستیں ملی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی انتخابات نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے اور اقتدار میں چار سال مکمل کرنے کے بعد ان کے انتہائی دائیں بازو کے حکومتی اتحاد کو پارلیمان میں اکثریت سے محروم کردیا ہے۔ تاہم ان انتخابات میں کسی متبادل حکومت کے حق میں بھی واضح اور فیصلہ کن مینڈیٹ سامنے نہیں آیا، جس سے اسرائیلی سیاست میں گہری تقسیم نمایاں ہوگئی ہے۔

حتمی نتائج کے مطابق 120 ارکان پر مشتمل اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) میں نیتن یاہو کے سیاسی بلاک کو 53 نشستیں ملی ہیں، جبکہ گڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں مرکزی اپوزیشن اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کی ہیں۔ باقی 19 نشستیں عرب قیادت میں قائم دو سیاسی گروپوں کے حصے میں آئی ہیں، جو نئی حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔

عرب گروپوں کی یہ غیر معمولی کامیابی ایک تاریخی لمحہ ہے۔ اسرائیل کے فلسطینی شہریوں نے سبکدوش ہونے والی کنیسٹ میں 10 نشستوں کے مقابلے میں اپنی نمائندگی تقریباً دوگنا کرکے 19 نشستوں تک پہنچا دی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب ووٹر اب سیاسی طور پر حاشیے پر رکھے جانے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تاہم اپوزیشن کو ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ حکومت بنانے کے لیے اسے عرب جماعتوں کی حمایت درکار ہوسکتی ہے، لیکن اس کے اتحاد میں شامل کئی جماعتیں اب بھی عرب نمائندوں کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

نیتن یاہو کا ردعمل خاصا معنی خیز رہا ہے۔ انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے بجائے انہوں نے اور ان کی جماعت لیکوڈ نے بغیر کسی ثبوت کے الزام عائد کیا ہے کہ عرب جماعتوں نے ووٹ خریدنے کے لیے غیر ملکی رقم استعمال کی۔ ان کے بیانات میں عرب ووٹروں کو اخوان المسلمون کا حامی قرار دینا اور ان پر پولنگ اسٹیشنوں پر دھاوا بولنے کے الزامات لگانا بھی شامل ہے، جبکہ ان کے اتحادیوں نے عرب سیاسی رہنماؤں سے تفتیش اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

اس نوعیت کے حملے اسرائیلی معاشرے میں عربوں کے خلاف گہری جڑیں رکھنے والی نسل پرستی کو ظاہر کرتے ہیں، جسے نیتن یاہو اپنے انتخابی حامیوں کو متحرک کرنے کے لیے بارہا استعمال کرتے رہے ہیں۔ تاہم ان کی اقتدار سے علیحدگی لازماً اسرائیلی پالیسی، بالخصوص فلسطینیوں کے حوالے سے، میں بنیادی تبدیلی کا باعث نہیں بنے گی۔ کئی دہائیوں سے جاری نفرت انگیز پروپیگنڈے، فلسطینیوں کی امنگوں کے خلاف مخالفت اور نسل پرستانہ نظریے کی ترویج نے ایسا ماحول پیدا کردیا ہے جس میں بظاہر اعتدال پسند اپوزیشن بھی سخت گیر مؤقف رکھتی ہے۔

دونوں سیاسی دھڑوں کے درمیان فرق اکثر اسرائیل کی سلامتی کی ترجیحات پر بنیادی اختلاف کے بجائے سیاسی رویے اور انداز کا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، آئزن کوٹ فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرچکے ہیں، جبکہ وہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنے کے حامی ہیں۔ نفتالی بینیٹ بھی فلسطینی ریاست کے مخالف ہیں، جبکہ ایوگڈور لائبرمین فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

وسیع تر خطے کے حوالے سے بھی ان کے مؤقف میں یہی تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ ایران کے معاملے پر اپوزیشن عمومی طور پر نیتن یاہو کے مؤقف سے متفق رہی ہے۔ جب اسرائیل اور امریکا نے تہران پر مشترکہ حملے کیے تو اپوزیشن جماعتوں نے اجتماعی طور پر اس فوجی کارروائی کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس لیے حکومت کی تبدیلی ایسے خطے کے لیے زیادہ اطمینان کا باعث نہیں بن سکتی جو پہلے ہی اسرائیلی بربریت سے شدید متاثر ہے۔

اسرائیلی سیاسی رائے میں آنے والی تبدیلی کی سب سے واضح مثال ایران کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی معاہدے پر ردعمل ہے۔ یہ معاہدہ جون میں فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر طے پایا تھا۔ حالانکہ ٹرمپ حالیہ امریکی تاریخ کے اسرائیل کے سب سے زیادہ حامی صدور میں شمار کیے جاتے ہیں، تاہم یہودی عوامی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے کے مطابق 68 فیصد اسرائیلیوں نے اس معاہدے کو اسرائیل کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ایک دوسرے سروے میں حیران کن طور پر 71 فیصد اسرائیلیوں نے کہا کہ انہیں ایران کے ساتھ مذاکرات میں اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ پر اعتماد نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے بڑی حد تک غیر مشروط حمایت بھی اس وقت ناکافی سمجھی جاتی ہے جب تک وہ اسرائیل کے زیادہ سے زیادہ مطالبات کو پورا نہ کرے۔

یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کا خطے کو سامنا ہے۔ ایسا معاشرہ جو نسل پرستی، فلسطینیوں اور عربوں کے خلاف دشمنی، اپنی انفرادیت اور استثنائی حیثیت کے پختہ تصور اور خطے میں بالادستی کے حق کے عقیدے سے گہرے طور پر متاثر ہو، محض حکومت کی تبدیلی سے امن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔

فلسطینیوں، بالخصوص غزہ کے عوام کے لیے انتخابی نتائج امید کی کوئی خاص وجہ فراہم نہیں کرتے۔ جب تک اسرائیل کے قبضے، فلسطینیوں کے حقوق اور خطے میں اپنی بالادستی کے عزائم کے حوالے سے بنیادی نظرثانی نہیں کی جاتی، پائیدار اور منصفانہ امن کے امکانات دور دکھائی دیتے ہیں۔ اسرائیل نے شاید نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف ووٹ دیا ہے، لیکن اس نے ابھی تک یہ ثابت نہیں کیا کہ وہ ان سیاسی رویوں کو مسترد کرنے کے لیے بھی تیار ہے جنہوں نے نیتن یاہو کو اقتدار میں برقرار رکھا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026