✕
کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج: اہم شعبوں میں خریداری، 100 انڈیکس ایک فیصد سے زائد بڑھ گیا

  • صبح 10 بجکر 50 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 1,791.25 پوائنٹس کے اضافے سے 168,355.31 پوائنٹس پر جاپہنچا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو خریداری کا رجحان دیکھا گیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے ابتدائی اوقات میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1,800 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

صبح 10 بجکر 50 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 1,791.25 پوائنٹس یا 1.08 فیصد اضافے سے 168,355.31 پوائنٹس پر جاپہنچا۔

تجزیہ کاروں کا ماننا تھا کہ سرمایہ کاروں کی خریداری میں دلچسپی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ جغرافیائی سیاسی حالات کو اب ایک الگ زاویے سے دیکھ رہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خطرہ ختم ہو گیا ہے۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے شعبۂ تحقیق کے سربراہ سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے حوالے سے سفارتی کوششوں کی بحالی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور پاکستان کیلئے یہ پیشرفت براہِ راست اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس کا اثر درآمدی بل، کرنٹ اکاؤنٹ اور مہنگائی پر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جانب اکتوبر کے دوران مارکیٹ میں پہلے ہی نمایاں کریکشن آچکی تھی، لہٰذا وہ سرمایہ کار جو اب تک مارکیٹ سے دور رہے، اب دوبارہ منتخب طور پر ان بڑی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری کررہے ہیں جن کا انڈیکس میں زیادہ وزن ہے۔ ان میں بینکنگ، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار اور سیمنٹ کے شعبے شامل ہیں جہاں کمپنیوں کی آمدنی کے مقابلے میں حصص کی قیمتیں مناسب دکھائی دیتی ہیں۔

تاہم سعد حنیف کے مطابق مارکیٹ میں یہ بحالی اب بھی خبروں اور اہم پیشرفت سے متاثر ہو کر سامنے آرہی ہے۔

اگر امن مذاکرات میں کوئی تعطل پیدا ہوتا ہے یا تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی سے اضافہ ہوتا ہے تو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا رجحان تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں توقع ہے کہ قریبی مدت میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہے گا جبکہ سرمایہ کار بنیادی طور پر مضبوط مالی حیثیت رکھنے والی اور باقاعدگی سے منافع (ڈیویڈنڈ) دینے والی کمپنیوں کے حصص کو ترجیح دیں گے۔

آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ حبکو، ایم ای بی ایل، ایس ایس جی سی، اوجی ڈی سی، ماری، اے آر ایل، ایچ بی ایل، پی پی ایل اور این بی پی بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔

یاد رہے کہ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا اختتام معمولی اضافے کے ساتھ ہوا کیونکہ چند بڑی کمپنیوں کے حصص میں خریداری کے باعث ملنے والی حمایت کو ریفائنری اسٹاکس میں دوبارہ فروخت کے دباؤ نے کسی حد تک زائل کردیا۔ ریفائنری اسٹاکس میں فروخت کا دباؤ حکومت کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا جس کے تحت پیٹرولیم لیوی میں کمی کر کے پیٹرول کی درآمدی لاگت میں اضافے کا بوجھ خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ گزشتہ روز 100 انڈیکس 154.81 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے سے 166,564.07 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کے آغاز پر اسٹاک مارکیٹس میں معمولی کمی دیکھی گئی جبکہ گزشتہ کاروباری سیشن میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ کے بعد ان میں استحکام آ گیا۔ دوسری جانب امریکی وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کے آغاز سے قبل سرمایہ کار محتاط اور بے یقینی کا شکار نظر آئے۔

جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کی نمائندگی کرنے والا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.9 فیصد نیچے آ گیا جس کی بڑی وجہ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں 3.8 فیصد تک کی گراوٹ تھی۔

دوسری جانب، ایس اینڈ پی 500 کے ای منی فیوچرز میں 0.1 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ تعطیل کے باعث جاپانی اسٹاک مارکیٹس بند رہیں۔

گزشتہ شب امریکی اسٹاک مارکیٹ وال اسٹریٹ میں حصص کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی جہاں ٹیکنالوجی کے شعبے کی کمپنیوں کے مالی نتائج کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہونے سے ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.5 فیصد نیچے آ گیا۔

تاہم اعدادوشمار سے ظاہر ہوا کہ مضبوط ملکی طلب کے باعث اکتوبر میں امریکی مینوفیکچرنگ کی سرگرمیوں میں بہتری آئی۔

دوسری جانب ایپل کے حصص میں بھی گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا اور بعد از کاروباری اوقات میں ان کی قیمت 2.8 فیصد مزید گر گئی۔ آئی فون بنانے والی کمپنی نے پیر کو پیش گوئی کی تھی کہ میموری چپس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اہم تعطیلاتی سہ ماہی میں اس کا مجموعی منافع کا مارجن کم رہے گا۔اس کے علاوہ کمپنی نے اپنی سروسز سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافے کی جو پیش گوئی کی وہ وال اسٹریٹ کے تجزیہ کاروں کی توقعات سے خاصی کم تھی۔

سرمایہ کار امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے چیلنج کا سامنا ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ظاہر کیے جا رہے ہیں، تاہم سینیٹ کے حوالے سے صورتحال اب بھی غیر واضح ہے اور مقابلہ انتہائی سخت ہے۔ پیش گوئی سے متعلق آن لائن پلیٹ فارمز پولی مارکیٹ اور کالشی اس وقت سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے کنٹرول حاصل کرنے کے امکان کو تقریباً 75 فیصد ظاہر کر رہے ہیں۔