✕
مارکٹس

خام تیل سستا ہونے سے عالمی منڈی میں ڈالر دبائو کا شکار

  • توانائی کی قیمتوں میں کمی سے افراط زر کے خدشات کم ہوئے اور طویل مدت کے امریکی ٹریژری بانڈز پر منافع بھی نیچے آگیا۔
شائع اپ ڈیٹ

عالمی مالیاتی منڈیوں میں منگل کو ڈالر کی قدر اور خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کی امیدوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دیا۔ دوسری جانب آسٹریلوی ڈالر کی قدر مستحکم رہی، کیونکہ سرمایہ کار ریزرو بینک آف آسٹریلیا کے شرح سود سے متعلق فیصلے کے منتظر ہیں۔

پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں 7 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جو کئی ماہ کے دوران ایک روزہ سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے رابطے جاری رہنے کے بیان کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔

توانائی کی قیمتوں میں کمی سے افراط زر کے خدشات کم ہوئے اور طویل مدت کے امریکی ٹریژری بانڈز پر منافع بھی نیچے آگیا۔

ڈالر انڈیکس 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 101.76 پر آگیا، جبکہ یورو معمولی اضافے سے 1.1185 ڈالر کا ہوگیا۔ جاپانی ین 157.915 فی ڈالر پر مستحکم رہا۔

او سی بی سی کے زرمبادلہ حکمت عملی کے ماہر سم موہ سیونگ کے مطابق توانائی کی سستی قیمتیں زرمبادلہ کی منڈیوں کی صورتحال تبدیل کررہی ہیں، تاہم مصنوعی ذہانت سے متعلق خدشات اور امریکی انتخابات کے خطرات ڈالر کو سہارا دے رہے ہیں۔

دریں اثنا، ریزرو بینک آف آسٹریلیا سے توقع ہے کہ وہ شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کرکے 4.85 فیصد کردے گا، جو دسمبر 2008 کے بعد بلند ترین سطح ہوگی۔ دوسری جانب برطانوی پاؤنڈ بھی معمولی اضافے سے 1.3414 ڈالر پر پہنچ گیا۔