پاکستان میں طرزِ حکمرانی کی اصلاحات : کیا بیوروکریسی کی سوچ میں تبدیلی ہی اصل ضرورت ہے؟
- طرزِ حکمرانی کے مسائل کا برقرار رہنا اور کئی شعبوں میں ان کی شدت میں بظاہر اضافہ ہونا، بنیادی وجوہات کا تنقیدی جائزہ لینے کا تقاضا کرتا ہے۔ کیا ان ناکامیوں کی بنیادی وجہ اصلاحات کی ناقص منصوبہ بندی اور کمزور عمل درآمد ہے یا ہم ایک گہرے ادارہ جاتی مسئلے کو نظرانداز کر رہے ہیں، یعنی بیوروکریسی کی سوچ، تنظیمی ثقافت اور انتظامی طریقہ کار، جن کے ذریعے اصلاحات تیار، سمجھی اور نافذ کی جاتی ہیں؟
پاکستان میں طرزِ حکمرانی کے مسائل اور اصلاحات پر جاری بحث ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ بار بار اصلاحاتی اقدامات، وقت، سرمایہ، مہارت اور ادارہ جاتی وسائل کی بھاری سرمایہ کاری کے باوجود آنے والی حکومتیں گورننس میں خاطر خواہ بہتری لانے میں کیوں ناکام رہی ہیں؟
طرزِ حکمرانی کے مسائل کا برقرار رہنا اور کئی شعبوں میں ان کی شدت میں بظاہر اضافہ ہونا، بنیادی وجوہات کا تنقیدی جائزہ لینے کا تقاضا کرتا ہے۔ کیا ان ناکامیوں کی بنیادی وجہ اصلاحات کی ناقص منصوبہ بندی اور کمزور عمل درآمد ہے یا ہم ایک گہرے ادارہ جاتی مسئلے کو نظرانداز کر رہے ہیں، یعنی بیوروکریسی کی سوچ، تنظیمی ثقافت اور انتظامی طریقہ کار، جن کے ذریعے اصلاحات تیار، سمجھی اور نافذ کی جاتی ہیں؟
ماضی میں اصلاحات کے متعدد اقدامات ناقص منصوبہ بندی، غیر حقیقت پسندانہ اہداف یا عمل درآمد کے کمزور نظام کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہوں گے۔
حکومتوں کی جانب سے قواعد، طریقہ کار، تنظیمی ڈھانچوں اور انتظامی نظام میں تبدیلیوں پر حد سے زیادہ توجہ دینے کا امکان بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے، جبکہ ان تبدیلیوں کو عملی شکل دینے والے ادارہ جاتی کلچر کو مناسب طور پر نظرانداز کیا گیا۔ ضوابط میں ترمیم یا محکموں کی تنظیمِ نو نسبتاً آسان کام ہے، لیکن راسخ رویوں، طرزِ عمل، مراعات اور اختیارات کے تعلقات میں تبدیلی لانا کہیں زیادہ مشکل ہے۔
ایسی تبدیلیوں کے بغیر بہترین منصوبہ بندی کے تحت کی جانے والی اصلاحات بھی محض رسمی تبدیلیوں تک محدود رہنے اور طرزِ حکمرانی میں حقیقی بہتری نہ لانے کا خطرہ رکھتی ہیں۔
پاکستان کو ورثے میں ایسا انتظامی نظام ملا تھا جس کا بنیادی مقصد امن و امان برقرار رکھنا، کنٹرول قائم رکھنا اور نوآبادیاتی ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔ مرکزی سطح پر فیصلے، سخت درجہ بندی، وسیع صوابدیدی اختیارات اور سرکاری اہلکاروں و شہریوں کے درمیان نمایاں فاصلہ اس نظام کی بنیادی خصوصیات تھیں۔
اگرچہ آزادی کے بعد ریاست کی سیاسی حیثیت تبدیل ہوگئی، تاہم نوآبادیاتی انتظامی کلچر کی متعدد خصوصیات برقرار رہیں۔ بعد کی سیاسی اور ادارہ جاتی پیش رفت نے ان روایات کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے بجائے مزید مستحکم کیا۔
سرکاری اختیار کو بتدریج مرتبے، مراعات اور بااثر حلقوں تک رسائی سے منسلک کردیا گیا، جبکہ انتظامی طریقہ کار اکثر ان عوامی مقاصد سے زیادہ اہمیت اختیار کرگیا جن کے حصول کے لیے یہ وضع کیا گیا تھا۔
معمول کی سرکاری خدمات یا داد رسی کے خواہش مند شہریوں کو اکثر پیچیدہ طریقہ کار، غیر ضروری تاخیر اور ایسے اہلکاروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو جائز مسائل حل کرنے کے بجائے ضابطہ جاتی اعتراضات اٹھانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
پاکستان کی سول سروس کی ایک اور ادارہ جاتی کمزوری عمومی انتظامی ماڈل (جنرلِسٹ ماڈل) کا غلبہ ہے۔ روایتی طور پر یہ تصور کیا جاتا رہا ہے کہ وسیع انتظامی تجربہ افسران کو مختلف شعبوں میں قیادت کے لیے اہل بناتا ہے، جس کے نتیجے میں اکثر عمومی انتظامی پس منظر رکھنے والے افسران کو خصوصی علم رکھنے والے پیشہ ور افراد پر فوقیت حاصل ہوجاتی ہے۔ انتظامی رابطہ کاری اور پالیسی کی وسیع سمجھ بلاشبہ اہم ہیں، لیکن طرزِ حکمرانی کے بڑھتے ہوئے پیچیدہ شعبوں میں یہ تکنیکی مہارت کا متبادل نہیں ہوسکتیں۔
عوامی مالیاتی انتظام، ٹیکس، توانائی، معاشی منصوبہ بندی، انجینئرنگ، ماحولیاتی تبدیلی اور ڈیجیٹل نظام میں منتقلی جیسے شعبوں کے لیے اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ مہارت درکار ہے۔ مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے انتظامی بصیرت، تکنیکی علم اور مختلف شعبوں کے درمیان رابطہ کاری کی صلاحیت کا امتزاج ضروری ہے۔ ایسا نظام جو خصوصی مہارت کو کم اہمیت دے، پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کے معیار کو متاثر کرنے کا خطرہ رکھتا ہے۔
عمومی انتظامی ماڈل کے ساتھ سول سروس کے مختلف گروپس کے درمیان غیر رسمی درجہ بندی بھی موجود ہے۔ 1973ء کی انتظامی اصلاحات کے تحت حکومتی فرائض کی انجام دہی کے لیے مختلف سروسز قائم کی گئیں، تاہم بعض گروپس، بالخصوص پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس آف پاکستان کو روایتی طور پر زیادہ وقار، نمایاں حیثیت اور بااثر پالیسی سازی و اعلیٰ قیادت کے عہدوں تک بہتر رسائی حاصل رہی ہے۔
مسئلہ فیلڈ انتظامیہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہمیت کا نہیں، کیونکہ دونوں ریاستی فرائض نہایت ضروری ہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب متعلقہ مہارت، ثابت شدہ کارکردگی اور پیشہ ورانہ قابلیت کے بجائے سروس گروپ سے وابستگی اعلیٰ عہدوں تک رسائی اور ترقی کا بنیادی معیار بن جائے۔ ایسی درجہ بندیاں ماہرین کی حوصلہ شکنی، پیشہ ورانہ شناخت کو کمزور اور ریاست کو اپنے ہی اداروں میں دستیاب مہارت سے مکمل فائدہ اٹھانے سے محروم کرسکتی ہیں۔
ان ساختی خصوصیات کو ایسا بیوروکریٹک کلچر مزید تقویت دیتا ہے جس میں عوامی نتائج کے مقابلے میں ضابطوں اور طریقہ کار کی پابندی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ قانونی حیثیت، یکسانیت اور احتساب کے لیے قواعد و ضوابط ناگزیر ہیں، لیکن جب انہیں عوامی مفاد کی خدمت کے ذرائع کے بجائے بذاتِ خود مقصد سمجھ لیا جائے تو یہ نقصان دہ بن جاتے ہیں۔ طریقہ کار پر حد سے زیادہ اصرار فیصلوں میں تاخیر، افسران کی ذاتی اقدام کی حوصلہ شکنی، نتائج کی ذمہ داری کو غیر واضح اور سرکاری اداروں کو شہریوں کی ضروریات کے حوالے سے غیر مؤثر بنا سکتا ہے۔
فائلوں کی نقل و حرکت، رسمی تقاضوں کی تکمیل اور ضابطہ جاتی اعتراضات سے بچنا بذاتِ خود مؤثر انتظامیہ کا ثبوت نہیں۔ اداروں کی کارکردگی کو فیصلوں میں انصاف، خدمات کے معیار اور بروقت فراہمی، عوامی وسائل کے مؤثر استعمال اور عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر بھی جانچنا چاہیے۔ مقصد قواعد کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ان کا منصفانہ اور متناسب اطلاق ان کے اصل مقاصد کے حصول کے لیے ہو۔
سیاسی قیادت اور سول سروس کے درمیان تعلق بھی ایک بنیادی چیلنج ہے۔ منتخب حکومتوں کو عوامی پالیسی کا تعین کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ سرکاری افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانونی فیصلوں پر غیر جانب دارانہ اور پیشہ ورانہ انداز میں عمل درآمد کریں۔
مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب سیاسی سرپرستی، من مانے تبادلے، غیر محفوظ تعیناتیوں اور میرٹ سے ہٹ کر ترقیوں کے باعث طے شدہ انتظامی معیارات متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے اقدامات تسلسل کو نقصان پہنچاتے، ادارہ جاتی یادداشت کمزور کرتے اور افسران کو بے لاگ مشورہ دینے یا نامناسب ہدایات کی مخالفت کرنے سے روکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اہلکار ادارہ جاتی ذمہ داریوں اور عوامی مفاد کے بجائے بااثر فیصلہ سازوں کی ترجیحات کو اہمیت دینے لگتے ہیں۔
لہٰذا پیشہ ورانہ بیوروکریسی کو منتخب حکومتوں کے لیے جواب دہ اور ان کی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے تیار ہونا چاہیے، لیکن اسے جماعتی مفادات کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے۔ تقرریوں اور تبادلوں کی شفاف پالیسیاں، تعیناتی کے لیے مناسب مدت کا تحفظ، میرٹ پر ترقیاں اور مؤثر تادیبی نظام اس مقصد کے لیے ضروری ہیں لیكن انتظامی خودمختاری کو احتساب سے بچنے کا ذریعہ بھی نہیں بننا چاہیے۔
سرکاری افسران کو اپنے فیصلوں، طرزِ عمل اور نتائج کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے، جبکہ بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مسلسل نااہلی پر مؤثر کارروائی بھی ہونی چاہیے۔ مقصد ایسی سول سروس کا قیام ہے جو سیاسی طور پر غیر جانب دار، مگر پیشہ ورانہ طور پر جواب دہ ہو، جہاں منتخب قیادت انتظامی معیارات کا احترام کرے اور افسران اپنے قانونی اختیارات عوامی مفاد میں استعمال کریں۔
ان کمزوریوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ مربوط اور پیشہ ورانہ توازن کی حامل سول سروس درکار ہے۔ بھرتیوں، ترقیوں اور اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کا انحصار سروس گروپ سے وابستگی یا بااثر فیصلہ سازوں سے قربت کے بجائے میرٹ، دیانت داری، متعلقہ مہارت اور ثابت شدہ کارکردگی پر ہونا چاہیے۔
عمومی انتظامی پس منظر رکھنے والے افسران اور ماہرین کو ایک دوسرے کی صلاحیتوں کا تکمیلی کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ ذمہ داریاں اور اختیارات ادارہ جاتی ضروریات اور پیشہ ورانہ قابلیت کے مطابق متعین ہونے چاہییں۔ اس کے لیے ان رکاوٹوں کا جائزہ لینا ضروری ہے جو متعلقہ اہلیت اور تجربہ رکھنے والے ماہرین کو قیادت کے عہدوں تک پہنچنے سے روکتی ہیں۔ مقصد کسی ایک مراعات یافتہ گروپ کی جگہ دوسرے گروپ کو فوقیت دینا نہیں، بلکہ بلاجواز درجہ بندی ختم کرکے ریاست کی مجموعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
ادارہ جاتی کلچر کی تبدیلی کا آغاز بھرتیوں، تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی سے ہونا چاہیے۔ تربیتی اکیڈمیاں صرف تکنیکی علم فراہم نہیں کرتیں بلکہ پیشہ ورانہ شناخت، اختیارات کے بارے میں رویوں اور شہریوں سے متعلق تصورات کی تشکیل میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر تربیت سرکاری عہدے کے غیر معمولی مرتبے یا ضابطوں کی پابندی پر محدود توجہ کو فروغ دے تو یہ انہی رویوں کو برقرار رکھ سکتی ہے جنہیں اصلاحات کے ذریعے تبدیل کرنا مقصود ہے۔
لہٰذا پیشہ ورانہ تربیت میں دیانت داری، آزادانہ سوچ، ہمدردی، قانون کی حکمرانی کے احترام اور عوامی خدمت کے عزم کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ مسائل حل کرنے، شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں کے درمیان مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت بھی مضبوط بنانا ضروری ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت اس تبدیلی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے طریقہ کار کو آسان بنانے، معلومات تک رسائی بہتر، غیر ضروری تاخیر کم کرنے اور شفافیت کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم ٹیکنالوجی ادارہ جاتی مزاحمت، کمزور احتساب یا رائج طریقہ کار میں تبدیلی سے گریز کے رویے کا متبادل نہیں بن سکتی۔
کسی غیر ضروری طور پر پیچیدہ طریقہ کار کو ڈیجیٹل شکل دینا محض نااہلی کو الیکٹرانک نظام میں منتقل کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ٹیکنالوجی کے ساتھ طریقہ کار کو آسان بنانا، مناسب حفاظتی اقدامات، پیشہ ورانہ صوابدید اور فیصلوں کی واضح ذمہ داری بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ شہریوں کو مرکزیت دینے والی انتظامیہ قواعد و ضوابط یا قانونی طریقہ کار کو نظرانداز نہیں کرتی بلکہ عوام کی جائز ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا یکساں اور متناسب اطلاق یقینی بناتی ہے۔
بالآخر اصلاحات کے ذریعے ان ترغیبات اور عوامل کو بھی تبدیل کرنا ہوگا جو انتظامی رویوں کا تعین کرتے ہیں۔ کارکردگی کا جائزہ صرف طریقہ کار کی پابندی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں خدمات کا معیار، بروقت فراہمی، کارکردگی، انصاف پسندی اور قابلِ پیمائش نتائج بھی شامل ہونے چاہئیں۔
بھرتیوں اور ترقیوں میں اہلیت اور دیانت داری کو بنیاد بنایا جانا چاہیے، جبکہ روزمرہ کے انتظامی فیصلوں میں سیاسی مداخلت کو شفاف اور قابلِ پیش گوئی قواعد کے ذریعے محدود کیا جانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اداروں کو ناقص کارکردگی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر سرکاری افسران کا احتساب بھی یقینی بنانا چاہیے۔ ان بنیادی ترغیبات میں تبدیلی کے بغیر نئے قواعد، تنظیمی ڈھانچے اور ٹیکنالوجیز دیرپا بہتری لانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
حکومتی اصلاحات کی کامیابی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں کہ حکومتیں کیا اقدامات متعارف کراتی ہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ سرکاری ادارے ان اصلاحات کو کس طرح سمجھتے، اپنی ذمہ داری تسلیم کرتے اور ان پر عمل درآمد کرتے ہیں۔ بیوروکریسی کی سوچ پاکستان کے انتظامی و حکمرانی کے مسائل کی واحد وجہ نہیں، تاہم اصلاحات کے مقاصد اور عملی نتائج کے درمیان یہ ایک اہم اور گمشدہ کڑی ہے۔
جب تک ادارہ جاتی ثقافت، پیشہ ورانہ ترغیبات اور انتظامی رویوں میں باضابطہ تبدیلیوں کے ساتھ ارتقا نہیں آئے گا، اس وقت تک اصلاحات کے یکے بعد دیگرے آنے والے منصوبوں میں انہی ناکامیوں کو دہرانے کا خدشہ رہے گا جن کے خاتمے کے لیے یہ اقدامات کیے جاتے ہیں۔
لہٰذا پاکستان کا اصل چیلنج محض بیوروکریسی کے انتظامی ڈھانچے کو ازسرِنو تشکیل دینا نہیں بلکہ اس کے مقصد اور سوچ میں بنیادی تبدیلی لانا ہے، تاکہ اسے ایک ایسے ادارے میں تبدیل کیا جا سکے جو اختیارات اور طریقہ کار پر کنٹرول کو بنیادی اہمیت دینے کے بجائے پیشہ ورانہ مہارت، عوامی ضروریات کے مطابق فوری ردعمل، جوابدہی اور شہریوں کو مرکزیت دینے والی عوامی خدمت کے اصولوں پر کاربند ہو۔ ایسی تبدیلی کے بغیر حکمرانی کی اصلاحات سرکاری اعلانات اور دعوؤں تک محدود رہیں گی اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی میں ان کے اثرات نمایاں نہیں ہو سکیں گے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026