✕
دنیا

اسٹیلتھ حملہ آور ڈرون نے پہلی بار بحری جہاز سے اڑان بھری اور لینڈنگ کی، چین کا دعویٰ

  • چین کے جی جے 21 اسٹیلتھ ڈرون نے ٹائپ 076 ایمفیبیئس اسالٹ شپ سے کامیابی کے ساتھ اڑان بھری، جس سے اس کی بحری ڈرون صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا
شائع اپ ڈیٹ

چین کا بحری بیڑے سے آپریٹ ہونے والا پہلا اسٹیلتھ جاسوس اور حملہ آور ڈرون جی جے 21 حال ہی میں ملک کے پہلے ٹائپ 076 ایمفیبیئس اسالٹ شپ ’’سچوان‘‘ سے پہلی بار اڑان بھرنے اور لینڈنگ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا نے جمعے کے روز یہ اطلاع دی ہے۔

یہ آزمائشی پرواز چین کی جانب سے اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کی پیش رفت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ کئی دہائیوں پر محیط کوشش ہے جس کے دوران چین نے جدید جنگی بحری جہاز، لڑاکا طیارے، میزائل اور زیادہ صلاحیتوں کے حامل بغیر پائلٹ کے نظام تیار کیے ہیں۔

ژنہوا نے اس تجربے کو ’’چین کے ایمفیبیئس اسالٹ شپ پروگرام میں ایک اہم پیش رفت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بحریہ کی اس صلاحیت کا مظہر ہے کہ وہ بڑے بحری پلیٹ فارمز سے فکسڈ وِنگ اسٹیلتھ ڈرونز آپریٹ کرسکتی ہے۔

جی جے 21 پہلی بار گزشتہ سال بیجنگ میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ فوجی پریڈ میں منظرعام پر آیا تھا، جہاں اس نے مختلف اقسام کے ہتھیاروں کی نمائش کی تھی۔

سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے جمعے کے روز فوجی امور کے ماہر ژانگ شیوفینگ کے حوالے سے بتایا کہ جی جے 21 کا جنگی دائرۂ کار خاصا وسیع ہے، حالانکہ اس کا فضائی ڈھانچا اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں جے 35 اور جے 20 کے مقابلے میں چھوٹا ہے۔

ژانگ کے بقول، ’’جی جے 21 کی لاگت بھی کم ہے اور اسے دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہائپرسونک میزائلوں کے برعکس اسے واپس لاکر کئی بار دوبارہ آپریشن میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ یہ چھوٹے اور کم لاگت والے گلائیڈ گائیڈڈ بم بھی گرا سکتا ہے۔ تیز رفتار اور مسلسل فوجی کارروائیوں کے دوران یہ بہتر لاگت پر قابو رکھتے ہوئے ہتھیار برسانے کی زیادہ مؤثر صلاحیت فراہم کرتا ہے۔‘‘

چین کے ٹائپ 076 ایمفیبیئس اسالٹ شپ کلاس کے پہلے بحری جہاز ’’سچوان‘‘ کو دسمبر 2024 میں پانی میں اتارا گیا تھا۔ اس میں برقی مقناطیسی کیٹپلٹ اور طیاروں کو روکنے کے نظام کی ٹیکنالوجی نصب ہے۔ یہ فکسڈ وِنگ ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور ایمفیبیئس فوجی سازوسامان لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس بحری جہاز کا مکمل بوجھ کے ساتھ وزن 40,000 میٹرک ٹن سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ اس میں پوری لمبائی پر محیط فلائٹ ڈیک اور دو جزیرہ نما بالائی ڈھانچے موجود ہیں۔

چین کے سرکاری ٹی وی چینل سی سی ٹی وی نے جمعے کے روز بتایا کہ مقامی طور پر تیار کردہ اس بحری جہاز نے اکتوبر کے اواخر میں مسلسل سمندری آزمائشیں کیں۔ تاہم، ان آزمائشوں کے مقامات ظاہر نہیں کیے گئے۔

چینی بحریہ نے اپریل میں بتایا تھا کہ سچوان سائنسی تجربات اور تربیتی مشقوں کے لیے بحیرہ جنوبی چین کے پانیوں میں گیا تھا۔ اس وقت بحریہ نے کہا تھا کہ یہ معمول کی آزمائشی تعیناتی تھی اور اس کا مقصد کسی مخصوص ہدف کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔