✕
کاروبار اور معیشت

شرح سود میں اضافے پر کاروباری رہنماؤں کی شدید تنقید

  • پالیسی ریٹ بڑھا کر 12 فیصد کرنے سے قرضوں کی لاگت میں مزید اضافہ ہوگا، طلعت محمود
شائع اپ ڈیٹ

کراچی چیمبر کے صدر طلعت محمود نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.5 فیصد سے 12 فیصد کرنے کے فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے کاروبار کرنے کی لاگت میں مزید اضافہ ہوگا، نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلعت محمود نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کے موجودہ دباؤ کی بنیادی وجوہات ضرورت سے زیادہ ملکی طلب کے بجائے توانائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، سپلائی چین میں تعطل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں شرح سود بڑھانے سے مہنگائی کی بنیادی وجوہات کا براہ راست تدارک کیے بغیر کاروباری طبقے پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری اس فیصلے پر شدید تشویش میں مبتلا ہے، کیونکہ پاکستان کے صنعتی اور تجارتی شعبے پہلے ہی بجلی اور گیس کے بھاری نرخوں، خام مال کی مہنگی قیمتوں، زیادہ ٹیکسوں، نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات اور سستے قرضوں تک محدود رسائی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ بڑھا کر 12 فیصد کرنے سے قرضوں کی لاگت میں مزید اضافہ ہوگا جس کے باعث کاروباری اداروں کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا، پیداوار میں توسیع اور نئی سرمایہ کاری کرنا مزید مشکل ہوجائے گا۔

طلعت محمود نے زور دیا کہ شرح سود میں اضافے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم نہیں ہوسکتیں، نہ ہی توانائی کے نرخوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور نہ سپلائی چین میں تعطل جیسے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

اس کے برعکس مالیاتی لاگت بڑھنے سے پیداواری اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں مقامی طور پر تیار ہونے والی اشیا کی قیمتیں بڑھنے اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت مزید کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کو پیداواری صلاحیت بڑھانے، سرمایہ کاری راغب کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات پر مبنی معاشی نمو تیز کرنے کی ضرورت ہے، پالیسی ریٹ میں اضافہ سرمایہ کاری اور کاروبار کو وسعت دینے کی منصوبہ بندی کرنے والے اداروں کو منفی پیغام دیتا ہے۔