بھارت میں سمندری طوفان ارنب کے پیش نظر ایک لاکھ 80 ہزار افراد کا انخلا
- محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان تقریباً ایک ہی مقام پر رکا ہوا ہے۔ اس کا بیرونی حصہ خشکی پر پہنچ چکا ہے، تاہم مرکز اب بھی خلیج بنگال میں موجود ہے۔
بھارت کے مشرقی ساحل کے قریب طاقتور سمندری طوفان ارنب کی پیش قدمی رک گئی ہے، جبکہ حکام کے مطابق طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کا عمل مزید دو گھنٹے جاری رہنے کا امکان ہے۔ طوفان کے خطرے کے پیش نظر ریاستوں آندھرا پردیش اور اڑیسہ سے ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق دونوں ریاستوں میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور درخت اکھڑ گئے ہیں۔ بعض اسکول بند کردیے گئے ہیں، جبکہ ٹرینوں اور پروازوں کی کچھ سروسز بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔
بھارتی محکمہ موسمیات نے ارنب کو انتہائی شدید سمندری طوفان قرار دیا ہے، جو اس کے درجہ بندی کے نظام میں تیسرا بلند ترین درجہ ہے۔ طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کا عمل توقع سے پہلے شروع ہوگیا تھا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان تقریباً ایک ہی مقام پر رکا ہوا ہے۔ اس کا بیرونی حصہ خشکی پر پہنچ چکا ہے، تاہم مرکز اب بھی خلیج بنگال میں موجود ہے۔
محکمے نے 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہواؤں اور 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جھکڑ چلنے کی پیش گوئی کی ہے۔ آندھرا پردیش کے نشیبی علاقوں میں معمول کی مدوجزر سے 1 سے 1.5 میٹر بلند سمندری لہروں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
بھارتی وزارت شہری ہوا بازی کے مطابق آندھرا پردیش کے تین ہوائی اڈوں پر آپریشنز معطل کردیے گئے ہیں۔
ادھر نیپال میں حکام نے سیاحوں کو خبردار کیا ہے کہ طوفان کے باعث جمعرات کی رات سے ہفتے تک ہمالیائی خطے میں شدید بارش، برفانی طوفان اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ ہے۔
خلیج بنگال میں بننے والے اس طوفان نے خطے میں خطرات بڑھا دیے ہیں۔ اکتوبر 1999 میں اڑیسہ سے ٹکرانے والے سپر سائیکلون کے نتیجے میں تقریباً 10 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔