اینگرو پاورجن کا نیپرا، سی پی پی اے-جی سے بلوں کی ادائیگی معاہدے کے مطابق کرنے کا مطالبہ
- معاہدے کے تحت نئے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے تک پہلے سے نوٹیفائی شدہ ایڈجسٹمنٹ لاگو رہتی ہے،ای پی کیو ایل
اینگرو پاورجن قادرپور لمیٹڈ (ای پی کیو ایل) نے بجلی کی فراہمی کے معاہدے کے تحت جمع کرائے گئے بلوں کو مسترد کرنے یا واپس کرنے کے معاملے پر سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی-گارنٹی (سی پی پی اے-جی) اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے رجوع کرلیا ہے۔
28 ستمبر 2026 کو سی پی پی اے-جی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، نیپرا کے چیئرمین اور رجسٹرار کو لکھے گئے خط میں کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ٹیرف انڈیکسیشن کے متعلق ایس آر او یا سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کو بلوں کی وصولی اور ادائیگی روکنے کی بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے۔
کمپنی کے مطابق سی پی پی اے-جی متعلقہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی پیداواری صلاحیت کی قیمت (سی پی پی) اور توانائی کی قیمت (ای پی پی) کے بلوں پر کارروائی سے انکار یا انہیں واپس کررہا ہے، حالانکہ ماضی میں نیپرا کی ویب سائٹ پر شائع کردہ ٹیرف فیصلوں کی بنیاد پر بلوں پر کارروائی کی جاتی رہی ہے۔
ای پی کیو ایل نے کہا کہ معاملہ قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرنے کا نہیں، بلکہ نیپرا کی جانب سے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ طے کیے جانے اور حکومتی نوٹیفکیشن جاری ہونے کے درمیان تاخیر کا ہے۔ کمپنی کے مطابق بجلی خریداری کے معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کی عدم اشاعت کی بنیاد پر بل مسترد کرنے کی اجازت دیتی ہو۔
کمپنی نے معاہدے کی متعلقہ شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوں کی تصدیق کے لیے اضافی معلومات یا وضاحت درکار ہونے کی صورت میں سی پی پی اے-جی مقررہ طریقہ کار اختیار کرسکتا ہے، جبکہ رقم پر اختلاف کی صورت میں بل مسترد کرنے کے بجائے تنازع حل کرنے کا نظام موجود ہے۔
ای پی کیو ایل نے مزید کہا کہ معاہدے کے تحت نئے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے تک پہلے سے نوٹیفائی شدہ ایڈجسٹمنٹ لاگو رہتی ہے، جس کے بعد ادائیگیوں میں ضروری ردوبدل کیا جاسکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق نوٹیفکیشن میں تاخیر سے اس کے نقد بہاؤ، مالیاتی ذمہ داریوں اور ادائیگیوں کی صلاحیت متاثر ہورہی ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر اطہر ابرار خواجہ کے دستخط سے جاری خط میں سی پی پی اے-جی سے مطالبہ کیا گیا کہ بلوں کو معاہدے کے مطابق نمٹایا جائے اور ضرورت پڑنے پر اضافی وضاحت یا معلومات طلب کرکے معاملہ حل کیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026