پسِ پردہ قیادت، زیادہ مؤثر رہنمائی کا نیا انداز
- ’’اگر آپ ان کی قیادت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ان کے پیچھے کھڑا ہونا ہوگا۔‘‘ — لاؤ زو
جب آپ کسی رہنما کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کس کا تصور ابھرتا ہے؟ میں اپنے تربیتی پروگراموں میں شریک افراد سے اکثر یہ سوال کرتا ہوں۔ عموماً ان کے ذہن میں ایسے شخص کی تصویر ابھرتی ہے جو سب سے آگے رہ کر قیادت کر رہا ہو۔
یہ تصور سمجھ میں آتا ہے، خصوصاً جب ہم فلموں میں جنگ کے مناظر دیکھتے ہیں، جہاں ایک کمانڈر فوجیوں کی قیادت کرتے ہوئے سب سے آگے بڑھ رہا ہوتا ہے۔ آگے چلنے والا راستہ دکھاتا ہے اور پیچھے چلنے والے اس کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں۔ قیادت کا یہی تصور غالب ہے۔ لفظ ’پیروکار‘ بھی اسی تصور سے جڑا ہوا ہے۔ اگر قائد سب سے آگے چل کر رہنمائی کرے گا، تبھی دوسرے اس کے پیچھے اسی راستے پر چلیں گے۔ گویا یہ بات طے شدہ سمجھی جاتی ہے کہ قیادت کرنے کا مطلب سب سے آگے اور نمایاں نظر آنا ہے۔ بلاشبہ، ہر طرح کی رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھ کر اپنے پیروکاروں کے لیے راستہ بنانے والے شخص کا تصور تخیل کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔
چنانچہ کسی ایسے شخص کو قائد تسلیم کیے جانے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں جو سب سے آگے نہ ہو۔ جو شخص نمایاں نہ ہو، سب سے آخر میں بولے اور ضروری نہیں کہ سربراہی کی کرسی پر بیٹھا ہو، اسے عموماً قائد نہیں سمجھا جاتا۔ دوسری جانب، دنیا اس وقت قیادت کے شدید بحران سے دوچار ہے۔ ماضی میں جو طریقے کارگر تھے، وہ آج اپنی افادیت کھوتے جا رہے ہیں۔
نئی افرادی قوت میں کام سے لاتعلقی اور بددلی بڑھتی جا رہی ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) تبدیلی کا ایک اہم محرک بن چکی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ اگلے چند ماہ میں بہت سے کام اے آئی ایجنٹس کے سپرد ہو جائیں گے۔ روایتی تنظیمی ڈھانچوں کو زیادہ ہموار بنانا ہوگا اور ہر عہدے کے کردار پر ازسرِنو غور کرکے اسے نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا۔ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ابلاغ کے طریقوں اور ترجیحات کو بھی نئی سمت دینا ہوگی۔
اتنی بڑی تبدیلیوں کے تناظر میں قیادت کے کردار پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ بدلتی ہوئی اور دھندلی ہوتی حدود کی اس دنیا میں اسے زیادہ بامعنی اور مؤثر بننے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ جب ’’ذہانت‘‘ ایک عام دستیاب شے بنتی جا رہی ہے تو کیا واقعی ہمیں ایسے سربراہ کی ضرورت ہے جو ہر کام میں سب سے آگے ہو؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈیٹا، معلومات اور علم اب محض ایک کلک کی دوری پر ہیں۔ نوجوان نسل کمپنیوں میں اب بھی رائج درجہ بندی کے نظام کو ناپسند کرتی ہے۔ وہ محض اس لیے کسی کو برتر تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے کہ تنظیمی ڈھانچے میں اس کا عہدہ ان سے بلند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے حالات میں پسِ پردہ رہ کر قیادت کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
پہلی تبدیلی: ہیرو سے انسان بننے کی طرف
خود کو ناقابلِ شکست سپر ہیرو سمجھنے کا تصور حقیقت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کرداروں پر بننے والی فلموں کے سلسلے اتنے مقبول کیوں ہوتے؟ ہم سب اس غیر معمولی شخصیت کو سراہتے ہیں جو چادر اوڑھ کر دنیا کو بچانے کے لیے ہر طرف اڑتا پھرتا ہے۔ لیکن ایسے غیر حقیقی تصورات کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا انسانی حقیقت سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔ وہ اپنائیت کا وہ احساس پیدا نہیں کر پاتے جو لوگوں کو ان سے وابستہ رکھتا ہے۔ آج ضرورت ایسے ہیرو کی نہیں جسے بلند مقام پر بٹھا کر اس کے پیروکار اس کی پوجا کریں، بلکہ ایسے شخص کی ہے جو مسلسل ان کے ساتھ جڑا رہے اور انہی کے درمیان موجود ہو۔ افرادی قوت میں شامل نئی نسل کے نزدیک وہ قائدین جو دور رہتے ہیں اور صرف رسمی تقریبات میں نظر آتے ہیں، حد سے زیادہ درجہ بندی پر یقین رکھنے والے ہوتے ہیں۔ نوجوان ایسے حقیقی کردار چاہتے ہیں جن سے وہ خود کو وابستہ کر سکیں۔
دوسری تبدیلی: طریقۂ کار سے مقصد کی طرف
ایسے قائد کی ایک اور خصوصیت، جو توجہ اپنی ذات سے ہٹا کر دوسروں پر مرکوز کرتا ہے، یہ ہے کہ وہ محض طریقۂ کار کی نگرانی کرنے والا نہیں ہوتا۔ تربیتی نشستوں میں کثیرالقومی کمپنیوں کے ملازمین کی ایک شکایت یہ سامنے آتی ہے کہ ان پر عمل کرنے کے لیے بہت زیادہ طریقۂ کار اور ضابطے مسلط ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ دستاویزات اور رپورٹس کی بھرمار ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیتی ہے۔ کئی مرتبہ وہ علاقائی سطح پر کام کرنے والی ٹیموں کا حصہ ہوتے ہیں اور انہیں صرف وہی کچھ کرنے کا پابند بنایا جاتا ہے جو پورا خطہ کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان عالمی کمپنیوں میں ملازمت اختیار کرنے کے بعد خود کو پابندِ سلاسل محسوس کرتے ہیں، وہاں سے نکل جاتے ہیں اور پھر اسٹارٹ اپس وغیرہ میں کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب آپ پسِ پردہ رہ کر قیادت کرتے ہیں تو آپ کے پاس یہ بصیرت ہوتی ہے کہ کون کس سمت جا رہا ہے۔ قائد محسوس کر سکتا ہے کہ کب کوئی شخص اپنی توجہ کھو رہا ہے، کب کسی کے قدم لڑکھڑا رہے ہیں اور کب کوئی آگے بڑھنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب قائد کو آگے بڑھ کر لوگوں کی مدد کرنی چاہیے، انہیں وسیع تر تصویر دکھانی چاہیے، طریقۂ کار کی یکسانیت سے پیدا ہونے والی اکتاہٹ سے نکالنا چاہیے اور انہیں اس حقیقی مقصد سے جوڑنا چاہیے کہ وہ کسی بڑے مقصد کا حصہ کیوں ہیں۔
تیسری تبدیلی: کنٹرول سے اعتماد کی طرف
جب قائد سب سے آگے ہوتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ سب کو اسی کے طریقے پر چلنا چاہیے۔ لیکن جب وہ پسِ پردہ رہ کر قیادت کرتا ہے تو یہ اعتماد ظاہر ہوتا ہے کہ دوسرے افراد بھی درست سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں کام کرنے کی آزادی دی جائے۔ راستے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن منزل ایک ہی ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ قائد تسلیم کرے کہ وہ ہر بات کا علم نہیں رکھتا اور لوگوں کو نئے راستے تلاش کرنے کی آزادی دے۔ قائد خود کو ہر کام کا محور نہیں سمجھتا بلکہ لوگوں کی انفرادی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ روایتی درجہ بندی پر اصرار کرنے کے بجائے وہ ایسی شراکت داریوں کو فروغ دیتا ہے جن سے سب کی مشترکہ صلاحیتیں بروئے کار آ سکیں۔
چوتھی تبدیلی: حکم دینے سے سوال کرنے اور سمجھنے کی طرف
سب سے آگے رہ کر قیادت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قائد راستہ متعین کرتا ہے اور اپنے پیروکاروں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اپنے تصورات اور اقدار کو اس کے تصورات اور اقدار سے ہم آہنگ کریں۔ اس کے برعکس، پسِ پردہ رہ کر قیادت کرنے والا دوسروں کو محض پیروکار بننے کا پابند بنانے کے بجائے پہلے خود ان کی بات سنتا، سوال کرتا اور ان سے رابطہ قائم کرتا ہے۔ وہ اپنا وژن ان کے سامنے رکھتا ہے اور پھر ان کی مدد سے ایسا مشترکہ تصور تشکیل دیتا ہے جسے سب اپنا سمجھیں۔ اس سے محض ترغیب سے کہیں بڑھ کر باہمی فہم پیدا ہوتا ہے اور قائد کی ذات سے آگے بڑھ کر لوگوں میں ذمہ داری اور وابستگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
پانچویں تبدیلی: انعام دینے سے حوصلہ افزائی اور پذیرائی کی طرف
سب سے آگے رہ کر قیادت کا طریقہ اس وقت مؤثر ثابت ہوتا ہے جب انعامات اور کارکردگی کے اعتراف کا نظام مضبوط ہو۔ لیکن پسِ پردہ رہ کر قیادت کرنے کا مطلب صرف انعام دینا نہیں بلکہ ان لوگوں کی خدمات کو بھی سراہنا ہے جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس میں صرف ’’اچھا کام کرنے‘‘ کے بجائے رضاکارانہ طور پر دوسروں کی مدد کرنے کو سراہا جاتا ہے۔ جب سینئر ارکان اپنی ٹیم کے جونیئر ارکان کو آگے لاتے اور ان کی صلاحیتوں کو نمایاں کرتے ہیں تو اس عمل کی قدر کی جاتی ہے۔ یہاں توجہ صرف کسی خاص موقع پر حاصل ہونے والی کامیابیوں پر نہیں بلکہ روزمرہ کے خیرسگالی کے اظہار، مثبت توانائی اور باہمی تعاون پر ہوتی ہے، جو پوری ٹیم میں نیا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔
وضاحت
ہمارا یہ مطلب نہیں کہ پسِ پردہ رہ کر قیادت کرنا، سب سے آگے رہ کر قیادت کرنے سے بہتر ہے۔ ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ قیادت کوئی یک رخی طرزِ عمل نہیں۔ جب بحران پیدا ہو، ٹیم کے پاس مطلوبہ مہارت نہ ہو اور قائد کو خود آگے بڑھ کر کام سنبھالنا پڑے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اسی طرح پسِ پردہ رہ کر قیادت کرنے کا مطلب خود پیچھے ہٹ جانا نہیں، بلکہ دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع دینا، انہیں قیادت کرنے کی ترغیب دینا اور اس طرح بااختیار بنانا ہے کہ ان میں ذمہ داری، وابستگی اور اپنائیت کا گہرا احساس پیدا ہو۔
لاؤ زو کے بقول، ’’اگر آپ ان کی قیادت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ان کے پیچھے کھڑا ہونا ہوگا۔‘‘