✕
دنیا

ایتھوپیا کے شورش زدہ علاقے میں حملے، 60 افراد ہلاک

  • ایتھوپین آرتھوڈوکس چرچ کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد مسیحی تھے
شائع اپ ڈیٹ

ایتھوپیا کے شورش زدہ علاقے اورومیا میں گزشتہ ہفتے دو الگ الگ حملوں میں کم از کم 60 افراد ہلاک ہوگئے۔ ایتھوپین آرتھوڈوکس چرچ کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد مسیحی تھے۔

چرچ حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ افراد کی موت کیسے ہوئی یا حملوں کے پیچھے کون ملوث تھا۔ دوسری جانب اورومیا کی علاقائی حکومت اور شمالی علاقے ٹیگرے میں حکومتی فورسز کے خلاف لڑنے والے باغی اتحاد سے منسلک ایک ذریعے نے حملوں کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرایا ہے۔

ایتھوپین آرتھوڈوکس تیواہیڈو چرچ کے مقدس مجلسِ اساقفہ کے مطابق 20 اکتوبر کو میرٹی وریڈا میں 14 جبکہ 24 اکتوبر کو شیرکا وریڈا میں 46 مسیحی ہلاک ہوئے۔

پیر کو جاری کیے گئے چرچ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ 20 سے زائد مکانات بھی جلا دیے گئے، جبکہ شدید زخمی ہونے والے 20 سے زیادہ افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

علاقائی حکومت نے الزام لگایا کہ باغی اتحاد نے مذہبی تنازع بھڑکانے کے لیے حملے کیے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ اس کے برعکس باغی اتحاد سے منسلک ذریعے نے دو مقامی رہائشیوں سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ہلاکتوں کا ذمہ دار علاقائی حکومت کو قرار دیا۔

علاقائی حکومت ماضی میں آرتھوڈوکس مسیحیوں پر حملوں کا الزام اورومو لبریشن آرمی (او ایل اے) پر بھی عائد کرتی رہی ہے۔ او ایل اے ان سات مسلح گروہوں میں شامل ہے جنہوں نے گزشتہ ماہ وزیرِاعظم ابی احمد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے مقصد سے اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔