سونیری بینک لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پیر کو کراچی میں منعقدہ اپنے 218ویں اجلاس میں 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والی سہ ماہی اور نو ماہ کی مدت کے مالیاتی گوشواروں کی منظوری دے دی۔
تمام شعبوں میں بینک کی مستحکم کارکردگی اس کی مضبوط عملی صلاحیت اور نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کی استعداد کی عکاس ہے۔ یہ کارکردگی عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے، مسلسل جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور ملک میں توانائی کے نرخوں میں ردوبدل کے باعث پیدا ہونے والے مشکل معاشی حالات کے باوجود حاصل کی گئی۔
اس دوران عمومی مہنگائی کی شرح بلند رہی جو ایک موقع پر 11.7 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم ستمبر 2026 تک کم ہو کر 10.3 فیصد رہ گئی۔ سخت مالیاتی پالیسی کے ماحول میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی، اس کے باوجود بینک منافع اور اثاثوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔
30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والی مدت کے دوران بینک نے قبل از ٹیکس منافع کی مد میں 6.027 ارب روپے اور بعد از ٹیکس منافع کی مد میں 2.941 ارب روپے کمائے جبکہ گزشتہ مدت میں یہ منافع بالترتیب 9.604 ارب روپے اور 3.304 ارب روپے رہا تھا۔ فی حصص آمدن گزشتہ مدت کے 2.9968 روپے کے مقابلے میں 2.6680 روپے ریکارڈ کی گئی۔ منافع کی مجموعی سطح میں استحکام اس بات کا مظہر ہے کہ بینک معاشی دباؤ اور جغرافیائی و سیاسی چیلنجز کے باوجود اپنے حصص یافتگان کو مستقل منافع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شرحِ سود کے مشکل ماحول کے باوجود بینک نے مجموعی آمدن کی مضبوط بنیاد برقرار رکھی۔ مارجن میں کمی کے باعث خالص سودی آمدن گزشتہ مدت کے مقابلے میں 16.46 فیصد، یعنی 3.454 ارب روپے کم ہوئی، تاہم غیر سودی آمدن میں غیر معمولی 16.54 فیصد اضافے نے اس کمی کے اثرات کو مؤثر طور پر زائل کر دیا۔ غیر سودی آمدن گزشتہ سال کے 6.518 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 7.596 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ غیر فنڈ شدہ آمدنی کے ذرائع میں اس مضبوط کارکردگی کی بنیادی وجہ زرمبادلہ سے حاصل ہونے والی آمدن میں 0.813 ارب روپے اور فیس و کمیشن کی آمدن میں 0.143 ارب روپے کا اضافہ تھا، جو بینک کی آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کامیاب حکمتِ عملی کا عکاس ہے۔
مدت کے اختتام پر بینک کا سرمایہ کاری پورٹ فولیو بڑھ کر 517.819 ارب روپے ہو گیا، جو گزشتہ سال کے 479.247 ارب روپے کے مقابلے میں 8.05 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ زیرِ جائزہ مدت کے دوران سرمایہ کاری کا اوسط حجم بھی بڑھ کر 505.890 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ مدت میں یہ 474.464 ارب روپے تھا۔ تاہم، سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن گزشتہ مدت کے 46.189 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 42.893 ارب روپے رہ گئی۔ اس کمی کی بنیادی وجہ سرمایہ کاری پر خالص منافع کی شرح میں کمی تھی، جو زیرِ جائزہ مدت میں اوسطاً 11.34 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 13.02 فیصد تھی۔