گزشتہ سال حکومت نے قومی ٹیرف پالیسی (این ٹی پی 2025-30) کی منظوری دی تھی جب کہ رواں مالی سال اس کے دائرہ کار میں آٹو سیکٹر کو بھی شامل کرلیا گیا۔ حال ہی میں صنعتی حلقوں جن پر اس پالیسی کے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے اور آزاد خیال ماہرینِ معاشیات کے درمیان ایک گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔
آزاد خیال ماہرینِ معاشیات کا مؤقف ہے کہ ٹیرف کے نظام کو معقول بنانے سے برآمدات کے خلاف موجود رجحان کم ہوگا اور مقامی صنعتوں کو مسابقتی برتری حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں پہلے سے قائم بعض کاروبار ختم ہوسکتے ہیں۔
دونوں فریقوں کے مؤقف میں وزن ہے اور اس معاملے میں درمیانی راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ بلند ٹیرف کے ذریعے تحفظ حاصل ہونے کے باوجود بیشتر محفوظ صنعتیں اب تک اس درجے کی مسابقتی صلاحیت پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں جو انہیں درآمدات کے لیے کھلی منڈی میں کام کرنے کے قابل بناسکے۔ ان صنعتوں میں تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)، جدت طرازی اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے نتیجے میں لاگت میں کمی جیسی صلاحیتوں کا فقدان ہے، اگرچہ عموماً پالیسیاں مخصوص مدت تک تحفظ فراہم کرنے کیلئے وضع کی جاتی ہیں اور اس مقصد کے لیے ان میں اختتامی شق (سن سیٹ کلاز) شامل ہوتی ہے، تاہم ان شقوں پر شاذ و نادر ہی عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
اس کے بجائے صنعتی حلقے عموماً اپنے تحفظ کی مدت میں توسیع کے لیے لابنگ کرتے ہیں، جس سے جمود برقرار رہتا ہے۔ چنانچہ ممکن ہے کہ انہیں زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کسی سخت دباؤ یا بڑے جھٹکے کی ضرورت ہو۔
تاہم مینوفیکچرنگ کے مختلف شعبوں کو درپیش حقیقی مسائل بھی ہیں جن کا حل صرف قومی ٹیرف پالیسی (این ٹی پی) پر عملدرآمد سے ممکن نہیں، بلکہ ایسا کرنا الٹا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ صنعتکاروں کو وفاقی اور صوبائی سطح پر مختلف اداروں کی جانب سے عائد کردہ متعدد ٹیکسز اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی پابندی کرنا پڑتی ہے۔ اس کے برعکس درآمد کنندگان کو صرف ایک یا دو سطح کے ضابطہ جاتی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
مساوی مسابقتی ماحول کی عدم موجودگی مقامی صنعت کاروں کو فطری طور پر نقصان دہ پوزیشن میں ڈال دیتی ہے۔
مزید برآں پاکستان میں متعدد صنعتوں کے لیے درکار بنیادی خام مال دستیاب نہیں ہے۔ ملک میں پیٹروکیمیکل کمپلیکس نہ ہونے کے باعث پروپیلین، اسٹیل، ایلومینیم، صنعتی کیمیکلز اور ریفائن شدہ دھاتوں جیسے اہم صنعتی خام اجزا مقامی طور پر تیار نہیں کیے جاتے۔ نتیجتاً، ان خام اجزا پر انحصار کرنے والی ذیلی صنعتیں مکمل طور پر درآمدات کی محتاج ہیں۔
قابلِ اعتماد اور سستی توانائی کی عدم دستیابی بھی پاکستان کے لیے ان ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات کا مقابلہ مشکل بنا دیتی ہے، جہاں اس نوعیت کی بنیادی لاگتی اور پیداواری رکاوٹیں موجود نہیں ہیں۔
تاریخی طور پر پاکستان توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا رہا ہے جبکہ غیر متوازن معاہدوں کے باعث بجلی کی پیداوار مہنگی ہو چکی ہے۔ مزید برآں، ترسیل اور تقسیم کے دوران ہونے والے نقصانات کا بوجھ بھی بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ توانائی کی یہ بلند لاگت اور ذیلی صنعتوں کے ساتھ روابط کا فقدان صنعتی شعبے کو واضح طور پر مسابقتی نقصان سے دوچار کرتے ہیں۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر پیداوار کے ذریعے لاگت میں کمی لا کر ان نقصانات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے مضبوط طلب ضروری ہے۔ فی الحال جی ایس ٹی اور فیڈ جیسے بھاری بالواسطہ ٹیکسوں کے باعث خوردہ قیمتیں بلند ہیں جس سے طلب متاثر ہو رہی ہے۔ نتیجتاً، مناسب پیمانے پر پیداوار کے فقدان اور زیادہ لاگت کا سامنا کرنے والی کوئی بھی صنعت پائیدار ترقی نہیں کر سکتی۔
تاہم، برآمدی منڈیوں میں داخل ہو کر بڑے پیمانے پر پیداوار کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ توانائی کا بحران بتدریج ماضی کا قصہ بنتا جارہا ہے کیونکہ قابلِ تجدید توانائی، بالخصوص شمسی توانائی کے بڑے پیمانے پر استعمال سے متعدد صنعتی صارفین کے لیے توانائی کی لاگت کم ہوئی ہے۔
توانائی کے مجموعی ذرائع میں مقامی وسائل کا حصہ بھی بڑھ رہا ہے جبکہ 2015 کی آئی پی پی پالیسی سے متعلق قرضوں کی ادائیگیوں میں 2027 سے کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ نجکاری کے ذریعے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نقصانات پر قابو پانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
اس کے باوجود ٹیکس اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں اور ٹیکسوں کی واپسی کا عمل آسان نہیں۔ یہ اخراجات اگرچہ مقامی منڈی میں صارفین کو منتقل کردیے جاتے ہیں لیکن برآمدات کو عالمی منڈی میں غیر مسابقتی بنادیتے ہیں۔ مزید برآں مجموعی سکیورٹی صورتِ حال اور پاکستان کے بارے میں منفی تاثر بھی خریداروں کو دور رکھتے ہیں کیونکہ وہ نسبتاً محفوظ ممالک کے ساتھ کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ، خطے کے دیگر ممالک کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنی مقامی صنعتوں کو زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے باوجود برآمدات کرسکتے ہیں۔ عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کا سادہ اوسط ٹیرف بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے جبکہ یہ مشرقی ایشیائی ممالک کے ٹیرف کی سطح کے تقریباً مساوی ہے۔
اگرچہ ماہرینِ معاشیات کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں اضافی کسٹمز ڈیوٹی (اے سی ڈی) اور ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) کی صورت میں بھی صنعتوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، تاہم یہ ڈیوٹیاں دیگر ممالک میں بھی رائج ہیں جن میں سے بعض غیر ٹیرف رکاوٹیں بھی استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان میں تحفظ پسندی کی سطح لازماً زیادہ ہے۔ بنیادی مسئلہ دیگر مسابقتی عوامل کا فقدان ہے۔ ان عوامل کی عدم موجودگی میں کم ٹیرف بھی برآمدات کے خلاف موجود رجحان کو ختم کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہو سکتے۔
اس کے باوجود، ضرورت سے زیادہ تحفظ پسندی ایک نشے کی مانند ہے۔ اس سے کمپنیوں کو زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے اور وہ معاشی مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر مؤثر انداز میں کام کرنے پر بھی مطمئن رہتی ہیں۔ چنانچہ ٹیرف کے ذریعے فراہم کردہ تحفظ میں کمی صحت مند اقدام ہے کیونکہ اس سے مقامی صنعتوں کو لاگت گھٹانے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ جو صنعتیں بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ناکام رہیں ان کی جگہ زیادہ مسابقتی صنعتوں کو لینی چاہیے۔
تاہم بہت تیزی سے معیشت کو درآمدات کے لیے کھول دینا موجودہ صنعتوں کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے جبکہ دیگر مسابقتی عوامل کی عدم موجودگی میں ان کی جگہ بہتر متبادل صنعتوں کا قیام بھی ممکن نہیں ہو پائے گا۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ مجموعی معاشی ڈھانچے میں کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کے ساتھ ساتھ صنعتی تحفظ میں بتدریج کمی کرے۔