✕
دنیا

متحدہ عرب امارات: راس الخیمہ کے تمام ساحل بند، پڑوسی ممالک تیل کے اخراج سے نمٹنے میں مصروف

  • متحدہ عرب امارات کے حکام نے تاحال اس واقعے میں ملوث آئل ٹینکر کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی تیل کے اخراج کی وجہ بتائی ہے
شائع اپ ڈیٹ

متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ کے حکام نے سمندر میں تیل کے اخراج کے باعث ہفتے کے روز تمام ساحل غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے ایک روز قبل پڑوسی ریاستوں ام القوین اور شارجہ میں بھی ساحل بند کردیے گئے تھے۔

راس الخیمہ پولیس کے جنرل ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، محکمۂ خدماتِ عامہ نے ساحل بند کرنے کا اعلان کیا، تاہم اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔

متحدہ عرب امارات نے جمعے کے روز بتایا تھا کہ سمندر میں ایک آئل ٹینکر سے رسنے والے تیل کو پھیلنے سے روکنے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات اس کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔

وزارت کے مطابق ام القوین شہر کے تمام ساحل اور ساحلی علاقے عارضی طور پر بند کردیے گئے ہیں۔ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تکنیکی ٹیمیں جائزہ مکمل کرکے ضروری حفاظتی اقدامات اور سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے لائحہ عمل طے نہیں کرلیتیں۔

وزارت نے ماہی گیروں اور سمندر استعمال کرنے والے دیگر افراد پر بھی زور دیا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں سے دور رہیں اور حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔

شارجہ کے حکام نے بھی احتیاطی اقدام کے طور پر الحمریہ ساحل عارضی طور پر بند کردیا ہے۔ یہ ساحل متحدہ عرب امارات کے شمالی ساحل پر ام القوین کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ شارجہ کے سرکاری میڈیا بیورو نے اس فیصلے کی تصدیق کی۔

شارجہ، عجمان اور ام القوین کے بعض علاقوں کے رہائشیوں نے غیر معمولی بو محسوس ہونے کی شکایات کیں، تاہم متحدہ عرب امارات کی وزارتِ ماحولیات نے کہا ہے کہ اس سے شہریوں کی صحت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ جمعے کے روز بھی ام القوین میں تیل کی بو شدید محسوس کی جاتی رہی۔

متحدہ عرب امارات کے حکام نے تاحال اس واقعے میں ملوث آئل ٹینکر کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی تیل کے اخراج کی وجہ بتائی ہے۔

ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد خلیج کی جہازرانی گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے واقعات نے سمندری سلامتی اور تنازع کے ماحولیاتی اثرات سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔