✕
رائے

عمان: افق پر ابھرتا ہوا ملک

  • ”ایسے خطے میں جہاں تنازعات، جہازرانی میں خلل اور جغرافیائی و سیاسی رقابتوں کے خطرات موجود ہوں، ایسا قابل اعتماد شراکت دار قیمتی اثاثہ بن جاتا ہے جس کے تمام فریقوں سے روابط ہوں۔“
شائع اپ ڈیٹ

برطانیہ کی جانب سے عمان کے فرمانروا سلطان ہیثم بن طارق کا غیر معمولی خیرمقدم اور ذرائع ابلاغ میں ان کے دورے کو بھرپور کوریج دینا محض سفارتی آداب کی ادائیگی نہیں۔ خطے میں رقابتیں شدت اختیار کر رہی ہیں اور اقتصادی شراکت داریوں کی نئی تشکیل ہو رہی ہے۔ ایسے میں عمان کی محتاط اور متوازن سفارت کاری اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا ذریعہ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

برطانیہ کے بادشاہ کی جانب سے ونڈسر کیسل میں شاہی ضیافت، لندن کے میئر کی جانب سے سٹی آف لندن کے گلڈہال میں استقبالیہ اور عمانی سلطان کے سرکاری دورے کے دوران برطانوی سیاسی قیادت کی نمایاں مصروفیت محض رسمی تقریبات نہیں ہیں۔ برطانیہ طویل عرصے سے سفارتی مہارت کو تزویراتی بصیرت اور مالیاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنانے کے لیے معروف رہا ہے۔ اس پس منظر میں اس نوعیت کی سفارتی سرگرمیاں بلاوجہ نہیں ہوتیں۔ عمان عالمی منظرنامے پر ابھر رہا ہے۔

یہ سرگرمیاں ایک تزویراتی سوچ کی عکاس ہیں: مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام کے دوران ایسا ملک، جو اعتماد کا حامل ہو، حریف طاقتوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھتا ہو اور اقتصادی مواقع فراہم کرتا ہو، اپنی جغرافیائی وسعت سے کہیں بڑھ کر اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

خلیج کے بیشتر ممالک حال ہی میں ایران کے ساتھ تنازع میں کسی نہ کسی حد تک الجھ گئے تھے، جس کی ایک وجہ امریکا کے ساتھ ان کے دفاعی تعلقات بھی تھے، لیکن عمان نے اپنی غیر جانب داری برقرار رکھی اور براہ راست تصادم میں الجھنے سے گریز کیا۔ تزویراتی طور پر فاصلہ برقرار رکھنے کی اس پالیسی نے عمان کو مضبوطی بخشی اور ایک قابل اعتماد مذاکراتی فریق کی حیثیت سے اس کی ساکھ کو تقویت دی۔

صلالہ میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹر کے پہلے مرحلے کے لیے برطانیہ کی جانب سے ایک ارب پاؤنڈ سے زیادہ کی مجوزہ سرمایہ کاری، وسیع تر سرمایہ کاری اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کے ساتھ، اسی پیغام کو مضبوط کرتی ہے۔ یہ معاہدہ برطانیہ اور عمان کی خودمختار سرمایہ کاری شراکت داری کو وسعت دے گا، جس کے تحت قابل تجدید توانائی، ٹیکنالوجی، اہم معدنیات، خلائی تحقیق، صحت اور مالیاتی خدمات کے شعبوں کو ہدف بنایا جائے گا۔

برطانیہ کا برآمدی قرضوں کا ادارہ، یوکے ایکسپورٹ فنانس، بھی عمان کو برطانوی برآمدات کے لیے اپنی مالی معاونت کی استعداد بڑھا کر سات ارب پاؤنڈ (9.37 ارب ڈالر) تک لے جانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

عمان اپنی سفارتی ساکھ کو اقتصادی اہمیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیا وہ مشرق وسطیٰ میں ایک اہم نئی منزل کے طور پر ابھر رہا ہے؟ تزویراتی حالات کا جائزہ اس سوال کا جواب اثبات میں دیتا ہے۔

خطے میں قطر کا ایک اہم مقام حاصل کرنا اس حوالے سے قابل ذکر مثال ہے۔ قطر نے توانائی کے وسائل سے حاصل ہونے والی دولت، عالمی سرمایہ کاری، ثالثی کے کردار اور الجزیرہ کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ الجزیرہ نے رائج بیانیوں کو چیلنج کیا اور دوحہ کے اثر و رسوخ کو اس کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پہنچایا۔

عمان کا معاملہ مختلف ہے۔ سلطان قابوس کی چھوڑی ہوئی میراث کو آگے بڑھاتے ہوئے سلطان ہیثم نے ایسی خارجہ پالیسی جاری رکھی ہے جس کی نمایاں خصوصیات رازداری، اعتدال پسندی اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہو کر تمام فریقوں سے روابط ہیں۔ مسقط نے ایران اور مغربی طاقتوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہیں اور ایسے مواقع پر بھی مذاکرات کی گنجائش فراہم کی ہے جب کھلی سفارت کاری مشکل ہو جاتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمان اپنے مفادات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے غیر جانب داری اختیار کرتا ہے۔ اسے اپنے سلامتی کے خدشات اور تزویراتی شراکت داریوں کا بھی خیال رکھنا ہے۔ اس کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اختلافات کو معمول کے مطابق کھلے تصادم میں تبدیل کیے بغیر اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چنانچہ عمان ایک اور قطر بننے کے بجائے ایک ایسے قابل اعتماد ثالث کے طور پر ابھر سکتا ہے جس کی سفارتی ساکھ اس کے اقتصادی عزائم کو تقویت دے۔ اس کا اثر و رسوخ توجہ حاصل کرنے کے بجائے اس صلاحیت پر منحصر ہے کہ حریف طاقتیں بھی اس کے ساتھ کاروباری معاملات آگے بڑھا سکتی ہیں۔

برطانیہ کی عمان کے ساتھ بڑھتی ہوئی وابستگی اس حوالے سے اہم ہے۔ صلالہ میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مجوزہ سرمایہ کاری، برآمدی مالی معاونت اور وسیع تر تعاون مل کر سیاسی اعتماد کو تجارتی مواقع سے جوڑتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے ساتھ عمان کا محل وقوع بھی اس کی تزویراتی اہمیت بڑھاتا ہے۔ یہ آبنائے عالمی توانائی کی ترسیل کی ایک اہم شہ رگ ہے۔

ایسے خطے میں جہاں تنازعات، جہازرانی میں خلل اور جغرافیائی و سیاسی رقابتوں کے خطرات موجود ہوں، ایسا قابل اعتماد شراکت دار قیمتی اثاثہ بن جاتا ہے جس کے تمام فریقوں سے روابط ہوں۔ سفارت کاری سرمایہ کاری کو راغب کر سکتی ہے، سرمایہ کاری تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دے سکتی ہے اور اقتصادی استعداد تزویراتی اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

تاہم، اعلانات کامیابیوں کے مترادف نہیں ہوتے۔ عمان کو اپنے عزائم کو پائیدار بنانے کے لیے مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ، ہنرمند افرادی قوت، ضابطہ جاتی استحکام اور مسابقتی ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ اس کی کامیابی کا انحصار شاہی تقریبات کی علامتی اہمیت پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر ہوگا۔

عمان کو کئی فوائد حاصل ہیں، جن میں سیاسی تسلسل، نسبتاً استحکام، تزویراتی بحری محل وقوع اور پہلے سے قائم بندرگاہیں شامل ہیں۔ رسد و ترسیل، سیاحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی اس کے پاس نمایاں امکانات موجود ہیں۔ معیشت کو متنوع بنانے کی اس کی کوششیں تیل اور گیس سے آگے بڑھ کر نئے مواقع فراہم کرتی ہیں۔

اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا مسقط اپنی سفارتی رسائی کو مسلسل سرمایہ کاری، پیداواری روزگار اور زیادہ متنوع معیشت میں تبدیل کر سکتا ہے، اور اس دوران اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد بننے والے اعتماد کو بھی برقرار رکھ پاتا ہے یا نہیں۔

عمان کے لیے موقع یہ ہے کہ وہ خطے میں اپنا ایک منفرد کردار تشکیل دے، جس میں سفارت کاری، اقتصادی تنوع اور تزویراتی جغرافیائی محل وقوع ایک دوسرے کو تقویت بخشیں۔

سلطان ہیثم کے لیے برطانیہ کا غیر معمولی خیرمقدم ظاہر کرتا ہے کہ عمان کی اس صلاحیت کو اب زیادہ سنجیدگی سے تسلیم کیا جا رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے لیے عمان کا ابھار اس امر کی توثیق ہوگا کہ رابطے برقرار رکھنا طاقت کا مظاہرہ کرنے جتنا ہی اہم ہو سکتا ہے۔ خطے کے دوسرے فریق بھی مختلف زاویوں سے عمان کے بڑھتے ہوئے کردار پر نظر رکھ سکتے ہیں، خواہ ان کی دلچسپی کاروباری مواقع میں ہو یا سیاسی اتحادوں میں۔

علاقائی رقابتوں میں شدت کے ساتھ مسقط کو اس دباؤ سے بچنا ہوگا کہ اسے کسی ایک حریف طاقت کے اتحاد کا حصہ سمجھا جائے۔ اس کا طویل مدتی اثر و رسوخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہ اپنی تزویراتی خودمختاری برقرار رکھے، تمام فریقوں کے ساتھ مذاکرات کے راستے کھلے رکھے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ اس کے سفارتی تعلقات علاقائی فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت کو متاثر نہ کریں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026ء