ملتان میں ایک نوعمر لڑکے کے لرزہ خیز قتل اور اس کے بعد مبینہ پولیس مقابلے میں مرکزی ملزم کی ہلاکت نے چند ہی دنوں کے اندر پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف کی دو نہایت تشویش ناک ناکامیوں کو بے نقاب کردیا ہے۔
وسیم عباس کی موت کے حالات، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اسے ملازمت دینے والے ایک شخص نے تعاقب کرنے کے بعد جان بوجھ کر گاڑی تلے کچل دیا، شدید ترین مذمت کے مستحق ہیں۔
تاہم اس کے بعد مرکزی ملزم توقیر نذیر کی مبینہ طور پر پولیس حراست سے فرار ہونے کے دوران ہلاکت بھی اتنے ہی سنگین سوالات اٹھاتی ہے کہ آیا ریاست قانون کے مطابق کارروائی اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں سے کس حد تک وابستہ ہے۔
لڑکے کے قتل کی دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج انتہائی دل خراش ہے۔ اس میں ایک بچے کو تعاقب کرتی گاڑی سے جان بچانے کے لیے بے بسی کے عالم میں بھاگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جس کے بعد گاڑی اسے ٹکر مار کر ایک گیٹ کے ساتھ کچل دیتی ہے۔
پولیس شکایت کے مطابق وسیم ایک الیکٹریشن کے ہاں شاگرد کے طور پر کام کررہا تھا اور مبینہ طور پر اسے اپنے آجروں کے ہاتھوں تشدد اور دھمکیوں کا سامنا بھی رہا تھا۔ اس کے حالات اس پناہ گاہ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی تشویش ناک سوالات اٹھاتے ہیں جہاں اسے رکھا گیا تھا، ان حالات کے بارے میں بھی جن میں اسے کام کرنے کے لیے بھیجا گیا، اور ان مؤثر حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی کے بارے میں بھی جو کمزور اور غیر محفوظ بچوں کو تحفظ فراہم کرسکتے تھے۔ ان انتظامات میں شامل ہر ادارے اور فرد کے کردار کی جانچ پڑتال ہونی چاہیے۔
عدالت کے باہر وکلا کی جانب سے ملزم پر مبینہ تشدد نے اس معاملے کو مزید شرم ناک رخ دے دیا۔ قانونی پیشے سے وابستہ افراد، جنہیں نظامِ انصاف کی عمل داری کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، خود کو مشتبہ افراد کو سزا دینے کا اختیار نہیں دے سکتے۔ ان کے طرزِ عمل کی تحقیقات ہونی چاہییں اور مناسب تادیبی کارروائی کی جانی چاہیے۔
ایک غیر معمولی طور پر سفاکانہ جرم پر عوامی غم و غصہ بالکل قابلِ فہم ہے، لیکن قانونی کارروائی کی جگہ تشدد کو لینے کی اجازت دینا ان اداروں کو مزید کمزور کرتا ہے جن کی ذمہ داری انصاف فراہم کرنا ہے۔
اس کے بعد ہونے والا مبینہ پولیس مقابلہ خاص طور پر تشویش ناک ہے۔ توقیر کو گرفتار کرکے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا، جنہوں نے اسے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ چند ہی گھنٹوں بعد مبینہ طور پر اسے بہاولپور میں مردہ قرار دے دیا گیا، جہاں محکمہ جرائم کنٹرول کے مطابق وہ حراست سے فرار ہونے کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔ ان حالات کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
اتنے اہم قتل کیس کے ایک ملزم کو پولیس حراست سے فرار ہونے کا موقع کیسے ملا؟ وہ بہاولپور کیسے پہنچا؟ مبینہ پولیس مقابلے کے سرکاری مؤقف کی تائید میں کیا شواہد موجود ہیں؟ ان سوالات کے جوابات فرانزک شواہد، حراست کے ریکارڈ اور واقعات کی شفاف انداز میں ازسرِنو تشکیل کی بنیاد پر دیے جانے چاہییں۔
پنجاب کا محکمہ جرائم کنٹرول پہلے ہی مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں اور رپورٹ ہونے والے پولیس مقابلوں کی کثرت کے باعث شدید تنقید کی زد میں ہے۔ تازہ ترین واقعہ لازماً جرائم پر قابو پانے کے نام پر اختیار کیے جانے والے طریقوں کے بارے میں عوامی شکوک و شبہات میں مزید اضافہ کرے گا۔ ایسی پولیس فورس، جس کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہوجائے کہ وہ عدالتوں سے باہر ہی سزائیں دینے لگی ہے، پورے نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے۔
یہ خطرہ انفرادی واقعات سے کہیں بڑھ کر ہے، کیونکہ ایسے طریقوں کو عوامی قبولیت ملنے سے یہ بنیادی اصول کمزور پڑ جاتا ہے کہ ہر الزام کی جانچ پڑتال قانونی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہونی چاہیے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرکے بجا طور پر توجہ دلائی ہے۔ ملزم کی موت نے وسیم کے اہلِ خانہ کو اس موقع سے بھی محروم کردیا ہے کہ وہ مرکزی ملزم کو عدالت میں مقدمے کا سامنا کرتے دیکھ سکیں اور شواہد کے ذریعے جرم کے حالات و واقعات مکمل طور پر ثابت کیے جاسکیں۔
دوسرے ملزم کے حوالے سے سوالات، لڑکے کی ملازمت اور ان ناکامیوں سے متعلق معاملات، جنہوں نے اسے غیر محفوظ حالات سے دوچار کیا، اب بھی حل طلب ہیں۔ مبینہ پولیس مقابلے کو وسیع تر تحقیقات ختم کرنے کا جواز نہیں بننے دیا جاسکتا۔
صوبائی حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ دونوں اموات کی مکمل اور مناسب چھان بین ہو۔ وسیم کے قتل کی تحقیقات جاری رہنی چاہییں، جبکہ توقیر کی ہلاکت کے حالات کی تحقیقات اس محکمے سے آزاد ہوکر کی جانی چاہییں جس کے اہلکار اس واقعے میں ملوث ہیں۔ پولیس اہلکاروں کی جانب سے کسی بھی غیر قانونی اقدام پر انہیں فوجداری طور پر جواب دہ ہونا چاہیے۔
اسی طرح، غیر محفوظ اور کمزور حالات سے دوچار بچوں کا تحفظ اور کام کی جگہوں پر حفاظتی اقدامات کا نفاذ فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔
وسیم کے ساتھ کی گئی سفاکیت کا تقاضا ہے کہ اسے اعلیٰ ترین درجے کا انصاف فراہم کیا جائے۔ جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، قانون کے ذریعے انصاف فراہم کرنا ریاست کی غیر متزلزل ذمہ داری ہے۔
اب اسی مقدمے میں ہونے والی دو اموات نے پاکستان کے سامنے ایک نہایت پریشان کن سوال کھڑا کردیا ہے: شہری ان اداروں پر کتنا اعتماد برقرار رکھ سکتے ہیں جو بار بار زندگی کے تحفظ اور قانون کی پاسداری میں ناکام رہتے ہیں؟
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026