✕
پاکستان

قومی اسمبلی نے اسٹیٹ لائف انشورنس کو کمپنی میں تبدیل کرنے کا بل منظور کرلیا

  • بل وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال کیانی نے پیش کیا، جسے شق وار غور کے بعد ایوان نے منظور کرلیا۔
شائع اپ ڈیٹ

قومی اسمبلی نے جمعرات کو سرکاری ادارے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن (ایس ایل آئی سی) کو کمپنی میں تبدیل کرنے کا بل اکثریتی ووٹ سے منظور کرلیا، جس سے ادارے کو انتظامی امور میں زیادہ خودمختاری ملنے اور مستقبل میں ممکنہ نجکاری کی راہ ہموار ہوگی۔

بل وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال کیانی نے پیش کیا، جسے شق وار غور کے بعد ایوان نے منظور کرلیا۔

بل کے اغراض و مقاصد کے مطابق، مجوزہ ترامیم کا مقصد سرکاری بیمہ ادارے کو درپیش انتظامی اور عملی رکاوٹیں دور کرنا اور اس کی کارکردگی، شفافیت اور کارپوریٹ نظم و نسق بہتر بنانا ہے۔

اسٹیٹ لائف کا موجودہ قانونی ڈھانچہ لائف انشورنس (قومیانے) آرڈر 1972 کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ تاہم مالیاتی شعبے میں تبدیلیوں اور جدید ضابطہ جاتی تقاضوں کے باعث ادارے کے قانونی اور انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی ضروری ہوگئی تھی۔

مجوزہ قانون کے تحت اسٹیٹ لائف کو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت کمپنی میں تبدیل کیا جائے گا اور اس کا قانونی ڈھانچہ سرکاری ملکیتی اداروں کے ایکٹ 2023 سمیت متعلقہ قوانین سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔

بل میں وفاقی حکومت کی منظوری اور متعلقہ قوانین کی پابندی سے مستقبل میں ادارے کے حصص فروخت کرنے یا نجکاری کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ تاہم ترامیم کی منظوری بذاتِ خود نجکاری کا فیصلہ نہیں ہے، بلکہ مستقبل میں ایسا فیصلہ ہونے کی صورت میں قانونی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے یہ اقدام کیا جارہا ہے۔

قانون کے تحت ادارے کے اثاثے، واجبات، حقوق اور ذمہ داریاں نئی کمپنی کو منتقل ہوں گے۔ پالیسی ہولڈرز کے مفادات اور ملازمین کی موجودہ شرائطِ ملازمت، بشمول ریٹائرمنٹ فوائد، کے تحفظ کی بھی شقیں شامل ہیں۔

بیان کے مطابق مجوزہ ترامیم متعلقہ فریقوں سے مشاورت اور وزارتِ قانون و انصاف کی جانچ کے بعد تیار کی گئیں۔ کابینہ کی قانون سازی سے متعلق کمیٹی نے 24 دسمبر 2025 کو مسودے کی منظوری دی، جبکہ وفاقی کابینہ نے 26 دسمبر 2025 کو اس کی توثیق کی تھی۔

دریں اثنا، ہاؤس پرائیویٹائزیشن کمیشن ترمیمی بل 2026 مزید غور کے لیے متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس 2026 بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026