کار ڈیلرز کا آٹو موبائل مارکیٹ میں منصفانہ مسابقت کا مطالبہ
- استعمال شدہ گاڑیوں کی ریگولیٹڈ تجارتی درآمد کی اجازت دینے سے صارفین کو فائدہ ہوگا، میاں شعیب احمد
آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن (اے پی سی ڈی آئی اے) کے چیئرمین میاں شعیب احمد نے چند آٹو موبائل اسمبلرز کو فائدہ پہنچانے والی امتیازی پالیسیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی ریگولیٹڈ تجارتی درآمد کی اجازت دینے سے صارفین کو فائدہ ہوگا، کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی مینوفیکچررز گاڑیوں کے معیار، حفاظتی تقاضوں اور مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے پر مجبور ہوں گے۔
میاں شعیب احمد نے کراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر کار ڈیلرز کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے مقامی اسمبلرزکو حاصل تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل تحفظ حاصل ہونے کے باوجود گاڑیوں کے معیار، مقامی سطح پر پرزوں کی تیاری (لوکلائزیشن) اور برآمدی کارکردگی میں مطلوبہ بہتری لانے میں ناکام رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آٹو موبائل مارکیٹ کو مسابقتی اور شفاف بنایا جائے تاکہ مینوفیکچررز پابندیوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی مصنوعات کے معیار اور پیداواری کارکردگی کو بہتر بناسکیں۔
میاں شعیب احمد نے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی جانب پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس معاملے پر کے سی سی آئی کی معاونت اور وزیراعظم سمیت متعلقہ سرکاری حکام کے ساتھ اس کی خط و کتابت کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ نوٹیفکیشن پہلے جاری کیا جاچکا تھا تاہم عملدرآمد میں تاخیر کا سامنا رہا مگر اب ایسوسی ایشن باقاعدہ بینکنگ چینلز کے ذریعے اپنے کاروباری نام پر تجارتی بنیادوں پر گاڑیاں درآمد کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے جس کے لیے متعلقہ معائنے، معیار اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی پابندی کی جائے گی جس سے نہ مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی بلکہ صارفین کو انتخاب کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔
انہوں نے پاکستان کو گاڑیوں اور مشینری کی علاقائی تجارت کا مرکز بنانے کے وسیع تر امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے مجوزہ پاکستان کار اینڈ مشینری زونز منصوبے کا بھی حوالہ دیا جس کا مقصد استعمال شدہ گاڑیوں اور مشینری کو پاکستان لا کر ان کی تزئین و مرمت اور ویلیو ایڈیشن کے بعد عالمی مارکیٹوں میں دوبارہ برآمد کرنا ہے۔
انہوں نے دبئی کے کامیاب ٹرانزٹ ٹریڈ ماڈل سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت، ہنر مند افرادی قوت اور نسبتاً کم لیبر لاگت سے فائدہ اٹھا کر کراچی میں اسی طرح کا برآمدات پر مبنی نظام تشکیل دے سکتا ہے، اس مجوزہ منصوبے سے مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچررز، وینڈرز اور دیگر معاون صنعتوں کے لیے بھی کاروباری مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے یہ امید ظاہر کی کہ منصوبہ اپنے آخری مراحل کے قریب ہے اور اس کا ہدف تقریباً 400 ملین ڈالر کی بیرونی براہ راست سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔
بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین زبیر موتی وال نے بذریعہ زوم اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے استعمال شدہ گاڑیوں کی ریگولیٹڈ درآمد کی بھرپورحمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے پاکستانی صارفین کو مناسب قیمتوں پر معیاری گاڑیاں دستیاب ہوسکیں گی، حکومت کو اضافی ریونیو ملے گا، زرِمبادلہ کی بچت ہوگی اور ملکی آٹو موبائل مارکیٹ میں مسابقت پیدا ہوگی۔انہوں نے خبردار کیا کہ آٹو موبائل مینوفیکچرنگ لابی بااثر اور وسائل سے مالامال ہے لہٰذا ضروری ہے کہ کار ڈیلرز اپنا مؤقف مضبوط اور شواہد پر مبنی دلائل کے ساتھ پیش کریں۔
اس موقع پر کے سی سی آئی کے صدر طلعت محمود نے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمدات سے متعلق مسائل کے حل کے لیے آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔