✕
کاروبار اور معیشت

خلیجی کشیدگی کے پیش نظر شرحِ سود نہ بڑھانے کا مطالبہ

  • شرح سود میں اضافہ کاروباری سرگرمیوں، صنعتی پیداوار اور برآمدات پر منفی اثرات مرتب کرے گا، صدر نکاٹی
شائع اپ ڈیٹ

تاجروں کا شرح سود

صدر نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) فیصل معیز خان نے کہا ہے کہ خلیجی کشیدگی کے معاشی اثرات کے پیش نظر آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود نہ بڑھائی جائے۔

صدر نکاٹی نے کہا کہ شرح سود میں اضافہ کاروباری سرگرمیوں، صنعتی پیداوار اور برآمدات پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔

فیصل معیز خان نے خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پاکستانی معیشت پر ممکنہ اثرات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تناظر میں توانائی کی قیمتوں، درآمدی اخراجات، صنعتی پیداوار اور ملکی برآمدات پر پڑنے والے دباؤ کا بروقت جائزہ لینے اور کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

فیصل معیز خان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ توانائی کی دستیابی، درآمدی ایندھن کی قیمتوں اور عالمی تجارتی حالات سے متاثر ہوتا ہے۔ خلیجی خطے میں کشیدگی طویل ہونے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، مال برداری کے اخراجات اور سپلائی چین میں اتار چڑھاؤ کے اثرات پاکستان تک منتقل ہو سکتے ہیں جس سے صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ اور کاروباری منصوبہ بندی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

صدر نکاٹی نے مزید کہا ہے کہ صنعتی شعبہ پہلے ہی توانائی کے اخراجات، کاروباری لاگت اور عالمی منڈیوں میں مسابقت جیسے چیلنجز کا سامنا کرتا ہے۔ایسے حالات میں حکومت کو چاہیے کہ وہ صنعتی و تجارتی نمائندوں سے مشاورت کے ذریعے ممکنہ معاشی خطرات کا جائزہ لے اور ایسی پالیسیوں پر توجہ دے جو پیداواری سرگرمیوں، روزگار اور برآمدات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں۔

فیصل معیز نے اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کے لیے خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر توانائی کی فراہمی، درآمدی ضروریات اور متبادل ذرائع کے حوالے سے پیشگی منصوبہ بندی اہمیت رکھتی ہے،توانائی کے مؤثر استعمال، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور صنعتی اداروں کو سہولتوں کی فراہمی کے ذریعے بیرونی جھٹکوں کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔