✕
دنیا

برطانوی آجروں کی تنخواہوں میں اضافے کی شرح بڑھ کر 3.1 فیصد ہوگئی، برائٹ مائن

  • نجی شعبے میں اجرتوں میں اضافے کی شرح 2024 کے اختتام کے بعد پہلی بار بڑھی، سرکاری اعداد و شمار
شائع اپ ڈیٹ

برطانیہ میں آجروں کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی شرح ستمبر کے اختتام تک تین ماہ کے دوران معمولی بڑھ کر 3.1 فیصد ہوگئی، تاہم اجرتوں کے عمومی رجحان میں کسی بڑی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آئے۔ انسانی وسائل سے متعلق ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی برائٹ مائن نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں یہ بات بتائی۔

آجروں کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کی درمیانی شرح 3.1 فیصد رہی، جو اگست اور جولائی کو ختم ہونے والے گزشتہ تین ماہ کے ادوار میں 3 فیصد تھی۔ تاہم یہ شرح رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں ریکارڈ کیے گئے اضافے سے کم ہے۔

منگل کو جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نجی شعبے میں اجرتوں میں اضافے کی شرح 2024 کے اختتام کے بعد پہلی بار بڑھی۔ اس پیش رفت سے نومبر میں بینک آف انگلینڈ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکان سے متعلق توقعات کو تقویت ملی ہے۔

سروے کے اہم نکات کے مطابق زیادہ تر تنخواہوں کے معاہدوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ توقع ہے کہ 2027 میں بھی تنخواہوں میں اضافے کی شرح 3 فیصد کے قریب رہے گی۔

آجروں کے لیے سوشل سکیورٹی کی مد میں زیادہ ادائیگیاں اخراجات پر دباؤ ڈال رہی ہیں، جبکہ کم از کم اجرت میں ممکنہ اضافہ بھی کمپنیوں کے بجٹ پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔

برائٹ مائن نے یکم جولائی سے 30 ستمبر کے دوران طے پانے والے تنخواہوں کے 42 معاہدوں کا تجزیہ کیا، جن کا تعلق 6 لاکھ 50 ہزار سے زائد ملازمین سے تھا۔