✕
پاکستان

ہتکِ عزت کیس: اپوزیشن رہنما کو پنجاب کے وزیر کو 30 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم

  • لاہور میں ہتکِ عزت ٹربیونل میں یہ مقدمہ معین قریشی کی جانب سے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران دیے گئے بیان پر دائر کیا گیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق، پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما معین ریاض قریشی کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ جیت لیا ہے۔ لاہور ہتکِ عزت ٹربیونل نے معین ریاض قریشی کو وزیر کو 30 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، عظمیٰ بخاری نے ہتکِ عزت ایکٹ کے تحت معین ریاض قریشی کے خلاف 8 کروڑ 40 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ یہ مقدمہ معین قریشی کی جانب سے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران دیے گئے بیان پر لاہور ہتکِ عزت ٹربیونل میں دائر کیا گیا تھا۔

معین قریشی نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ عظمیٰ بخاری نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے دورۂ پنجاب اسمبلی کے موقع پر 150 سے 200 معاوضہ لینے والے افراد کو اسمبلی میں داخل کرایا تھا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سے سوالات کرنے والے صحافی عظمیٰ بخاری کے تنخواہ دار ملازم تھے۔

عظمیٰ بخاری نے ان الزامات کو اپنی ساکھ متاثر کرنے کی ’’مکمل طور پر جھوٹی، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی‘‘ کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے معین قریشی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی۔

ٹربیونل کے مطابق، معین قریشی نے خود تسلیم کیا کہ انہوں نے ٹی وی پروگرام میں یہ بیانات دیے تھے۔ ٹربیونل نے مزید قرار دیا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے وکیل بھی اپنے دلائل کے ذریعے یہ ثابت نہیں کر سکے کہ عظمیٰ بخاری کا دعویٰ بے بنیاد تھا۔

ٹربیونل نے مقدمے میں مختصر حکم جاری کر دیا ہے، جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔

’اختلافِ رائے کا حق جمہوریت کی طاقت ہے‘

فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اپوزیشن رہنما نے کہا، ’’ہرجانے کے ذریعے میری آواز دبائی نہیں جا سکتی، اور عوام کے حقوق، آئین کی بالادستی اور عمران خان کی حمایت میں اٹھنے والی میری آواز خاموش نہیں کرائی جا سکتی۔‘‘

انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’مجھے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دینے والے اس فیصلے سے آزادیٔ اظہار اور جمہوری اقدار کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ اگر عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا اور اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے جواب طلب کرنا اتنا بڑا جرم بن جائے کہ لاکھوں روپے ہرجانے کی سزا دینے کی کوشش کی جائے، تو یہ محض کسی ایک فرد کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ اس کا تعلق پوری جمہوریت اور اختلافِ رائے کے حق سے ہے۔

’’یاد رکھیں، اختلافِ رائے کا حق جمہوریت کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہے۔ تنقید کا جواب ہرجانے کے ذریعے دینے کی کوشش سے کسی نقطۂ نظر کو غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا۔‘‘