✕
پاکستان

پشاور ہائی کورٹ : کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری

  • عدالت نے وفاقی حکومت اور پولیس سے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے بارے میں جواب طلب کرلیا
شائع اپ ڈیٹ

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کے ساتھ ساتھ غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بازیابی سے متعلق درخواست پر وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل، پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کردیے۔

آج نیوز کے مطابق عدالت نے سہیل آفریدی کی مبینہ حراست سے متعلق حکام سے دو روز میں باضابطہ جواب طلب کرلیا، جبکہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف درخواست پر مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

سہیل آفریدی کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس سید ارشد علی نے ان کے بارے میں استفسار کیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی کو حراست میں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق انہیں دو ممکنہ مقامات میں سے کسی ایک پر واقع شاہی مہمان خانے میں رکھا گیا ہے۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے متعلقہ حکام کو دو روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔

دوسری جانب جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے دائر مرکزی درخواست کی سماعت کی۔

درخواست میں 11 اکتوبر کو جاری کیے گئے صدارتی فرمان، ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ اور مسلح افواج کی تعیناتی کے احکامات کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پشاور، نوشہرہ اور مردان میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کے باوجود پورے صوبے میں گورنر راج نافذ کردیا گیا۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے الزام لگایا کہ دہشت گردی کو جواز بنا کر منتخب صوبائی حکومت کو ہٹایا گیا۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی کے پی ٹی آئی کے 12 ارکان اور صوبائی اسمبلی کے 14 ارکان کو حراست میں لیا گیا ہے۔انہوں نے سہیل آفریدی اور دیگر زیر حراست ارکان اسمبلی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

ادھر سلمان اکرم راجہ اور محمود خان اچکزئی نے بھی گورنر راج کو صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن مزاحمت جاری رکھیں گے۔