✕
رائے

سیکھنے کے بغیر تعلیم

  • پاکستان کا تعلیمی بحران گہری جڑیں رکھنے والی حد سے بڑھی ضابطہ بندی اور سیاسی کنٹرول کا نتیجہ ہے، جس سے اسکولوں کی خودمختاری محدود ہو رہی ہے اور ملک کے لیے مصنوعی ذہانت کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کرنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کے تعلیمی بحران کو عموماً فنڈز کی کمی، تعلیم تک رسائی کے محدود مواقع، اساتذہ کی قلت اور سیکھنے کے ناقص نتائج کا بحران قرار دیا جاتا ہے۔ یہ مسائل اپنی جگہ حقیقت ہیں، لیکن تعلیمی نظام کی ناکامی کی مکمل وضاحت نہیں کرتے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام حد سے بڑھی ہوئی ضابطہ بندی، سیاسی کنٹرول اور انتظامی انتشار کا بھی شکار ہے۔ وزارتوں، صوبائی محکموں، نصابی کتب کے بورڈز، امتحانی بورڈز، اسناد کی توثیق کرنے والے اداروں، نگرانی کے شعبوں اور پیشہ ورانہ کونسلوں میں اختیارات مرتکز ہو چکے ہیں، جبکہ اسکولوں، سربراہان اور اساتذہ کو یہ فیصلہ کرنے کی بہت کم آزادی حاصل ہے کہ سیکھنے کا عمل کس طرح آگے بڑھایا جائے۔

یہ محض تعلیم کا معاملہ نہیں، بلکہ اختیارات، پیداواری صلاحیت اور مستقبل کی معیشت میں پاکستان کے مقام کا سوال بھی ہے۔ ایسا تعلیمی نظام، جو طلبہ کو اطاعت، رٹنے اور دفتری معمولات کا عادی بناتا ہو، مصنوعی ذہانت کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار نہیں کر سکتا۔ مسئلہ صرف پیسے، عمارتوں یا داخلوں کا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسکولوں کو کون کنٹرول کرتا ہے، فیصلے کیسے کیے جاتے ہیں اور کیا سربراہان و اساتذہ پر اپنے فرائض انجام دینے کے لیے اعتماد کیا جاتا ہے۔

اس مضمون میں پہلے بتایا گیا ہے کہ تقرریوں، تبادلوں، نصاب اور امتحانات پر سیاسی کنٹرول کس طرح اسکولوں کو کمزور کرتا ہے۔ اس کے بعد اسلام آباد کے وفاقی تعلیمی نظام کی مثال سے واضح کیا گیا ہے کہ اختیارات کے باہمی ٹکراؤ کا شکار انتظامی ادارے سیکھنے کے نتائج بہتر بنائے بغیر نگرانی کا بوجھ کیسے بڑھا سکتے ہیں۔ آخر میں ذمہ داریوں کی واضح تقسیم تجویز کی گئی ہے: وفاقی سطح پر شواہد اور معیارات، صوبائی سطح پر مالی وسائل اور معاونت، مقامی سطح پر اسکولوں کا انتظام، جبکہ سربراہان اور اساتذہ کو پیشہ ورانہ خودمختاری حاصل ہو۔

بنیادی مسئلہ محض وزارتِ تعلیم کا وجود نہیں، بلکہ پالیسی سازی، مالی وسائل، ضابطہ بندی، تقرریوں، تبادلوں، نصاب، امتحانات اور اسکولوں کے انتظامی امور کا سیاسی کنٹرول رکھنے والے محکموں میں مرتکز ہونا ہے۔ جب سیاست دان اسکولوں کے مقامات، عملے کی تعیناتی اور ٹھیکوں پر اثرانداز ہو سکتے ہوں تو تعلیم سیاسی سرپرستی کے نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔ اسکول سیکھنے کے اداروں کے بجائے ملازمتیں فراہم کرنے والے مراکز اور سیاسی حمایت کے حلقے بن جاتے ہیں۔

اساتذہ کی تقرریاں میرٹ کے بجائے سیاسی تعلقات کی بنیاد پر ہو سکتی ہیں؛ تبادلوں کو حامیوں کو نوازنے یا آزادانہ رائے رکھنے والے اساتذہ کو سزا دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؛ غیر مؤثر یا غیر حاضر اساتذہ کو مقامی اثرورسوخ کے ذریعے تحفظ مل سکتا ہے؛ اور اسکول وہاں قائم کیے جا سکتے ہیں جہاں ان سے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے بجائے سیاسی فائدہ حاصل ہو۔ جب یہ طریقے عام ہو جائیں تو نتیجہ دونوں اعتبار سے بدترین ہوتا ہے: سرکاری خزانے پر تنخواہوں کا بھاری بوجھ، مگر پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل تدریسی عملے کا فقدان۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے تعلیم کا شعبہ بڑی حد تک صوبوں کو منتقل کر دیا گیا، لیکن اختیارات کی منتقلی سے مقامی خودمختاری یا پیشہ ورانہ انتظامیہ خودبخود وجود میں نہیں آتی۔ اکثر ایسا ہوا کہ اختیار اسلام آباد سے صوبائی دارالحکومتوں کو منتقل ہو گیا، جبکہ صوبائی محکموں نے ڈائریکٹوریٹس، ضلعی دفاتر، نگرانی کے شعبوں اور نصابی کتب کے بورڈز کے ذریعے وہی درجہ بندی پر مبنی نظام برقرار رکھا۔ ادارہ جاتی تحفظات کے بغیر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے اسکولوں کی خودمختاری بڑھنے کے بجائے سیاسی سرپرستی کے مواقع مقامی سطح پر منتقل ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتِ حال اس لیے اہم ہے کہ اختیارات کی جگہ بدلنے کے باوجود بیوروکریسی کا کنٹرول برقرار رہ سکتا ہے۔ نظام بظاہر اختیارات کی منتقلی کا دعویٰ کر سکتا ہے، لیکن اسکول عملے کی تعیناتی، خریداری، نصابی کتب، معائنے اور روزمرہ فیصلوں کے لیے دور بیٹھے انتظامی حکام کے محتاج رہ سکتے ہیں۔ اسلام آباد اس مسئلے کی ایک واضح مثال ہے، کیونکہ وہاں وفاقی ادارے نمایاں اور ایک محدود علاقے میں مرتکز ہیں، اس لیے ان کے کردار کا جائزہ لینا نسبتاً آسان ہے۔

اسلام آباد اس حوالے سے ایک مفید مطالعہ پیش کرتا ہے۔ وفاقی نظامتِ تعلیم تقریباً 432 اسکولوں اور کالجوں کا انتظام چلاتی ہے، جہاں 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ ادارہ اساتذہ، بجٹ، عمارتوں، نصابی کتب، امتحانات، تربیت، خریداری اور روزمرہ انتظامی امور کی نگرانی کرتا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن، جو 2022 میں قائم کیا گیا، تعلیم سے متعلق اعدادوشمار، تحقیق، جائزوں اور پالیسی تجزیے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس کے دائرۂ کار میں طلبہ کی صلاحیتوں، اساتذہ کی کارکردگی، اسکولوں اور پورے تعلیمی نظام کا جائزہ لینا شامل ہے۔

اصولی طور پر وفاقی نظامتِ تعلیم کو اسکول چلانے چاہییں، جبکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کو آزادانہ طور پر ان کی کارکردگی جانچنی چاہیے۔ تاہم عملی طور پر دونوں کے کردار کے درمیان فرق دھندلا رہا ہے۔ وفاقی نظامتِ تعلیم نے اپنی نگرانی اور جائزے کی صلاحیت بڑھانا شروع کر دی ہے، حالانکہ اسکولوں اور تعلیمی نظام کی جانچ پہلے ہی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے دائرۂ کار میں شامل ہے۔ وزارت تسلیم کر چکی ہے کہ وفاقی نظامتِ تعلیم میں پہلے نگرانی اور جائزے کا باقاعدہ شعبہ موجود نہیں تھا، تاہم اب اس کے اداروں میں کل وقتی نگران عملہ تعینات کر دیا گیا ہے۔

اس طرح اسلام آباد میں نگرانی کرنے والے دو ایسے انتظامی اداروں کے قیام کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جن کے اختیارات ایک دوسرے سے متداخل ہوں۔ نتیجتاً اسکولوں کے دوروں، فارموں اور رپورٹنگ کی شرائط میں تو اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہوگا کہ طلبہ کے سیکھنے کے نتائج کی ذمہ داری کس ادارے پر عائد ہوتی ہے۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ وفاقی نظامتِ تعلیم کے تمام اسکول ناکام ہیں۔ یہ ادارے بڑی تعداد میں طلبہ کو تعلیم دیتے ہیں اور بہت سے طلبہ امتحانات میں مناسب کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وفاقی نظامتِ تعلیم نے نئی نصابی کتب بھی متعارف کرائی ہیں، جن میں کہانیاں، سرگرمیاں، منصوبہ جاتی کام، کیو آر کوڈز اور ڈیجیٹل وسائل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اطلاعات و مواصلات کی ٹیکنالوجی کی تجربہ گاہیں، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں اقدامات، اسکولوں میں کھانے کی فراہمی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

تاہم ان کامیابیوں کو مکمل جائزہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ داخلے، عمارتیں، نصابی کتب اور امتحانی نتائج ایسے اشاریے ہیں جنہیں آسانی سے دیکھا اور شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن ان سے پڑھنے کی بنیادی صلاحیت، ریاضیاتی استدلال، تخلیقی سوچ یا خودمختار انداز میں سیکھنے کی صلاحیت کا مناسب اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ مزید یہ کہ اسلام آباد کی آبادی نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ ہے۔

وفاقی نظامتِ تعلیم کے اسکولوں میں داخل ہونے والے بچوں کے والدین غریب دیہی اضلاع کے بچوں کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ ہو سکتے ہیں۔ ان بچوں کو کتابوں اور زبان سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے، بہتر غذا میسر ہو سکتی ہے، ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی اور گھر میں پڑھائی کے دوران مدد بھی زیادہ مل سکتی ہے۔ لہٰذا ان کے تعلیمی نتائج میں اسکول کے معیار کے ساتھ خاندانی پس منظر کا کردار بھی شامل ہوتا ہے۔

درست جائزے کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ کے تعلیمی سفر کے آغاز میں ان کی صلاحیتوں کو جانچا جائے اور پھر وقت کے ساتھ ان کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے۔ اس دوران والدین کی تعلیم، گھریلو آمدن، اسکول سے پہلے کے تعلیمی تجربات، زبان، غذائیت، جنس اور پہلے سے حاصل شدہ تعلیمی صلاحیتوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ ایسی بنیادی معلومات کے بغیر امتحانات میں اچھے نتائج یہ نہیں بتا سکتے کہ اسکول واقعی سیکھنے کے عمل کو بہتر بنا رہے ہیں یا محض ایسے بچوں کو داخل کر رہے ہیں جنہیں کلاس روم میں آنے سے پہلے ہی دیگر بچوں پر برتری حاصل تھی۔

نجی تعلیمی شعبے کے جائزے میں بھی یہی احتیاط ضروری ہے۔ پاکستان میں نجی اسکول اب بچوں کے ایک بڑے حصے کو تعلیم دے رہے ہیں۔ 2017-18 میں مجموعی داخلوں میں نجی اسکولوں کا حصہ تقریباً 44 فیصد تھا، جبکہ 2024 میں ملک بھر میں پرائمری سطح پر نجی اسکولوں میں داخلوں کا تخمینہ تقریباً 47 فیصد لگایا گیا۔ اسلام آباد کے معروف اسکولوں میں زیادہ تر نجی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ والدین عموماً نظم و ضبط، انگریزی میں تدریس، اساتذہ کی توجہ، امتحانات کی تیاری، والدین سے رابطے اور انتظامی تسلسل کی وجہ سے ان اسکولوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

نجی اسکول اکثر خوش حال خاندانوں کے بچوں کو داخلہ دیتے ہیں، فیس وصول کرتے ہیں اور سیکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے بچوں کو داخلے سے محروم بھی رکھ سکتے ہیں۔ اس لیے ان کے بہتر نتائج کو خودبخود بہتر تدریس کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے باوجود نجی اسکولوں کی ترقی ایک واضح ادارہ جاتی پیغام دیتی ہے: خاندان ایسے اسکولوں کے خواہاں ہیں جو زیادہ جواب دہ ہوں، ان کی ضروریات کے مطابق ردعمل دیں اور جن کا انتظام مستقل طور پر بہتر انداز میں چلایا جائے۔

اگر سرکاری اسکولوں کو سرکاری عمارتیں، عوامی خزانے سے تنخواہیں اور وسیع انتظامی معاونت میسر ہونے کے باوجود مسابقت کے قابل نہ سمجھا جائے تو اس مسئلے کی وضاحت صرف وسائل کی کمی سے نہیں کی جا سکتی۔ اس میں نظامِ حکمرانی، ترغیبات اور ضابطہ بندی کا کردار بھی شامل ہے۔

اسکولوں کو خودمختاری درکار ہے، لیکن اس خودمختاری کے لیے سیاسی مداخلت سے تحفظ اور جواب دہی کا واضح نظام ضروری ہے۔ اسکولوں کے سربراہان کو قابلِ پیش گوئی بجٹ اور معمولی مرمت، مقامی سطح پر خریداری، کمزور طلبہ کے لیے اضافی تدریس، اساتذہ کے باہمی تعاون، اوقاتِ کار اور نصابی سرگرمیوں سے آگے بڑھ کر تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے معاملات میں اختیار ملنا چاہیے۔

اساتذہ کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ اسباق کو طلبہ کی ضروریات کے مطابق ڈھالیں، مقامی مثالیں استعمال کریں، سوالات اٹھائیں اور طلبہ کی فہم کے مختلف درجات کے مطابق تدریس کریں۔ ان کی کارکردگی کا فیصلہ صرف کاغذی کارروائی کی پابندی سے نہیں، بلکہ طلبہ کے سیکھنے کے شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

نصاب میں یہ طے ہونا چاہیے کہ طلبہ کو کیا سیکھنا ہے، نہ کہ یہ کہ اساتذہ ہر چیز کس طریقے سے پڑھائیں۔ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم کے تقابلی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسباق کی تیاری، تدریسی طریقوں اور نصاب پر عمل درآمد کے معاملے میں زیادہ خودمختاری رکھنے والے اساتذہ طلبہ کی ضروریات کے مطابق تدریس بہتر طور پر ڈھال سکتے ہیں۔

تاہم جب تک سیاست دان تقرریوں اور تبادلوں پر کنٹرول برقرار رکھیں گے، خودمختاری مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔ اساتذہ کی بھرتی آزاد اور میرٹ پر مبنی کمیشنوں کے ذریعے ہونی چاہیے، جن میں شفاف امتحانات، اسناد کی تصدیق اور خالی آسامیوں کا عوامی اعلان یقینی بنایا جائے۔ تبادلے واضح اصولوں اور ڈیجیٹل ریکارڈ کے مطابق کیے جائیں۔ اسکولوں کے سربراہان کا انتخاب مسابقتی عمل کے ذریعے کیا جائے اور انہیں انتظامی اختیارات دیے جائیں۔ سیاست دانوں کا کردار وسیع تر ترجیحات اور بجٹ طے کرنے تک محدود ہونا چاہیے، نہ کہ انفرادی تقرریوں میں مداخلت کرنا۔

ضابطہ بندی کے مسائل نصابی کتب اور امتحانات کے شعبوں میں خاص طور پر نمایاں ہیں۔ نصابی کتب کے بورڈ اکثر اجارہ دار فراہم کنندگان بن جاتے ہیں اور اپنی تیار کردہ یا سرپرستی میں شائع ہونے والی کتابیں لازمی قرار دیتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 28 سرکاری امتحانی بورڈز بھی ہیں، جن میں سے بہت سے فہم اور علم کے عملی استعمال کے بجائے رٹنے اور امتحانی تیاری کے مخصوص طریقوں کو فروغ دیتے ہیں۔ نتیجتاً اسکول امتحانات کو سامنے رکھ کر پڑھاتے ہیں، جبکہ نگران ادارے قواعد کی پابندی کو تعلیمی معیار سمجھنے لگتے ہیں۔

علاقائی موازنہ اس حوالے سے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ بھارت کا تعلیمی نظام بھی وسیع، سیاسی اثرورسوخ کا شکار اور غیر یکساں ہے، لیکن وہاں اصلاحات سے متعلق بحث میں آزادانہ طور پر حاصل کردہ تعلیمی شواہد کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ سالانہ تعلیمی جائزہ رپورٹ انڈیا نے عوامی بحث کا رخ عمارتوں اور داخلوں سے ہٹا کر اس سوال کی طرف موڑا کہ بچے حقیقتاً پڑھ سکتے ہیں اور بنیادی حساب کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اسی طرح قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں ابتدائی خواندگی، بچپن کی ابتدائی تعلیم اور جائزے کے نظام میں اصلاحات کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔

بنگلہ دیش ایک مختلف سبق پیش کرتا ہے۔ وہاں تعلیم تک رسائی اور صنفی مساوات، خصوصاً مڈل اسکول کی سطح پر، نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔ تاہم حالیہ شعبہ جاتی تجزیے اب بھی بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کی کمزوری، اسکول چھوڑنے کی بلند شرح اور اداروں کے درمیان رابطے کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دونوں پڑوسی ممالک سے حاصل ہونے والا سبق یہ نہیں کہ پاکستان ان میں سے کسی ایک کا نظام من و عن اپنا لے۔ اصل سبق یہ ہے کہ تعلیمی نظام اس وقت بہتر ہوتے ہیں جب بحث کا محور کنٹرول کے بجائے سیکھنے کا عمل بن جائے: یہ جانچا جائے کہ بچے کیا جانتے ہیں، اسکولوں کو اپنی ضروریات کے مطابق اقدامات کرنے کی آزادی دی جائے اور اداروں کو کاغذی کارروائی کے بجائے نتائج کا جواب دہ بنایا جائے۔

مصنوعی ذہانت کے باعث ان اصلاحات کی ضرورت مزید فوری ہو گئی ہے، کیونکہ یہ ناقص تعلیم کی قیمت نمایاں کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت پاکستان کے اسکولوں کے منظم ہونے کا انتظار نہیں کرے گی؛ یہ پہلے ہی طلبہ کے معلومات تلاش کرنے، لکھنے، ترجمہ کرنے، حساب لگانے، مشق کرنے اور امتحانات کی تیاری کے طریقے بدل رہی ہے۔ ایسے ماحول میں نصابی کتب کی اجارہ داری، رٹنے اور بیوروکریسی کی ہدایات پر عمل کرنے پر قائم نظام مزید پیچھے رہ جائے گا۔

مستقبل کے سرکاری اسکولوں کو بچوں کو سوال اٹھانا، دلیل کے ساتھ سوچنا، معلومات کی تصدیق کرنا، ڈیجیٹل ذرائع ذمہ داری سے استعمال کرنا اور ایسے مسائل حل کرنا سکھانا ہوگا جن کا جواب کسی تیار شدہ نمونے کو نقل کرکے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے اہل اساتذہ، لچک دار کلاس رومز، بہتر جائزہ نظام اور پیشہ ورانہ فیصلوں پر اعتماد ضروری ہے۔ اگر پاکستان اسکولوں کو اس طرح ضابطوں میں جکڑے رکھتا ہے جیسے سیکھنا کوئی دفتری کارروائی ہو، تو مصنوعی ذہانت ان بچوں کے درمیان فرق مزید بڑھا دے گی جو نئے ذرائع کو سمجھ داری سے استعمال کر سکتے ہیں اور ان کے درمیان جو رہنمائی کے بغیر محض ان ذرائع سے متعارف ہوتے ہیں۔

یہیں تعلیمی ناکامی معاشی ناکامی میں بدل جاتی ہے۔ پاکستان کو کم پیداواری صلاحیت والے کاموں سے افرادی قوت کو زیادہ قدر و قیمت کی حامل خدمات، صنعتوں اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں منتقل کرنے میں مسلسل مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ناقص اسکولی تعلیم اس ناکامی کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ بہت سے نوجوان اسکول چھوڑتے وقت حساب کتاب کی مضبوط صلاحیت، انگریزی، سائنسی استدلال، پروگرامنگ کی مہارت یا خودمختار انداز میں سیکھنے کا اعتماد حاصل نہیں کر پاتے۔

اس نقصان کو محض نظریاتی نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ اس پروگرامر کا نقصان ہے جسے کبھی مناسب تربیت نہیں ملی، اس ڈیٹا تجزیہ کار کا جس نے ریاضی پر عبور حاصل نہیں کیا، اس تکنیکی ماہر کا جو کبھی تجربہ گاہ تک نہیں پہنچا، اور اس کاروباری فرد کا جو مسائل حل کرنا نہیں سیکھ سکا۔ پاکستان میں لاکھوں نوجوان موجود ہیں جو کمپیوٹنگ کے انقلاب کو تقویت دے سکتے ہیں، لیکن ناقص اسکولی تعلیم ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھنے سے پہلے ہی محدود کر دیتی ہے۔

بھارت کا تجربہ اگرچہ خامیوں سے پاک نہیں، تاہم یہ ظاہر کرتا ہے کہ تکنیکی تعلیم، انگریزی میں پیشہ ورانہ تربیت اور عالمی ٹیکنالوجی خدمات سے روابط کے ذریعے تربیت حاصل کرنے کے قابل گریجویٹس کی بڑی تعداد تیار کی جا سکتی ہے۔ بھارت کی سافٹ ویئر اور آئی ٹی خدمات کے شعبے میں کامیابی صرف بلند و بالا دفتری عمارتوں سے حاصل نہیں ہوئی، بلکہ اس کی بنیاد انسانی سرمائے پر تھی۔ پاکستان مصنوعی ذہانت پر مبنی معیشت میں مقابلہ نہیں کر سکتا اگر اس کے اسکول طلبہ کو حسابی و منطقی سوچ، مسائل کے حل اور مسلسل سیکھنے کے بجائے محض معلومات یاد کرنے اور دہرانے کے لیے تیار کرتے رہیں۔

اسی لیے پاکستان کو تعلیمی ضابطہ بندی کا سنجیدہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہر منظوری، معائنے، رپورٹنگ کی شرط، نصابی کتب سے متعلق ضابطے، امتحانی طریقۂ کار اور عملے کی تعیناتی کے عمل کو اس کے مقصد، لاگت اور سیکھنے کے عمل پر اثرات کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔ بچوں کے تحفظ، کم از کم معیارات کی ضمانت اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے ضروری قواعد برقرار رہنے چاہییں، لیکن جو قواعد محض انتظامی کنٹرول کو قائم رکھتے ہیں انہیں ختم کر دینا چاہیے۔ اسکولوں کو منظور شدہ نصابی کتب میں سے انتخاب کی آزادی ہونی چاہیے، جبکہ نجی اداروں کو تحفظ، شفافیت اور سیکھنے کے کم از کم معیارات کے حوالے سے ضابطوں کا پابند بنایا جائے، نہ کہ ان کے ہر انتظامی اور عملی معاملے میں غیر ضروری مداخلت کی جائے۔

پاکستان کو وفاقی سطح پر تعلیمی صلاحیت اور ادارہ جاتی استعداد کی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن ایسی بڑی وزارت کی نہیں جو پورے ملک کے اسکولوں کا انتظام چلانے کی کوشش کرے۔ کینیڈا میں وفاقی وزارتِ تعلیم موجود نہیں؛ تعلیم کا انتظام صوبے اور علاقے چلاتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں بھی وفاقی وزارتِ تعلیم نہیں، جبکہ امریکا میں تعلیم کی بنیادی ذمہ داری ریاستوں اور مقامی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان میں وفاقی حکومت کا کردار قومی اعدادوشمار، تعلیمی جائزے، تحقیق، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور رابطہ کاری پر مرکوز ہونا چاہیے۔

اصول سادہ ہونا چاہیے: وفاقی حکومت معیارات، شواہد اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے؛ صوبے تعلیم کے لیے مالی وسائل اور معاونت فراہم کریں؛ مقامی حکومتیں اسکولوں کا انتظام چلائیں؛ اسکولوں کے سربراہان ان کی قیادت کریں؛ اور اساتذہ تدریس کریں۔ لہٰذا پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کا آغاز کنٹرول کی ایک اور تہہ قائم کرنے کے بجائے اسکولوں کے معاملات میں سیاسی صوابدید کو منظم انداز میں محدود کرنے سے ہونا چاہیے۔

اس تبدیلی کے بغیر ہر نئی اصلاح کلاس روم میں حقیقی بہتری لانے کے بجائے اوپر سے جاری ہونے والی ایک اور ہدایت بن کر رہ جائے گی۔