ایس ای سی پی کی قومی زرعی اسپاٹ مارکیٹ قائم کرنے کی تجویز
- اقدام سے کاشتکاروں کو بہتر قیمتیں دلانے، فصلوں کی برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنے اور مالی معاونت تک رسائی بڑھانے میں مدد ملے گی، ڈاکٹر کبیر احمد سدھو
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے قومی سطح پر زرعی اسپاٹ مارکیٹ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جہاں کسانوں، گوداموں، بینکوں اور خریداروں کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل تجارتی پلیٹ فارم کے ذریعے منسلک کیا جائے گا۔ اس اقدام سے کاشتکاروں کو بہتر قیمتیں دلانے، فصلوں کی برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنے اور مالی معاونت تک رسائی بڑھانے میں مدد ملے گی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی بین الاقوامی کانفرنس مشن 100 ارب ڈالر سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ مجوزہ مارکیٹ کے ذریعے زرعی تجارت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے معیاری درجہ بندی، شفاف بولی کے نظام اور الیکٹرانک گودام رسیدوں کو یکجا کیا جائے گا۔ زرعی منڈیوں کی نگرانی کا ضابطہ جاتی اختیار صوبائی حکام کے پاس برقرار رہے گا جبکہ ایس ای سی پی ٹیکنالوجی سے متعلق نظام وضع کرنے میں سہولت فراہم کرے گا۔
چیئرمین ایس ای سی پی نے کہا کہ زرعی منڈیوں میں اصلاحات پوری معیشت کے لیے اہم ہیں کیونکہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں زراعت کا حصہ 23.44 فیصد ہے۔ انہوں نے ملک کی فصلوں کی تخمینہ شدہ مالیت تقریباً 8.8 کھرب روپے بتاتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ کرنے اور مارکیٹنگ کے بنیادی ڈھانچے میں خامیوں اور نقصانات کی معاشی قیمت بہت زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فصلوں کی برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات کی شرح 20 سے 40 فیصد تک بتائی جاتی ہے جبکہ فصلوں کے ضیاع میں ہر ایک فیصد اضافے سے تقریباً 88 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ان کے مطابق فصلوں کی بہتر ہینڈلنگ، ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے انتظامات سے نہ صرف بڑی معاشی قدر کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ کاشتکاروں کی آمدن میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے زرعی پیداوار اور منظور شدہ گوداموں کی دستیاب گنجائش کے درمیان فرق کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ منظور شدہ گوداموں کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تقریباً 3 لاکھ 26 ہزار میٹرک ٹن ہے جبکہ روایتی طریقے سے ذخیرہ کی جا سکنے والی خشک زرعی اجناس کی سالانہ پیداوار تقریباً 5 کروڑ 57 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید گوداموں، کولڈ اسٹوریج کی سہولتوں اور مؤثر سپلائی چینز کی ترقی سے زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری راغب کی جا سکتی ہے، اجناس کا ضیاع کم کیا جا سکتا ہے اور برآمدی خریداروں تک رسائی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔