✕
کاروبار اور معیشت

اے آئی شعبے میں عدم استحکام سے ڈالر دباؤ کا شکار، یورو کی قدر میں بہتری

  • رواں ہفتے اے آئی سے وابستہ کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں شدید گراوٹ آئی
شائع اپ ڈیٹ

ڈالرجمعہ کو پانچ ہفتوں میں پہلی بار ہفتہ وار گراوٹ کی جانب گامزن رہا جس سے یورو کو 17 ماہ کی کم ترین سطح سے بحالی میں مدد ملی۔ اے آئی میں سرمایہ کاری سے متعلق غیر یقینی صورت حال اور امریکی بانڈز کے منافع میں کمی نے ڈالر کی حالیہ تیزی کی رفتار روک دی۔

رواں ہفتے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں شدید گراوٹ آئی جبکہ اس کے اثرات قرضوں کی مارکیٹ کے بعض حصوں تک بھی پھیل گئے۔ اے آئی کی پوری سپلائی چین میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز چلانے والی کمپنیاں اپنے قرضوں کی ادائیگی کیلئے بروقت منافع کمانے کے قابل نہیں ہوسکیں گی۔

اس صورت حال کے نتیجے میں اب تک سرمایہ کاروں نے امریکی ٹریژری بانڈز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے جس کے باعث 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز پر منافع ایک سال سے زائد عرصے میں سب سے بڑی ہفتہ وار کمی کی جانب گامزن ہے۔ دوسری جانب ڈالر کی فروخت کا رجحان بھی بڑھا ہے جس کی قدر میں اضافے کی ایک وجہ اے آئی صنعت میں تیزی کے باعث امریکی معیشت کو ملنے والی تقویت بھی تھی۔

ایشیا میں جمعہ کی صبح کرنسی مارکیٹ میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ڈالر رواں ہفتے 0.2 فیصد کمی کے بعد 158.13 ین پر آگیا جبکہ یورو کے مقابلے میں اس کی قدر تقریباً 0.1 فیصد گھٹ کر 1.1210 ڈالر رہ گئی۔

ڈالر کے مقابلے میں یورو کی قدر میں یہ بحالی ایسے وقت میں ہوئی جب اس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی۔ گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران فرانس کے بڑھتے قرضوں اور موسم سرما میں توانائی کی قلت کے خدشات کے باعث یورو ڈالر کے مقابلے میں 3 فیصد سے زیادہ قدر کھو چکا تھا۔

چونکہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں نے ڈالر کی قدر بڑھنے کی توقع پر بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، اس لیے اے آئی صنعت سے متعلق خدشات میں مزید اضافے کی صورت میں وہ اپنی پوزیشنیں ختم کرسکتے ہیں جس سے ڈالر پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

اسپیکٹرا مارکیٹس کے صدر برینٹ ڈونلی نے کہا کہ اے آئی پر سرمایہ جاتی اخراجات میں تیزی سے متعلق توقعات میں نمایاں کمی کی صورت میں ڈالر کا ردعمل واضح طور پر اس کی قدر میں گراوٹ کی شکل میں سامنے آنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مارکیٹ یہ سمجھنے لگے کہ اے آئی پر سرمایہ جاتی اخراجات عروج پر پہنچنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں تو ڈالر فروخت کرنا چاہیے۔ امریکی معیشت کی پوری عمارت اے آئی سے وابستہ سرمایہ کاری کے ایک ہی سہارے پر کھڑی ہے۔

ڈالر انڈیکس 102.07 پر رہا اور رواں ہفتے 0.14 فیصد کمی کی جانب گامزن ہے۔ برطانوی پاؤنڈ کی قدر 1.3270 ڈالر پر مستحکم رہی جبکہ ہفتہ وار بنیاد پر اس میں 0.3 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس کی وجہ برطانیہ کی معیشت سے متعلق اعدادوشمار ہیں جن کے مطابق اگست میں ملکی معیشت غیر متوقع طور پر 0.1 فیصد بڑھی۔

نیوزی لینڈ کے ڈالر کی قدر 0.5621 امریکی ڈالر رہی اور اس میں ہفتہ وار بنیاد پر 0.1 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

آسٹریلوی ڈالر 0.6921 امریکی ڈالر پر مستحکم رہا، تاہم یہ دیگر بڑی کرنسیوں کے برعکس رواں ہفتے ڈالر کے مقابلے میں 0.8 فیصد کمی کی جانب گامزن ہے۔ اس کی وجہ جمعرات کو روزگار کے توقعات سے کمزور اعداد و شمار سامنے آنا ہے جس کے بعد مارکیٹ نے شرح سود میں ایک اور اضافے کے امکانات سے متعلق اپنی توقعات کم کر دیں۔

امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش جمعہ کو بنکاک میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ان کا خطاب پاکستانی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 30 منٹ پر ہوگا۔ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلے سے قبل یہ مارکیٹ کی توقعات پر اثرانداز ہونے کا آخری موقع ہوگا۔

کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی اسٹریٹجسٹ کیرول کانگ نے کہا کہ وارش کی مستقبل کی مالی پالیسی سے متعلق پیشگی رہنمائی سے ناپسندیدگی کو دیکھتے ہوئے، وہ اکتوبر میں شرح سود کے فیصلے کے بارے میں اپنی ترجیح کا بالواسطہ اشارہ دے سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وارش کی جانب سے ملنے والا کوئی بھی اشارہ آج اکتوبر میں فیڈرل ریزرو کے ممکنہ فیصلے سے متعلق مارکیٹ کی توقعات اور امریکی ڈالر کی قدر پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق سرمایہ کار رواں ماہ کے آخر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کے 72 فیصد امکانات ظاہر کر رہے ہیں، جو ایک ماہ قبل 53 فیصد تھے۔

رواں ہفتے صارف قیمتوں کے توقعات سے زیادہ اضافے کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد شرح سود بڑھانے کے امکانات سے متعلق توقعات میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ تاہم فیڈرل ریزرو حکام کے اس بیان کے بعد کہ مرکزی بینک اجلاس سے قبل صورت حال مزید واضح ہونے کا انتظار کر سکتا ہے، شرح سود میں اضافے پر سرمایہ کاروں کی شرطیں کم ہو گئیں۔