✕
کاروبار اور معیشت

پنجاب میں لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم کے دوسرے مرحلے کا آغاز، 16.2 ارب روپے کے بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے

  • آئندہ دو سال کے دوران 6 لاکھ جانوروں کی متوازن غذائی ضروریات پوری کرکے گوشت کی پیداوار بڑھانے کا ہدف مقرر
شائع اپ ڈیٹ

پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد پنجاب حکومت نے لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت آئندہ دو سال کے دوران 6 لاکھ جانوروں کی متوازن غذائی ضروریات پوری کرکے گوشت کی پیداوار بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لائیو اسٹاک کارڈ سوائپ کرکے ڈیجیٹل طریقے سے اسکیم کے دوسرے مرحلے کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر محکمہ لائیو اسٹاک کے اقدامات کو اجاگر کرنے کے لیے ایک خصوصی دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔

وزیراعلیٰ نے اسکیم کے پہلے مرحلے میں 96 فیصد قرضوں کی واپسی کی شرح حاصل ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک عاشق حسین کرمانی اور سیکریٹری لائیو اسٹاک احمد عزیز تارڑ نے انہیں اسکیم کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ کے مطابق دوسرے مرحلے میں مویشی پال کسانوں کو مجموعی طور پر 16.2 ارب روپے کے بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ لائیو اسٹاک کارڈ کے ذریعے فی جانور 27 ہزار روپے تک کی مالی معاونت دی جائے گی، جس سے کسان ونڈا (جانوروں کی خوراک)، سائیلج، منرل مکسچر اور دیگر ضروری اشیا خرید سکیں گے۔ قرضوں کی اصل رقم کسان واپس کریں گے، جبکہ سود کی ادائیگی پنجاب حکومت کرے گی۔

اسکیم کے تحت جانوروں کی مفت ٹیگنگ اور منہ کھر کی بیماری (ایف ایم ڈی) سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ مزید برآں کسان اپنے بلا سود قرضوں کی 25 فیصد رقم اے ٹی ایم کے ذریعے نقد نکلوا سکیں گے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ لائیو اسٹاک کنیکٹ پورٹل کے ذریعے اب تک 23 ہزار کسانوں کو براہِ راست گوشت برآمد کرنے والوں سے منسلک کیا جا چکا ہے۔ پنجاب حکومت نے گوشت کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے آٹھ بڑے برآمد کنندگان کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے ہیں۔

اس کے علاوہ پنجاب ایگریکلچر اینڈ میٹ کمپنی (پامکو) کے ذریعے چین، سعودی عرب، خلیجی ممالک، آذربائیجان، ازبکستان اور یورپی منڈیوں میں گوشت کی برآمدات کو فروغ دینے اور اس عمل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بھی مفاہمتی یادداشتیں کی گئی ہیں۔

اسکیم کے نتائج کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم کے تحت رجسٹرڈ خواتین مویشی پال کسانوں کی تعداد 90 سے بڑھ کر 1,107 ہو گئی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے سے جانوروں کی برآمدات میں 43 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گوشت کی برآمدات کی مالیت میں 96 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اعدادوشمار کے مطابق پنجاب بھر میں کسانوں کے لیے مجموعی طور پر 23,312 لائیو اسٹاک کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ اسکیم کے تحت 1,739 کسانوں نے 70 ہزار سے زائد مالی لین دین کیے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کسانوں نے منرل مکسچر کی خریداری پر 2 کروڑ روپے، سائیلج پر 8 کروڑ 70 لاکھ روپے اور ونڈا (جانوروں کی خوراک) پر 89 کروڑ 26 لاکھ روپے خرچ کیے۔

لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے خواہش مند مویشی پال کسان آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔