بجلی کی مسلسل بندش سے صنعتی پیداوار متاثر ہورہی ہے، کراچی چیمبر
- شہر کے لوگوں کو طویل اور غیر متوقع بجلی کی طویل بندش کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، طلعت محمود
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) کے صدر طلعت محمود نے کے الیکٹرک کی جانب سے کراچی بھر میں طویل اور بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ بجلی کی مسلسل بندش صنعتی پیداوار، تجارتی سرگرمیوں، روزگار اور لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ شروع کیے جانے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی پریشان کن امر ہے کہ ملک کا اہم ترین تجارتی و صنعتی مرکز اور قومی خزانے کا بڑا حصہ دار اور ملکی معیشت کی بقا کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل شہرِ کراچی مسلسل غیر یقینی بجلی فراہمی کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب کراچی کی صنعتوں، کاروباری اداروں اور گھروں کو بار بار اندھیروں میں دھکیلا جائے گا تو کراچی سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی کہ وہ پاکستان کی معیشت کو آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی ایک بنیادی سہولت ہے کوئی مراعات نہیں۔ اس شہر کے لوگوں کو طویل اور غیر متوقع بجلی کی طویل بندش کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کے الیکٹرک کو وضاحت کرنی چاہیے کہ کراچی کو مسلسل اس بحران کا کیوں سامنا ہے اور اسے مستقل طور پر حل کرنے کے لیے کیا ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیا جن میں بعض علاقوں میں روزانہ 14گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ اور پہلے سے مستثنیٰ علاقوں میں بھی اضافی بجلی بندش کی نشاندہی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال عوام کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ بجلی کی بندش محض تکلیف نہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں، صنعتی مسابقت اور ملک کی برآمدات کی کارکردگی میں براہ راست رکاوٹ ہے۔
طلعت محمود نے نشاندہی کی کہ کراچی کی صنعتیں پہلے ہی توانائی کی زائد قیمتوں، بڑھتی پیداواری لاگت اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں سخت مسابقت جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ بجلی کی اضافی بندش کے باعث کاروباری لاگت مزید بڑھ رہی ہے، پیداواری شیڈولز متاثر ہورہے ہیں، مال کی ترسیل میں تاخیر ہورہی ہے اور برآمدی معاہدوں کی تکمیل خطرے میں پڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کا ہر گھنٹہ پیداواری نقصان، وسائل کے ضیاع، اضافی اخراجات اور کاروبار کے لیے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کا سبب بنتا ہے۔ برآمد کنندگان بجلی کی غیر یقینی فراہمی کے ساتھ بین الاقوامی آرڈرز پورے نہیں کر سکتے اور نہ ہی صنعتکار اس وقت پیداوار برقرار رکھ سکتے ہیں جب پروڈکشن لائنز بار بار رک جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بالآخر اس صورتحال کی قیمت کاروباری اداروں، مزدوروں، صارفین اور ملکی معیشت کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
صدر کے سی سی آئی نے زور دیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان میں سے بیشتر مہنگے متبادل پاور انتظامات کی استطاعت نہیں رکھتے۔ بجلی کی طویل بندش سے دکانیں، مارکیٹیں، دفاتر، سروس فراہم کرنے والے ادارے اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے بے شمار مزدوروں کو بھی متاثر کرتی ہے جن کا روزگار مسلسل کاروباری سرگرمیوں پر منحصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے تازہ ترین لوڈ مینجمنٹ کو قومی سطح پر آر ایل این جی کی فراہمی کی مشکلات اور بین الاقوامی سپلائی میں خلل سے منسوب کیا ہے ۔ان مسائل کا سارا بوجھ شفاف وضاحت، مؤثر ہنگامی منصوبہ بندی اور بجلی کی بندش کم سے کم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کے بغیر صارفین پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایندھن کی فراہمی کی رکاوٹیں بجلی کی پیداوار کے لیے حقیقی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں تاہم ایسی صورتحال میں کنٹینجنسی پلاننگ، شفاف معلومات کی فراہمی اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔صارفین سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہر بار سپلائی کے مسائل کے نتائج طویل لوڈشیڈنگ کی صورت میں برداشت کریں جبکہ انہیں ریلیف کے لیے نہ کوئی واضح مدت بتائی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ اعتماد منصوبہ پیش کیا گیا ہو۔
طلعت محمود نے کے الیکٹرک سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے لوڈ مینجمنٹ انتظامات کا ازسرنو جائزہ لے، دستیاب بجلی کی پیداواری صلاحیت اور بجلی کی فراہمی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرے، متعلقہ وفاقی حکام کے ساتھ مؤثر رابطہ کرے اور بجلی کی معمول کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے۔
صدر کے سی سی آئی نے وفاقی وصوبائی حکومتوں، وزارت توانائی اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں، بحران کے اصل وجوہات اور بحران میں اضافے کا جائزہ لیں اور یہ بات یقنی بنائی جائے کہ بجلی کی کمی کو شفاف، منصفانہ اور مقررہ مدت پر مشتمل نظام وضع کیا جائے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کے سی سی آئی تاجر برادری کے تحفظات کو ہر متعلقہ فورم پر اٹھاتا رہے گا اور کراچی کی صنعتوں، تجارتی اداروں اور شہریوں کے لیے قابل اعتماد اور سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔