غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مبینہ اغوا پر بھائی کا ہائی کورٹ سے رجوع
- درخواست کی فوری سماعت مقرر کرنے کی استدعا
پشاور ہائی کورٹ میں خیبرپختونخوا کے غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی فوری بازیابی کے لیے آئینی درخواست دائر کردی گئی ہے۔ ان کے بھائی نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعلیٰ ہاؤس سے انہیں اغوا کرکے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔
سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر کی جانب سے دائر درخواست میں عدالت سے فوری کارروائی، وزیراعلیٰ کی بازیابی اور انہیں عدالت میں پیش کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ سہیل آفریدی کے فیس بک پیج پر جاری بیان کے مطابق درخواست میں یہ مطالبات کیے گئے ہیں۔
درخواست گزار نے الزام لگایا کہ مسلح اور نقاب پوش افراد نے پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) کی موجودگی میں منتخب وزیراعلیٰ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے مطابق مبینہ اغوا اور حراست آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی جان اور آزادی کو سنگین خطرات لاحق ہیں، جبکہ ان کی مسلسل حراست اور مقام کے بارے میں معلومات فراہم نہ کیے جانے سے اہم آئینی سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ درخواست میں آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10 اور 14 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ سی سی پی او پشاور کو مبینہ واقعے اور اس وقت کیے گئے سیکیورٹی انتظامات کی مکمل تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ ساتھ ہی یہ وضاحت طلب کی گئی ہے کہ سہیل آفریدی کہاں ہیں، انہیں کس کی تحویل میں رکھا گیا ہے اور یہ حراست کس قانونی اختیار کے تحت ہے۔
درخواست میں مبینہ اغوا کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات، ملوث افراد کی شناخت اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
مزید برآں عدالت سے واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، سیکیورٹی ریکارڈ اور دیگر شواہد فوری طور پر محفوظ کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ پولیس حکام سے وزیراعلیٰ کی بازیابی کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت پر زور دیا ہے کہ سہیل آفریدی کی سلامتی، آزادی اور تحفظ یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملے پر کارروائی میں تاخیر ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ درخواست میں ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ مقدمے کی سماعت فوری طور پر مقرر کی جائے۔