اپٹما کا درآمدی فراڈ کے خلاف کسٹمز کی کارروائی کا خیرمقدم
- مقامی صنعت کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، ایسوسی ایشن
پاکستان کے ٹیکسٹائل مل مالکان نے درآمدی فراڈ کے خلاف کسٹمز کی کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی صنعت کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے اشیا کی غلط بیانی اور ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے ناجائز استعمال، بالخصوص کپڑے کی درآمدات میں بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کرنے پر پاکستان کسٹمز کو سراہا ہے، تاہم غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے پر زور دیا ۔
اپٹما نے کہا کہ ای ایف ایس کے تحت ڈیوٹی اور ٹیکس سے مستثنیٰ درآمدات غیر ملکی مصنوعات کو مقامی خام مال کے مقابلے میں غیر منصفانہ برتری فراہم کرتی ہیں کیونکہ مقامی خام مال پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ ای ایف ایس سے سوتی دھاگے کو خارج کیے جانے کے بعد اس کی درآمدات میں پہلے ہی 42 فیصد کمی آچکی ہے جو مالی سال 2027ء کی پہلی سہ ماہی میں گھٹ کر 21 ہزار 587 ٹن رہ گئیں۔
تاہم ایسوسی ایشن نے مصنوعی دھاگے اور کپڑے کی درآمدات میں مسلسل بے ضابطگیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ مالی سال 2024ء کی پہلی سہ ماہی سے ای ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت مصنوعی دھاگے کی درآمدات 3 ہزار 56 ٹن سے بڑھ کر 12 ہزار 773 ٹن، جبکہ کپڑے کی درآمدات 660 ٹن سے بڑھ کر 8 ہزار 628 ٹن ہو گئیں، تاہم اس دوران برآمدات میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔ حال ہی میں کسٹمز حکام نے کپڑے کو رنگا ہوا ظاہر کرنے کے لیے اس پر کھانے میں استعمال ہونے والا رنگ لگانے کا معاملہ بھی پکڑا۔
اپٹما نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ای ایف ایس سے کسٹمز ٹیرف کے چیپٹرز 52 اور 55 کے تحت آنے والے تمام دھاگوں اور کپڑے کو خارج کیا جائے، کسٹمز ویلیو میں ہر سہ ماہی نظرثانی کی جائے اور کم مالیت ظاہر کرکے درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لیے ایف بی آر کے ساتھ مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ روزگار اور سرکاری محصولات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔