وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اکتوبر کو آئین کے بالترتیب آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکی پر عملدرآمد کے بعد پاکستان کا جمہوری سفر مزید غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہوگیا ہے، کیونکہ ایک منتخب صوبائی حکومت کو ہٹائے جانے سے ملک میں پہلے سے موجود جمہوری فقدان مزید گہرا ہوگیا ہے۔
اگرچہ وفاقی وزرا نے پریس کانفرنس میں اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پر عسکریت پسندی سے مؤثر طور پر نمٹنے میں ناکامی، سکیورٹی معاملے پر وفاق کے ساتھ تعاون نہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تصفیے کی بار بار ہونے والی کوششوں کو ناکام بنانے کے الزامات عائد کیے، تاہم یہ سوال بدستور تشویشناک ہے کہ آیا صوبے کی مخدوش سکیورٹی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ووٹرز کے مینڈیٹ کو بالائے طاق رکھنا سب سے موزوں اقدام تھا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران عسکریت پسندوں کے تشدد میں اضافہ ہوا ہے جس سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر ردِعمل اور ریاست کی عملداری اور قانون کی حکمرانی بحال کرنے کی غرض سے مشترکہ اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ سکیورٹی اور طرزِ حکمرانی کے حوالے سے پی ٹی آئی کی حکومت سے بھی کوتاہیاں سرزد ہوئی ہیں، بالخصوص عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ مذاکرات پر اس کا مسلسل اصرار، حالانکہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ یہ گروہ تشدد ترک کرنے پر آمادہ نہیں اور ریاست کی رِٹ کو مسلسل چیلنج کررہے ہیں۔ تاہم یہ مسئلہ کسی ایک حکومت کی کارکردگی تک محدود نہیں ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے بارہا خبردار کرچکے ہیں کہ فوجی کارروائیوں کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مقامی آبادی کے ساتھ بامعنی سیاسی روابط اور متاثرہ علاقوں میں مؤثر شہری طرزِ حکمرانی کے بغیر برقرار رکھنا مشکل ہے۔ ان اقدامات کے فقدان میں عسکریت پسندوں کے نیٹ ورکس دوبارہ منظم ہوسکتے ہیں جس سے بھاری جانی و مالی قیمت چکانے کے بعد حاصل ہونے والی کامیابیاں بھی ضائع ہوسکتی ہیں۔
مقامی آبادی کے لیے یہ صورتِ حال شدید مایوس کن ہے۔ لوگ بار بار فوجی کارروائیوں، نقل مکانی اور روزگار و معاش کے ذرائع سے محرومی کا سامنا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود عسکریت پسندی برقرار رہتی ہے یا دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے۔ اس سے ریاست کی جانب سے پائیدار امن قائم کرنے کی صلاحیت پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ نتیجتاً مقامی باشندوں کی جانب سے فوجی کارروائیوں کی حمایت کرنے یا عسکریت پسندوں کے خلاف تعاون کرنے کے امکانات کمزور پڑجاتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ رہتا ہے کہ عسکریت پسند بالآخر واپس آجائیں گے۔
اس چکر کو توڑنے کے لیے نہ صرف مؤثر سکیورٹی اقدامات بلکہ سیاسی روابط، عوامی ضروریات کا جواب دینے والا انتظامی نظام اور فوجی کارروائیوں کے اختتام کے بعد بھی ریاست کی مسلسل موجودگی ضروری ہے۔ ان مقاصد کا حصول فعال شہری اداروں اور منتخب نمائندوں کے تعاون پر منحصر ہے جس سے سیاسی روابط کی اہمیت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔
اس پس منظر میں وفاقی حکومت کا گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ حد سے آگے بڑھنے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔
بگڑتی سکیورٹی صورتِ حال فیصلہ کن مداخلت کی متقاضی تھی، تاہم وفاقی حکومت خود کو آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ہنگامی حالت نافذ کرنے تک محدود رکھ سکتی تھی۔ اس طرح وزیراعلیٰ، صوبائی کابینہ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کو کام جاری رکھنے کا موقع ملتا جبکہ اسلام آباد کو سکیورٹی بحران سے نمٹنے کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہوجاتے۔ ان اختیارات میں ہنگامی حالت کے دوران صوبائی امور سے متعلق قانون سازی کا اختیار بھی شامل ہے جس کے تحت متضاد صوبائی قانون سازی پر وفاقی قانون کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔
اس طرح کے انتظام سے منتخب صوبائی حکومت کے پورے انتظامی ڈھانچے کو معطل کیے بغیر وفاق کے اختیارات اور پوزیشن کو مضبوط بنایا جاسکتا تھا۔ اس کے برعکس آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کرنے سے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل ہوجاتے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات پارلیمان کے سپرد ہوجاتے ہیں۔
چنانچہ یہ فیصلہ نہ صرف پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر وفاق کے گہرے عدم اعتماد کا اظہار کرتا ہے بلکہ خیبر پختونخوا کے ووٹرز کی جانب سے اسے دیے گئے انتخابی مینڈیٹ کو بھی نظرانداز کرتا ہے۔
اب فوری ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ اس محاذ آرائی کو صوبے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں ایک اور رکاوٹ بننے سے روکا جائے۔ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے تاکہ دہشت گردی کے خلاف ایک قابلِ عمل حکمتِ عملی پر اتفاق کیا جا سکے، وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان مؤثر رابطہ و ہم آہنگی یقینی بنائی جاسکے اور خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت کی بحالی کی راہ ہموار ہو۔
گورنر راج کو سیاسی مذاکرات کا طویل مدتی متبادل نہیں بننا چاہیے۔ اگر اس اقدام کا کوئی جواز ہے بھی تو اس کا دائرۂ کار واضح اور محدود ہونا چاہیے اور اس کا نفاذ عارضی مدت کے لیے ہونا چاہیے جبکہ منتخب حکومت کی بحالی بنیادی اور مقدم ترین مقصد ہو۔
خیبر پختونخوا کے عوام تحفظ، مؤثر حکمرانی اور اپنے مستقبل کے فیصلوں میں بامعنی شرکت کے حق دار ہیں۔ انہیں اس انتخاب پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ یا تو عسکریت پسندی سے ریاستی تحفظ حاصل کریں یا اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت چلانے کے جمہوری حق سے دستبردار ہو جائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026