اسٹیٹ بینک نے ہاؤسنگ فنانس کیلئے جائیداد کی دستاویزات کی شرائط نرم کردیں
- ان ترامیم کا مقصد رہن کے لیے دستاویزات کی شرائط آسان اور یکساں بنانا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ہاؤسنگ فنانس سے متعلق ضوابط میں ترمیم کرتے ہوئے جائیداد کی دستاویزات کی شرائط آسان بنا دی ہیں، تاکہ قرض لینے والوں کو سہولت فراہم کرنے اور رہن کے طریقہ کار کو معیاری بنانے میں مدد مل سکے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق، ہاؤسنگ فنانس حاصل کرنے والے صارفین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ضابطہ پی آر ایچ ایف 7 (ملکیتی دستاویزات اور ضمانتی انتظامات) کے تحت جائیداد رہن رکھنے کے لیے درکار دستاویزات میں ترمیم کی گئی ہے۔
ان ترامیم کا مقصد رہن کے لیے دستاویزات کی شرائط آسان اور یکساں بنانا ہے۔
نظرثانی شدہ ضابطہ ایچ ایف 7 کے تحت بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں (ڈی ایف آئیز) کو ہاؤسنگ فنانس کی ضمانت کے لیے صرف وہی ملکیتی اور جائیداد سے متعلق دستاویزات حاصل کرنا ہوں گی جن کی فہرست اسٹیٹ بینک نے فراہم کی ہے۔ دستاویزات وصول کرنے کے بعد بینک یا مالیاتی ادارہ قرض لینے والے کو ایک دستخط شدہ رسید فراہم کرے گا، جس میں موصول ہونے والی تمام ملکیتی اور جائیداد سے متعلق دستاویزات کی فہرست درج ہوگی۔
اسٹیٹ بینک نے مزید وضاحت کی ہے کہ بینک یا مالیاتی ادارے سے مالی اعانت کے ذریعے خریدے گئے مکان، اپارٹمنٹ یا پلاٹ کو قرض فراہم کرنے والے ادارے کے حق میں غیر عدالتی یا رجسٹرڈ رہن کے ذریعے رہن رکھنا ہوگا۔
تاہم، 50 لاکھ روپے تک کے ہاؤسنگ فنانس کے لیے بینک اور مالیاتی ادارے متعلقہ لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ریکارڈ میں جائیداد پر حقِ تصرف کی پابندی (لین) درج کرکے بھی مالی اعانت فراہم کرسکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے قابلِ تجدید توانائی کے لیے مالی اعانت میں بھی سہولت دی ہے، جس کے تحت بینک اور مالیاتی ادارے کسی ضمانت کے بغیر یا نصب شدہ اثاثوں، بشمول سولر پینلز، انورٹرز، بیٹریوں اور متعلقہ آلات کو رہن رکھ کر مالی اعانت فراہم کرسکتے ہیں۔
مزید برآں، پنجاب حکومت کے جاری کردہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ یا دیگر صوبوں میں متعلقہ مجاز اتھارٹی کے جاری کردہ مساوی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر بھی ہاؤسنگ فنانس فراہم کیا جاسکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ یہ سرٹیفکیٹس ملکیت، قبضے اور جائیداد کے حقِ ملکیت کی مکمل تصدیق کرتے ہیں، لہٰذا ایسے سرٹیفکیٹ کی حامل جائیداد کے لیے اضافی آبائی تاریخی یا علیحدہ ملکیتی دستاویزات جمع کرانا ضروری نہیں ہوگا۔
اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو نظرثانی شدہ ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، جبکہ سابقہ سرکلر کی دیگر تمام ہدایات برقرار رہیں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026