✕

وزیراعظم شہباز شریف نے استحکام پر مبنی پالیسیوں سے آگے بڑھ کر ترقی کو فروغ دینے والی پالیسیوں کی جانب منتقلی پر زور دیا جن میں برآمدات، پیداواری صلاحیت، روزگار اور ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کی جائے۔ اگرچہ بہت سے لوگوں کے نزدیک وزیراعظم کا یہ مطالبہ ایک بڑا چیلنج ہوسکتا ہے، تاہم معاشی نظریے کے مطابق اقتصادی ترقی برآمدات، پیداواری صلاحیت اور روزگار میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن یہاں اہم لفظ ’’سکتی ہے‘‘ ہے، کیونکہ معاشی ترقی کا عمل شروع کرنے کے لیے موزوں میکرو اکنامک پالیسیوں کا ہونا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسی روز کراچی میں کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے میکرو اکنامک استحکام کو مستحکم بنیادوں پر برقرار رکھنے اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی و سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے مقصد سے چھ ترجیحات کا خاکہ پیش کیا۔ ان ترجیحات میں پائیدار مالی اور بیرونی شعبے کے استحکام کے ذریعے معاشی استحکام کو مستقل حیثیت دینا اور معیشت کی دھچکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت مضبوط بنانا، نیز استحکام کی پالیسیوں سے آگے بڑھ کر پیداواری صلاحیت، برآمدات اور روزگار پر مبنی پائیدار، جامع اور ذمہ دارانہ ترقی کی جانب منتقلی شامل ہے۔

وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے گئے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق رواں سال جولائی اور اگست کے دوران نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کا خالص بہاؤ منفی 36 کروڑ 45 لاکھ روپے رہا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ منفی 17 کروڑ روپے تھا۔ اعدادوشمار کے مطابق جولائی اور اگست 2025 میں برآمدات 5.24 ارب ڈالر سے معمولی اضافے کے ساتھ رواں سال اسی عرصے میں 5.44 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ درآمدات 10.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 11.6 ارب ڈالر ہو گئیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی 10 اکتوبر 2024 کی دستاویز، بعنوان ’’آرٹیکل فور مشاورت اور توسیعی فنڈ سہولت کی درخواست‘‘ میں کہا گیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ معاشی اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کی معیشت میں تیزی اور مندی کے ادوار اور اس کی میکرو اکنامک پالیسیوں کے درمیان گہرا تعلق رہا ہے۔ یہ چکر اقتصادی ترقی میں خلل ڈالتے، اعتماد کو کمزور کرتے اور عوام کے معیارِ زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

ان معاشی چکروں میں زری پالیسی کے کردار کو سمجھنے سے اقتصادی استحکام کے حصول کے لیے حکمتِ عملی وضع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔دستاویز کے ضمیمہ چہارم میں فنڈ نے مزید وضاحت کی ہے کہ مالی اور زری ترغیبات کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی بار بار کی جانے والی کوششیں پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل نہیں ہوسکیں کیونکہ ملکی طلب پاکستان کی پائیدار معاشی استعداد سے تجاوز کرگئی۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھی اور زرمبادلہ ذخائر میں کمی آئی جبکہ شرحِ مبادلہ کو مستحکم رکھنے کو سیاسی طور پر خاص ترجیح حاصل رہی۔ ہر آنے والے معاشی بحران نے پالیسی سازی کی ساکھ اور سرمایہ کاری کے رجحان کو مزید نقصان پہنچایا۔

آج بھی پاکستان کی میکرو اکنامک پالیسیاں آئی ایم ایف کے جاری توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ پاکستان میں شرحِ سود 11.5 فیصد ہے جو خطے کی بلند ترین شرح میں سے ایک ہے۔ بجلی اور گیس کے نرخ بھی مسابقتی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں جس کے باعث پیداواری لاگت اس سطح تک بڑھ گئی ہے کہ پاکستانی برآمدات عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں رہتیں۔ اسی طرح ان نرخوں کی وجہ سے بہت سی صنعتی اکائیوں کے لیے مقامی منڈی کی طلب پوری کرنے کی غرض سے پیداوار جاری رکھنا بھی غیر پُرکشش ہوگیا ہے، کیونکہ طویل اور غیر محفوظ سرحدوں کے باعث اسمگلنگ انتہائی منافع بخش بن جاتی ہے۔آزاد ماہرینِ معاشیات کے مطابق لیبر فورس سروے کو مدنظر رکھا جائے تو بے روزگاری کی شرح 22 فیصد کی بلند سطح تک پہنچ چکی ہے جبکہ عالمی بینک کے مطابق غربت کی شرح بڑھ کر 44 فیصد ہو گئی ہے۔

اس کے باوجود یہ بات اہم ہے کہ ملکی معیشت بدستور خاصی کمزور ہے۔ اس کمزوری کا اندازہ دو ایسے اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے جو بظاہر معاشی استحکام حاصل ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اول اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 25 ستمبر 2026 تک بڑھ کر ریکارڈ 21 ارب 439 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے۔ رواں سال 27 فروری کو مشرقِ وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے سے قبل یہ ذخائر آٹھ ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی ہوتے لیکن اب ان سے بمشکل تین ماہ سے کچھ زیادہ کی درآمدات پوری ہونے کا اندازہ ہے۔ یہ وہ کم از کم سطح ہے جس کی سفارش مالی معاونت فراہم کرنے والے ادارے کرتے ہیں۔

دوم، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے بعد، جو اب بھی سرمایہ کاری کے قابل درجے سے نیچے ہے، تجارتی قرضوں تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، ان قرضوں پر عموماً کثیرالجہتی اور دوطرفہ قرض دہندگان کے مقابلے میں زیادہ شرحِ سود ادا کرنا پڑتی ہے۔

کثیرالجہتی اور دوطرفہ قرض دہندگان، نیز عالمی تجارتی مالیاتی منڈیوں میں اپنی ساکھ اور اثرورسوخ بڑھانے کے لیے حکومت کو آئی ایم ایف کی عائد کردہ میکرو اکنامک شرائط کے دائرے میں رہتے ہوئے پالیسی سازی کی گنجائش پیدا کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان پالیسیوں پر مستقل مزاجی سے عمل درآمد اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ آئی ایم ایف نے چند روز قبل ہی پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کیا ہے جو قرض کی اگلی قسطوں کے اجرا کے ساتھ ساتھ چین اور سعودی عرب کی جانب سے قرضوں کی تجدید کی بنیاد بھی بنتا ہے۔

آئی ایم ایف کے ملکی پالیسیوں اور مخصوص شعبوں پر وسیع اثرورسوخ کے پیش نظر حکومت کے پاس متبادل راستے محدود ہیں۔ درحقیقت، 10 اکتوبر کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پروگرام کے تحت طے شدہ پالیسیوں پر مستقل عمل درآمد سے انحراف کے باعث ملکی اور بیرونی شعبوں میں نمایاں عدم توازن پیدا ہوا ہے۔ پاکستان کے اس وقت آئی ایم ایف کے 25ویں پروگرام میں ہونے کے تناظر میں یہ ایک سنگین الزام ہے۔

لہٰذا وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی توجہ بجٹ میں مختص جاری اخراجات میں کم از کم 2 سے 3 کھرب روپے کی کمی کرنے پر ہونی چاہیے۔ یہ ہدف پنشن اصلاحات متعارف کرانے، تمام غیر عملیاتی اخراجات میں نمایاں کٹوتی کرنے اور ٹیکس دہندگان کے خرچ پر تنخواہوں میں اضافے سے گریز کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ محصولات بڑھانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ٹیکس اصلاحات کوآرڈینیشن گروپ کی 2010ء سے 2013ء کے دوران پیش کردہ سفارشات سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ ان سفارشات کو اُس وقت بہت سراہا گیا تھا، لیکن ان پر کبھی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026