✕
کاروبار اور معیشت

برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن، پی آئی اے کا دو بوئنگ ڈریم لائنر طیارے حاصل کرنے کا معاہدہ

  • بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیاروں کی شمولیت قومی ایئرلائن کی توسیع کے عمل کا آغاز ہے، ترجمان
شائع اپ ڈیٹ

پی آئی اے نے نومبر 2026 تک دو بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیارے حاصل کرنے کے لیے نورس اٹلانٹک کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیے۔

پی آئی اے کے مطابق بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیاروں کی شمولیت قومی ایئرلائن کی توسیع کے عمل کا آغاز ہے۔

بیڑے میں طیاروں کی تعداد بڑھا کر ایئرلائن کا مقصد براہِ راست پروازوں اور عالمی فضائی رابطوں کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنا ہے۔

پی آئی اے نے بتایا کہ یہ طیارے نومبر 2026 میں اس کے بیڑے میں شامل ہونے کی توقع ہے اور پاکستان سے برطانیہ کے لیے طویل فاصلے کی براہِ راست پروازیں چلائیں گے۔

ایئرلائن کے مطابق ان طیاروں سے پاکستان اور برطانیہ کے مختلف شہروں کے درمیان پروازوں کے آپریشنز میں سہولت ملے گی۔

پی آئی اے اور نورس کے درمیان یہ شراکت داری جدید ترین طیاروں، ماہر عملے، دیکھ بھال اور بیمہ کی سہولت فراہم کرے گی جس سے پی آئی اے کو اپنے روٹس میں توسیع کے پُرعزم منصوبے پر عملدرآمد میں مدد ملے گی۔

پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر وائس مارشل عامر حیات نے کہا کہ برطانیہ پی آئی اے کے لیے ایک اہم مارکیٹ ہے اور اس معاہدے سے ایئرلائن کو مطلوبہ گنجائش بڑھانے، مسافروں کو زیادہ سفری سہولتیں فراہم کرنے اور ان روٹس پر رابطوں کے مزید مواقع دینے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی مارکیٹ میں ڈریم لائنر طیاروں کو پہلی مرتبہ متعارف کرایا جارہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ ہمارے معزز مسافروں کو ایک یادگار سفری تجربہ فراہم کریں گے جو پی آئی اے سے معیاری اور پریمیم خدمات کی توقع رکھتے ہیں۔

نورس اٹلانٹک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایونڈ روالڈ نے کہا کہ جیسا کہ ہم پہلے بھی بتاچکے ہیں، ہم طیاروں، عملے، دیکھ بھال اور بیمے کے نئے مواقع کے لیے گنجائش کو دوبارہ مختص کرنے پر کام کر رہے تھے اور اب ہم اس حکمت عملی پر عمل درآمد کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں پی آئی اے کی طویل فاصلے کی پروازوں کی گنجائش بڑھانے کے منصوبے میں معاونت اور برطانیہ و پاکستان کے درمیان فضائی رابطے مضبوط بنانے پر خوشی ہے۔ اس سے برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان سفر کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ ہم اسے دونوں کمپنیوں کے درمیان تزویراتی شراکت داری کا آغاز سمجھتے ہیں۔