اگست کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ، خدشات سے کم رہی
- نیپرا نے اگست کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ 1.73 روپے سے کم کرکے 1.11 روپے فی یونٹ کردی، تاہم آر ایل این جی کی محدود دستیابی، درآمدی کوئلے پر بڑھتے انحصار اور شام کے اوقات میں بجلی کی طلب میں تیز اضافے کے باعث نظام کے بنیادی مسائل برقرار ہیں
اگست کا بجلی کا بل بظاہر توقع سے کہیں زیادہ مہنگا دکھائی دے رہا تھا، لیکن بالآخر اضافہ اتنا نہیں ہوا جتنا خدشہ تھا۔ تاہم، ریگولیٹر کے فیصلے سے بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوا، بلکہ اس نے ایندھن کی حقیقی لاگت کے دباؤ اور گزشتہ ادوار کی بھاری ایڈجسٹمنٹس کو الگ کردیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اگست کے لیے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں فی یونٹ 1.11 روپے اضافے کی منظوری دی ہے، جو سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ (سی پی پی اے-جی) کی جانب سے مانگے گئے 1.73 روپے فی یونٹ سے خاصا کم ہے۔ ریگولیٹر نے دعوے میں مجموعی طور پر 17.28 ارب روپے کی کمی کی، جس میں آر ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں سے متعلق 15.74 ارب روپے کی منفی ایڈجسٹمنٹ بھی شامل ہے۔ منظور شدہ ایف سی اے اہل صارفین کے اکتوبر کے بجلی کے بلوں میں شامل ہوگی۔
یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ اگست بجلی کے نظام کے لیے کسی طور آسان مہینہ نہیں تھا۔
بجلی کی پیداوار 14.94 ارب یونٹس رہی، جو حوالہ جاتی سطح سے 3.3 فیصد زیادہ تھی۔ تاہم، بجلی کی پیداوار میں مختلف ذرائع کا حصہ منصوبہ سازوں کے اندازوں سے خاصا مختلف رہا۔ درآمدی کوئلے سے 2.33 ارب یونٹ بجلی پیدا کی گئی، جبکہ حوالہ جاتی تخمینہ 1.08 ارب یونٹ تھا۔ نتیجتاً، مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ حوالہ جاتی 7.4 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 15.6 فیصد ہوگیا۔
اس کے برعکس آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار کم رہی۔ اس ذریعے سے 1.31 ارب یونٹ بجلی پیدا ہوئی، جبکہ حوالہ جاتی پیداواری مکس میں اس کا حجم 1.76 ارب یونٹ تھا، یعنی 26 فیصد کمی۔ فی یونٹ 45.93 روپے لاگت کے ساتھ آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار غیر معمولی طور پر مہنگی بھی رہی۔ جوہری توانائی سے پیداوار بھی ایک کمزور پہلو ثابت ہوئی اور حوالہ جاتی سطح سے 36 فیصد کم ہوکر 1.53 ارب یونٹ رہ گئی۔
چنانچہ طلب پوری کرنے کے لیے نظام کو ایک مہنگا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ آر ایل این جی اور جوہری توانائی پر انحصار کم کرکے درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداوار کہیں زیادہ بڑھانا پڑی۔
یہیں طلب کے بدلتے ہوئے رجحان کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
پاکستان کا بجلی کا قومی گرڈ اب طلب کے اس انداز سے واسطہ نہیں رکھتا جسے مدنظر رکھ کر اس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ جو صنعتی صارفین اپنی بجلی خود پیدا کرنے کے لیے کیپٹو پاور پلانٹس پر منتقل ہوگئے تھے، وہ دوبارہ قومی گرڈ سے بجلی لینے لگے ہیں، جبکہ صارفین کی جانب سے میٹر کے پیچھے نصب شمسی نظام دن کے اوقات میں گرڈ سے بجلی کی طلب کم کررہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دوپہر کے وقت طلب میں زیادہ گراوٹ اور شام کے وقت اس میں تیز رفتار اضافے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔
ریگولیٹر کی سماعت کے ریکارڈ سے بھی صنعتوں کی جانب سے گرڈ پر واپسی کی تصدیق ہوتی ہے۔ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) نے طلب میں اضافے کی بنیادی وجوہ میں کیپٹو پاور استعمال کرنے والے صارفین کی دوبارہ گرڈ سے بجلی لینے کی طرف واپسی اور صنعتی کھپت کے پیکیج کے تحت صنعتی طلب میں اضافے کو شامل کیا۔
مسئلہ یہ ہے کہ بجلی گھروں سے لیس نظام سے طلب کے اس نئے انداز کے مطابق ردعمل کی توقع کی جارہی ہے، جبکہ ایندھن کا مکس خود بھی کم لچک دار ہوتا جارہا ہے۔
شام کے وقت طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے آر ایل این جی کو اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ لیکن جنگ سے متعلقہ رکاوٹوں کے باعث مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی کئی ماہ سے حوالہ جاتی سطح سے کم ہے۔ پاکستان نے ایل این جی کے جہازوں کی ترسیل کا انتظام تو کیا ہے، لیکن اتنی مقدار میں نہیں کہ آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار منصوبہ بندی کے مطابق بحال ہوسکے۔ اس لیے مہنگے اسپاٹ کارگوز کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
نتیجتاً، نظام کو درآمدی کوئلے پر زیادہ انحصار کرنا پڑا ہے۔ اس سے بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے میں مدد تو مل سکتی ہے، لیکن یہ کسی طور سستا حل نہیں۔
اگست کی ایف سی اے کا فیصلہ اس فرق کو خاص طور پر اہم بناتا ہے۔ سی پی پی اے-جی نے آر ایل این جی کی قیمتوں میں کمی کے باعث سابقہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 10.62 ارب روپے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن نیپرا نے نشاندہی کی کہ اس کے حق میں بجلی گھر وار یا ماہ وار تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ریگولیٹر نے اس دعوے کی جگہ 17.28 ارب روپے کی کہیں بڑی منفی ایڈجسٹمنٹ منظور کی، جس میں سے 15.74 ارب روپے آر ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں سے متعلق تھے۔
دوسرے لفظوں میں، جس رقم کو ابتدا میں اگست کے ایندھن کے اخراجات کا دباؤ سمجھا جارہا تھا، اس کا ایک بڑا حصہ دراصل سابقہ حسابات اور ٹیرف ایڈجسٹمنٹس کی درستی سے متعلق تھا۔
نیپرا نے مقامی کوئلے کے حوالے سے بھی ایک اہم نکتے کی نشاندہی کی۔ مقامی کوئلے سے بجلی کی فی یونٹ لاگت 5.50 روپے بتائی گئی، لیکن ضروری نہیں کہ یہی اس کی حتمی معاشی لاگت ہو۔ سی پی پی اے-جی نے ریگولیٹر کو بتایا کہ رواں ماہ کے بلوں میں حوالہ جاتی ٹیرف کے مطابق لاگت کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ اصل لاگت کا حتمی حساب آئندہ ایف سی اے میں شامل کیا جائے گا۔ اس لیے اگست کے غیر معمولی طور پر کم نرخ کو مقامی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت کا نیا اور حتمی معیار نہیں سمجھنا چاہیے۔
نیپرا کے فیصلے میں ایک اور انتباہ بھی پوشیدہ ہے۔ جوہری بجلی گھروں کی دستیابی کمزور رہی۔ کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے تیسرے یونٹ (کے-3) نے 5 ستمبر کو دوبارہ کام شروع کیا، جبکہ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کا دوسرا یونٹ (چشمہ-2) اپنی مکمل صلاحیت سے کم پر چل رہا تھا۔ چشمہ-1 میں ایندھن کی تبدیلی کے باعث اکتوبر تک بجلی کی دستیابی متاثر ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا تھا۔
بجلی کے نظام کو اب بھی کئی مشکلات کا بیک وقت سامنا ہے: صنعتی طلب میں اضافہ، شمسی توانائی کے باعث دوپہر میں طلب کی گراوٹ اور شام کو تیزی سے بڑھتی طلب، آر ایل این جی کی محدود دستیابی اور جوہری بجلی کی کم پیداوار۔ شام کے اوقات میں طلب جس تیزی سے بڑھتی ہے، اس کے ساتھ اضافی بجلی پیدا کرنے والے آخری پیداواری ذریعے کی لاگت بھی زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔
ریگولیٹر نے خود بھی اس تشویش کو تسلیم کیا۔ سماعت کے دوران تجویز دی گئی کہ ایف سی اے کو بتدریج مستقبل کی متوقع لاگت کی بنیاد پر طے کرنے کے طریقہ کار کی طرف لے جایا جائے اور زیادہ طلب کے اوقات کا تعین موجودہ نظام پر انحصار کرنے کے بجائے حقیقی بلند ترین کھپت کے مطابق کیا جائے۔ آنے والے موسم سرما میں طلب اور رسد کے انتظام کے لیے بجلی اور گیس کے شعبوں کے متعلقہ اداروں کے درمیان ایک منصوبے پر بھی رابطہ کاری جاری ہے۔
شاید اصل مسئلہ یہی ہے۔ پاکستان میں بجلی کا بحران اب محض ایک مہینے کے دوران ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ درست وقت پر، مناسب ایندھن سے بجلی پیدا کرنا زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ نیپرا نے اگست کے بل میں اضافہ کم کردیا ہے، لیکن بنیادی مسئلہ بدستور موجود ہے۔