حوثی سعودی عرب پر حملے فوراً بند کریں، وزیراعظم شہباز شریف
- شہباز شریف کی سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت، سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
جمعہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ مملکت سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے بار بار ہونے والے دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں جن میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان کے ساتھ ساتھ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ وزیراعظم نے سعودی مسلح افواج اور اتحادی افواج کی مستعدی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، مملکت سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اس کی اسٹرٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کے مطابق سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے
وزیراعظم نے کہا کہ ہم سعودی عرب کے اپنے عوام کے دفاع اور اپنے شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے جائز حق کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حوثی ملیشیا کو یہ حملے فوری طور پر بند کرنے چاہئیں، ہم ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
یہ پیش رفت یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت لانے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔ حوثی میزائل حملوں کے ذریعے سعودی عرب کی فضائی حدود اور تیل کی تنصیبات کو بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ رواں ہفتے ان حملوں میں تین افراد مارے جاچکے ہیں۔
حوثی گروپ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا جہاں عینی شاہدین نے ایک طیارے سے دھواں اٹھتے دیکھا۔ گروپ نے کارکنوں کو توانائی کی تنصیبات سے دور رہنے کی تنبیہ بھی کی۔ سعودی حکام کے مطابق فضا میں تباہ کیے گئے میزائل کا ملبہ ایک کنڈرگارٹن اور طبی مرکز پر گرا۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرنے والی خانہ جنگی میں حکومتی فورسز کی حمایت کرنے پر سعودی عرب کو نشانہ بنارہے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ یمن کی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت کی اس کارروائی کی حمایت کررہا ہے جس کا مقصد حوثیوں سے علاقے واپس لینا ہے۔
یہ تنازع اب امریکا اور ایران کی جنگ کے اثرات کے پھیلاؤ کی شکل اختیار کرچکا ہے جس سے پہلے ہی جنگ کی لپیٹ میں آئے خطے میں مزید افراتفری پیدا ہوگئی ہے۔ اس سے دوسرے ممالک کے بھی دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں طویل اور سخت لڑائی میں الجھنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے جبکہ شام سعودی عرب کی مدد کے لیے فوج تعینات کرنے پر غور کررہا ہے۔