لسٹڈ ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں کے منافع میں 44 فیصد اضافے کا امکان
- بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی بلند قیمتیں اور تیل و گیس کی پیداوار میں اضافہ بنیادی وجہ قرار
ٹاپ لائن ریسرچ کے مطابق پاکستان میں لسٹڈ ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) کمپنیوں کے منافع میں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران سالانہ بنیاد پر 44 فیصد اضافے کی توقع ہے جس کی بنیادی وجوہات بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی بلند قیمتیں اور تیل و گیس کی پیداوار میں اضافہ ہیں۔
تاہم ریسرچ ہاؤس کے مطابق شعبے کے منافع میں سہ ماہی بنیاد پر 46 فیصد کمی متوقع ہے جس کی بنیادی وجہ مالی سال 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی میں 54.9 ارب روپے کی ٹیکس ریورسل ہے جو 27 جنوری 2026 کو وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد ریکارڈ کی گئی تھی۔
مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان میں تیل اور گیس کی مجموعی پیداوار بالترتیب اوسطاً 69,500 بیرل یومیہ اور 2,989 ملین مکعب فٹ یومیہ رہی۔ تیل کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 12 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گیس کی پیداوار 7 فیصد بڑھ گئی۔ سہ ماہی بنیاد پر تیل اور گیس کی پیداوار میں بالترتیب 1 فیصد اور 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ٹاپ لائن ریسرچ کے مطابق شعبے کے منافع میں اضافے کی بنیادی وجوہات بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی بلند قیمتیں اور درآمدی ایل این جی کی کم دستیابی ہیں جس کے باعث مقامی طور پر پیدا ہونے والی گیس کی طلب کو سہارا ملا۔
جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں رسد میں خلل کے باعث مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران عرب لائٹ خام تیل کی قیمت اوسطاً 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب، درآمدی ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی کم دستیابی نے مقامی گیس کی طلب کو سہارا دیا جس کے نتیجے میں گیس کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 7 فیصد اضافہ ہوا۔
متعلقہ فیلڈز سے تیل کی زیادہ پیداوار اور نئے کنوؤں کی پیداوار شروع ہونے سے بھی مجموعی پیداوار کے حجم کو سہارا ملا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مالی سال 2026-27 کی پہلی ششماہی کے لیے بعض فیلڈز کی ویل ہیڈ گیس کی قیمتوں میں تقریباً 8 سے 10 فیصد نظرثانی کی ہے۔
ریسرچ ہاؤس کو توقع ہے کہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران E&P شعبے کے آپریٹنگ اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 26 فیصد اضافہ ہوگا، تاہم سہ ماہی بنیاد پر ان میں 17 فیصد کمی متوقع ہے جو مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں فی بیرل آئل ایکوئیلنٹ آپریٹنگ اخراجات میں تاریخی طور پر ہونے والے اضافے کے رجحان کے مطابق ہے۔