درآمدی بل میں اضافہ زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ ڈالے گا، عاطف اکرام شیخ
- ناقابلِ برداشت شرح سود، بجلی کے بھاری کیپیسٹی چارجز اور بلند پٹرولیم لیویز صنعتی پیداوار اور ویلیو ایڈیشن کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں، صدر ایف پی سی سی آئی
وفاقی چیمبر کے صدر عاطف اکرام شیخ نے خبردار کیا ہے کہ فوری طور پر ساختی اصلاحات نہ کی گئیں تو ملکی طلب پوری کرنے کے لیے مہنگی درآمدات پر مسلسل انحصار خزانے پر مزید بوجھ ڈالے گا اور ادائیگیوں کے توازن کے شدید بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ملکی تجارتی خسارے میں بے قابو اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ درآمدی بل میں مسلسل اضافہ ملکی معاشی استحکام کے لیے خطرہ ہے اور قومی زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈالے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پی بی ایس کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران تجارتی خسارہ 15.13 فیصد بڑھ کر 10.792 ارب ڈالر ہوگیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 9.374 ارب ڈالر تھا۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ یہ غیر پائیدار رجحان سہ ماہی کے اختتام تک برقرار رہا۔ صرف ستمبر 2026 میں تجارتی خسارہ 3.55 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو ستمبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 3.35 ارب ڈالر کے مقابلے میں سالانہ بنیاد پر 6.15 فیصد زیادہ ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ تجارتی فرق میں اضافہ پاکستان میں کاروبار کرنے کی غیر معمولی طور پر بلند لاگت کا براہِ راست نتیجہ ہے جو مقامی صنعت کاروں کی علاقائی حریفوں کے مقابلے میں مسابقتی صلاحیت کو بری طرح متاثر کررہی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ناقابلِ برداشت شرح سود، بجلی کے بھاری کیپیسٹی چارجز اور بلند پٹرولیم لیویز صنعتی پیداوار اور ویلیو ایڈیشن کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔