مستقبل کا آپریشن تھیٹر: جہاں انسانی مہارت مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ ہوگی
- مصنوعی ذہانت معاون ہے، مگر مریضوں کی نگہداشت میں انسانی فیصلہ سازی، حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت اور ہمدردی بدستور بنیادی اہمیت رکھتی ہیں
آپریشن تھیٹر کے اندر ایک خاص طرح کی خاموشی ہوتی ہے۔ یہ کسی خالی جگہ کی خاموشی نہیں بلکہ یکسوئی، ذمہ داری اور آنے والے لمحے کی تیاری سے عبارت خاموشی ہوتی ہے۔ سرجن آپریشن کی تیاری کر رہا ہوتا ہے، ماہرِ تخدیر مریض کی اہم جسمانی علامات میں ہونے والی ہر تبدیلی پر نظر رکھتا ہے، نرسیں اگلی ضرورت پوری کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں، جبکہ آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجسٹ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آلات، مشینری، جراثیم سے پاک ماحول اور پورا آپریشن تھیٹر آئندہ پیش آنے والی کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہو۔ اب اسی کمرے میں ایک اور موجودگی کا تصور کیجیے—ایسی موجودگی جو نہ سرجیکل گاؤن پہنتی ہے، نہ کوئی آلہ تھامتی ہے اور نہ ہی باہر تشویش میں مبتلا اہلِ خانہ سے بات کرتی ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت ہے۔
مصنوعی ذہانت بتدریج شعبۂ صحت میں اپنی جگہ بنا رہی ہے اور طبی تشخیص، کلینیکل نگہداشت سے لے کر تحقیق اور نظامِ صحت کے انتظام تک مختلف شعبوں میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ بے پناہ مقدار میں معلومات کو چند ہی لمحوں میں پراسیس کرنے اور ان میں موجود پیٹرن کی شناخت کرنے کی اس صلاحیت نے ایسے امکانات کے دروازے کھول دیے ہیں جن کا کبھی تصور بھی مشکل تھا۔ تاہم، ذہین ٹیکنالوجی کی آمد ایک ایسے سوال کو جنم دیتی ہے جو کمپیوٹر اور مشینوں سے کہیں آگے جاتا ہے: جیسے جیسے ٹیکنالوجی زیادہ ذہین ہوتی جائے گی، مریضوں کی نگہداشت کے مرکز میں موجود انسانوں کا کردار کیا ہوگا؟
اس کا جواب شاید مشینوں کے انسانوں کی جگہ لینے سے متعلق ان ڈرامائی پیش گوئیوں سے بالکل مختلف ہو۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ مستقبل کا آپریشن تھیٹر اشتراک کی بنیاد پر تشکیل پائے گا—انسان اور ذہین ٹیکنالوجیز مل کر کام کریں گے اور ہر ایک وہ کردار ادا کرے گا جو دوسرا ادا نہیں کر سکتا۔
جدید سرجری پہلے ہی ٹیکنالوجی کے باعث غیر معمولی تبدیلی سے گزر چکی ہے۔ جدید طبی عکس بندی، کم سے کم مداخلت والے آپریشن، جدید مانیٹرنگ نظام، برقی جراحی کے آلات، روبوٹک پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز نے آپریشن کی منصوبہ بندی اور انجام دینے کے طریقۂ کار کو بدل دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت اس تبدیلی میں ایک اور سطح کا اضافہ کرتی ہے، کیونکہ یہ طبی ماہرین کو معلومات کا تجزیہ کرنے، پیٹرن کی شناخت اور مناسب مواقع پر طبی فیصلہ سازی میں معاونت فراہم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
لیکن ایک اہم حد ایسی ہے جسے کبھی دھندلا نہیں ہونا چاہیے: معاونت اور فیصلہ سازی ایک چیز نہیں۔
ایک مشین کسی طبی تصویر میں کوئی پیٹرن شناخت کر سکتی ہے یا کسی نتیجے کی پیش گوئی کر سکتی ہے، لیکن کسی مخصوص مریض کے لیے اس معلومات کے مفہوم کو سمجھنا انسانی ماہر ہی کی ذمہ داری ہے۔ مریض محض ایک اسکین، لیبارٹری رپورٹ، اہم جسمانی علامات کے گراف یا اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ ہر طبی ریکارڈ کے پیچھے ایک انسان موجود ہوتا ہے، جس کی اپنی تاریخ، خوف، توقعات، جسمانی خصوصیات اور حالات ہوتے ہیں، اور ضروری نہیں کہ یہ سب کسی ڈیٹا سیٹ میں آسانی سے سما جائیں۔
اسی لیے مستقبل کے آپریشن تھیٹر کو انسان اور مشین کے درمیان مقابلے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ اسے شراکت داری کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
مستقبل کی سرجیکل ٹیم زیادہ وسیع، زیادہ مربوط اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ ہوگی۔ سرجنوں، ماہرینِ تخدیر، نرسوں اور دیگر ماہرین کے ساتھ ذہین نظام بھی کام کے معمول کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماہر طبی عملے کی ضرورت ختم ہو جائے گی، بلکہ ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ اور نئی مہارتوں کی ضرورت پیدا ہو سکتی ہے۔
کسی کو سمجھنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے۔ کسی کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آلات درست طور پر کام کر رہے ہیں۔ کسی کو یہ پہچاننا ہوگا کہ ذہین نظام غیر متوقع نتیجہ دے رہا ہے۔ کسی کو الگورتھم کی تجویز اور حقیقی طبی فیصلے کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر، کسی کو یہ ذمہ داری نبھانا ہوگی کہ آپریشن ٹیبل پر لیٹا ہوا مریض محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک انسان ہے۔
یہیں آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجسٹ کا کردار مزید اہم ہو سکتا ہے۔
روایتی طور پر او ٹی ٹیکنالوجسٹ کا تعلق سرجیکل آلات، جراثیم سے پاک کرنے کے عمل، جراثیم سے پاک ماحول برقرار رکھنے کے طریقوں، آلات کی تیاری اور آپریشن تھیٹر کو ہر وقت تیار رکھنے سے رہا ہے۔ لیکن جیسے جیسے آپریشن تھیٹر زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل ہوتے جائیں گے، یہ پیشہ ورانہ کردار مزید وسیع ہو سکتا ہے اور طبی ماہرین اور جدید طبی ٹیکنالوجی کے درمیان ایک پل کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔
مستقبل کا او ٹی ٹیکنالوجسٹ ایسے ماحول میں کام کر سکتا ہے جہاں مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ نظام، ڈیجیٹل اسکرینیں، جدید عکس بندی، خودکار دستاویز سازی اور باہم مربوط آلات موجود ہوں۔ ان نظاموں کے باہمی تعامل کو سمجھنا شاید اتنا ہی اہم ہو جائے جتنا سرجری میں استعمال ہونے والے آلات کی معلومات رکھنا۔
اگر اچانک کوئی ڈیجیٹل نظام کام کرنا چھوڑ دے تو کیا ہوگا؟ کسی اہم مرحلے پر مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ آلہ غیر متوقع انتباہ جاری کر دے تو کیا کیا جائے؟ اگر کوئی مشین خراب ہو جائے تو کیا ہوگا؟ اور ٹیکنالوجی کی مدد سے جاری کام کے طریقۂ کار سے محفوظ انداز میں روایتی طریقۂ کار کی طرف کیسے واپس آیا جائے گا؟
یہ سوال ایک اہم حقیقت واضح کرتے ہیں: ٹیکنالوجی ماہر طبی عملے کی ضرورت ختم نہیں کرتی، بلکہ ان کے لیے درکار مہارتوں کو تبدیل کر دیتی ہے۔
آپریشن تھیٹر کسی محدود اور قابو میں رکھے گئے تجربہ گاہی ماحول سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ سرجری چند ہی سیکنڈ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ مریض کی حالت اچانک بگڑ سکتی ہے۔ کوئی آلہ خراب ہو سکتا ہے۔ جسمانی ساخت سے متعلق کوئی ایسی صورت حال سامنے آ سکتی ہے جو سرجیکل ٹیم کو اپنا منصوبہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دے۔ ایسا آلہ جس کی پہلے ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی، اچانک ناگزیر ہو سکتا ہے۔
ان حالات میں انسانی ماہرین تجربے، رابطے اور فیصلہ سازی کے ذریعے ردعمل دے سکتے ہیں۔ وہ محسوس کر سکتے ہیں کہ کوئی چیز معمول کے مطابق نہیں۔ وہ ساتھیوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکتے ہیں اور خوف و بے یقینی کو سمجھ سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت غیر معمولی رفتار سے معلومات کا تجزیہ کر سکتی ہے، لیکن رفتار دانائی کا متبادل نہیں۔ پیش گوئی فیصلہ سازی کے برابر نہیں اور معلومات، فہم کا نعم البدل نہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک اور خطرہ بھی وابستہ ہے: اس پر ضرورت سے زیادہ بھروسا۔ جب کوئی خودکار نظام انتہائی جدید دکھائی دے تو لوگ صرف اس لیے اس کی سفارش قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں کہ وہ کمپیوٹر سے آئی ہے۔ صحت کے شعبے میں یہ رجحان، جسے عموماً آٹومیشن بائس کہا جاتا ہے، خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اس لیے انسان اور مشین کے درمیان مناسب تعلق بالکل واضح ہونا چاہیے: مشین معاونت کرے، ماہر جائزہ لے، ٹیم باہمی رابطے سے کام کرے اور مریض مرکز میں رہے۔
مصنوعی ذہانت کو ایک آلہ ہونا چاہیے، ایسی غیر مشروط اتھارٹی نہیں جس پر سوال نہ اٹھایا جا سکے۔
یہ اصول اس لیے بھی اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام ان اعداد و شمار پر انحصار کرتے ہیں جنہیں ان کی تیاری اور جانچ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی ایک آبادی یا طبی ماحول میں بہترین کارکردگی دکھانے والا نظام ضروری نہیں کہ کسی دوسرے مقام پر بھی بالکل اسی طرح کام کرے۔ آبادی، وسائل، بنیادی ڈھانچے اور طبی ماحول میں فرق اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔
پاکستانی آپریشن تھیٹرز میں مصنوعی ذہانت کا استعمال محض دولت مند ممالک کے طبی نظام کی نقل نہیں ہو سکتا۔ ملک بھر کے اسپتالوں میں بنیادی ڈھانچے، عملے، تربیت، آلات اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کے حوالے سے نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ بعض آپریشن تھیٹرز جدید ڈیجیٹل نظام سے لیس ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
لہٰذا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ اسپتال جدید ٹیکنالوجی خرید سکتے ہیں یا نہیں۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس ٹیکنالوجی کو محفوظ انداز میں استعمال کرنے کے لیے درکار انسانی صلاحیت اور بنیادی ڈھانچہ بھی تیار کر رہے ہیں؟
مہنگی مشین ناکافی تربیت کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ جدید سافٹ ویئر ناقص دیکھ بھال کا حل نہیں۔ ڈیجیٹل نظام ایسے ماحول میں محفوظ سرجری کی ضمانت نہیں دے سکتے جہاں سائبر سکیورٹی کمزور اور ذمہ داری کا تعین غیر واضح ہو۔ مشینوں پر سرمایہ کاری کے ساتھ انسانی وسائل پر سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مستقبل کی تیاری میں تعلیم سب سے اہم عناصر میں سے ایک ہے۔
مستقبل کے او ٹی ٹیکنالوجسٹ کو سرجیکل آلات، جراثیم سے پاک کرنے کے عمل، انفیکشن سے بچاؤ، جراثیم سے پاک تکنیک، مریضوں کی حفاظت، سرجیکل طریقۂ کار اور آلات کے انتظام سے متعلق مضبوط علمی بنیاد بدستور درکار ہوگی۔ تاہم ان روایتی صلاحیتوں کے ساتھ بعض نئی مہارتوں کی اہمیت بھی بڑھنے کا امکان ہے، جن میں ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر نظام، مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ طبی ٹیکنالوجیز، روبوٹکس، ڈیٹا پرائیویسی، آلات میں خرابی کی تشخیص، انسان اور مشین کا باہمی تعامل، سائبر سکیورٹی، ٹیکنالوجی سے متعلق اخلاقیات اور ڈیجیٹل دستاویز سازی شامل ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر او ٹی ٹیکنالوجسٹ کو کمپیوٹر سائنس دان بننا ہوگا۔ مطلب صرف یہ ہے کہ طبی عملے کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے بارے میں اتنی سمجھ بوجھ ضرور ہونی چاہیے کہ وہ انہیں ذمہ داری سے استعمال کر سکیں، ان کی حدود کو پہچان سکیں اور ٹیکنالوجی کے توقع کے مطابق کام نہ کرنے کی صورت میں مریضوں کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔
تاہم سرجری کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے ٹیکنالوجی کبھی غیر اہم نہیں بنا سکتی—انسانی پہلو۔
آپریشن سے پہلے مریض خوف زدہ ہو سکتا ہے۔ اہلِ خانہ باہر بے چینی سے انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ مریض بچوں، روزگار، ذمہ داریوں یا صرف اس بات کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ہے کہ کیا وہ آپریشن کے بعد بحفاظت آنکھیں کھول سکے گا۔
ٹیکنالوجی اہم جسمانی علامات کی نگرانی، معلومات کے تجزیے اور طبی کام کے طریقۂ کار میں معاونت کر سکتی ہے، لیکن تسلی انسانی عمل ہے۔ ذمہ داری انسانی ہے۔ ہمدردی انسانی ہے۔
صحت کے شعبے میں جتنی زیادہ ٹیکنالوجی داخل ہوگی، اتنی ہی زیادہ ضرورت اس بات کی ہوگی کہ طب کے انسانی پہلو کو محفوظ رکھا جائے۔
اور پھر مصنوعی ذہانت کے دور کا ایک مشکل ترین سوال سامنے آتا ہے: جب مصنوعی ذہانت غلطی کرے گی تو ذمہ دار کون ہوگا؟
اگر مصنوعی ذہانت کا کوئی نظام ایسی تجویز دے جس کے نتیجے میں غیر متوقع صورت حال پیدا ہو جائے تو ذمہ داری محض یہ کہہ کر مشین پر منتقل نہیں کی جا سکتی کہ غلطی ’’مشین‘‘ نے کی تھی۔ جواب دہی کے سوالات میں طبی ادارے، معالجین، ٹیکنالوجی تیار کرنے والے ادارے اور دیگر متعلقہ ذمہ دار فریق شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے واضح طرزِ حکمرانی، مناسب ضابطہ کاری، شفافیت، نگرانی، تربیت اور نظام کی مؤثر جانچ آئندہ مزید اہم ہو جائیں گے۔
آپریشن تھیٹر کے کام کے طریقۂ کار میں مصنوعی ذہانت شامل کرنے والے اسپتالوں کو واضح پالیسیاں اور طریقۂ کار وضع کرنا ہوں گے۔ طبی عملے کو مناسب تربیت دینا ہوگی۔ نظاموں کو ان ہی ماحول میں جانچ کر مؤثر ثابت کرنا ہوگا جہاں انہیں عملی طور پر استعمال کیا جائے گا۔ ان کی حدود کو سمجھنا ضروری ہوگا اور ناکامی یا غیر متوقع نتائج کا جائزہ لینے کے لیے مناسب نظام بھی موجود ہونا چاہیے۔
اس کے ساتھ ایک وسیع تر سماجی سوال بھی موجود ہے: ان ٹیکنالوجیز تک رسائی کس کو حاصل ہوگی؟
اگر جدید مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ طبی سہولت صرف مہنگے ترین اسپتالوں تک محدود رہی تو ٹیکنالوجی میں پیش رفت صحت کی موجودہ عدم مساوات کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ اس لیے جدت کے ساتھ ساتھ استطاعت، بنیادی ڈھانچے، تربیت اور رسائی پر بھی گفتگو ضروری ہے۔
مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپریشن تھیٹر میں مصنوعی ذہانت داخل کر دی جائے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اسے محفوظ، ذمہ دارانہ اور منصفانہ انداز میں وہاں لایا جائے۔
ممکن ہے مستقبل کا آپریشن تھیٹر آج کے آپریشن تھیٹر سے یکسر مختلف دکھائی دے۔ سرجنوں کو حقیقی وقت میں ڈیجیٹل معاونت حاصل ہو، روبوٹک نظام سرجری کے مخصوص کاموں میں مدد دیں، مصنوعی ذہانت چند ہی لمحوں میں وسیع مقدار میں معلومات کا تجزیہ کرے، مانیٹرنگ نظام توجہ طلب پیٹرن کی نشاندہی کریں، آلات ایک دوسرے سے رابطے میں ہوں اور دستاویز سازی کا عمل مزید خودکار ہو جائے۔
لیکن اس تمام ٹیکنالوجی کے مرکز میں ایک چیز بدستور موجود رہے گی: مریض۔
اس مریض کے گرد پھر بھی ایک ٹیم موجود ہوگی—سرجن، ماہرِ تخدیر، نرسیں، آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجسٹ اور دیگر طبی ماہرین۔ ذہین مشینیں بتدریج اس ٹیم کا حصہ بن سکتی ہیں، لیکن چیلنج یہ ہوگا کہ ٹیکنالوجی انسانی ٹیم ورک کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مؤثر بنائے۔
اس لیے سب سے مفید سوال یہ نہیں کہ انسان یا مشین میں سے کون جیتے گا۔ زیادہ بامعنی سوال یہ ہے کہ ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی کے ذریعے طبی ماہرین وہ کیا کچھ بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں جو اس ٹیکنالوجی کے بغیر اتنی مؤثر انداز میں ممکن نہیں۔
مناسب مواقع پر مصنوعی ذہانت معلومات کے تجزیے، بار بار انجام دیے جانے والے کاموں کی خودکاری، فیصلہ سازی میں معاونت اور کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ لیکن انسانی ماہرین ذمہ داری، فیصلہ سازی، رابطے، حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت، ہمدردی اور جواب دہی جیسی خصوصیات ساتھ لاتے ہیں۔
سرجری کا مستقبل انہی دونوں صلاحیتوں کو یکجا کرنے پر منحصر ہوگا۔
او ٹی ٹیکنالوجسٹ کے لیے یہ تبدیلی صرف ایک چیلنج نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے۔ ان کا پیشہ ہمیشہ سے انسان، طریقۂ کار اور ٹیکنالوجی کے سنگم پر قائم رہا ہے۔ جیسے جیسے آپریشن تھیٹر زیادہ جدید ہوتے جائیں گے، یہ حیثیت مزید اہم ہو سکتی ہے۔
مستقبل کا او ٹی ٹیکنالوجسٹ صرف آلات اور مشینری تیار کرنے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسے زیادہ ذہین سرجیکل ماحول کے انتظام میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کی تیاری، درست کارکردگی، باہمی ہم آہنگی اور محفوظ استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہوگا۔
یہ تبدیلی تعلیم اور تجسس سے شروع ہونی چاہیے۔ طبی ماہرین کو صرف یہ نہیں پوچھنا ہوگا کہ ’’یہ مشین کیسے کام کرتی ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی جاننا ہوگا کہ ’’ہمیں اس پر کب بھروسا کرنا چاہیے؟ کب اس کے نتائج پر سوال اٹھانا چاہیے؟ اور جب یہ ناکام ہو جائے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‘‘
یہ سوالات جراحی نگہداشت کی اگلی نسل کا تعین کر سکتے ہیں۔
ہر آپریشن کے اختتام پر آلات کی گنتی کی جاتی ہے، مشینری کی جانچ ہوتی ہے، طریقۂ کار مکمل کیا جاتا ہے اور مریض آپریشن تھیٹر سے باہر چلا جاتا ہے۔ اس آخری لمحے میں ٹیکنالوجی ایک بار پھر ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔
اہمیت مریض کی ہے۔
مصنوعی ذہانت مزید تیز ہو سکتی ہے۔ مشینیں زیادہ ذہین ہو سکتی ہیں۔ روبوٹس مزید جدید ہو سکتے ہیں۔ الگورتھم ایسی معلومات پراسیس کر سکتے ہیں جو کسی ایک انسان کے ذہن کی استعداد سے کہیں زیادہ ہوں۔ لیکن اس تمام پیش رفت کا مقصد نہایت سادہ ہے: انسان کو بہتر طبی نگہداشت فراہم کرنا۔
ضروری نہیں کہ مستقبل کا آپریشن تھیٹر مشینوں کا ہو۔ یہ ان ٹیموں کا ہوگا جو انسانی فیصلہ سازی کو ٹیکنالوجی کی ذہانت کے ساتھ مؤثر انداز میں جوڑنا جانتی ہوں۔
لہٰذا نئی سرجیکل ٹیم انسان بمقابلہ مشین نہیں۔
یہ انسان اور مشین کا ساتھ ہے۔
اور شاید مستقبل کا سب سے اہم ماہر وہ نہیں ہوگا جو جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرنا جانتا ہو، بلکہ وہ ہوگا جو یہ سمجھتا ہو کہ ٹیکنالوجی پر کب بھروسا کرنا ہے، کب اس پر سوال اٹھانا ہے اور کب انسان کو حتمی فیصلہ دینا ہے۔
کیونکہ آپریشن تھیٹر خواہ کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو جائے، ایک حقیقت ایسی ہے جسے ٹیکنالوجی کو کبھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے:
آپریشن ٹیبل پر لیٹا ہوا انسان۔