✕
رائے

پی آئی اے اور مستقبل کا لائحۂ عمل

  • پی آئی اے کے لیے امریکی فنانسنگ کی کوشش، مگر قرض کی لاگت اور وراثتی مسائل نئے مالکان کے لیے بڑا چیلنج
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مبینہ طور پر امریکا میں قیام کے دوران امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایکسِم) کے چیئرمین جان جووانووچ سے ملاقات میں پی آئی اے کی اپ گریڈیشن، ریفائنریوں کی بہتری اور ریکوڈک کان کنی منصوبے کے لیے امریکی فنانسنگ کے امکانات کا جائزہ لیا۔

امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی ویب سائٹ پر درج اس کے دائرۂ کار کے مطابق، ’’ایکسِم امریکا کی سرکاری ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسی ہے۔ یہ ایک آزاد انتظامی ادارہ ہے جس کا مقصد امریکی اشیا اور خدمات کی برآمدات میں سہولت فراہم کرکے امریکی روزگار کو فروغ دینا ہے۔

جب نجی شعبے کے قرض دہندگان فنانسنگ فراہم کرنے سے قاصر ہوں یا اس پر آمادہ نہ ہوں تو ایکسِم امریکی کاروباری اداروں کو عالمی سطح پر فروخت کے مواقع کے لیے مسابقت کی خاطر درکار مالیاتی سہولتیں فراہم کرکے اس خلا کو پُر کرتا ہے۔

اس طرح یہ ادارہ بیرونِ ملک منڈیوں میں غیرملکی مسابقت کے مقابلے میں امریکی اشیا اور خدمات کے لیے یکساں مواقع پیدا کرتا ہے، تاکہ امریکی کمپنیاں مزید بہتر اجرت والی امریکی ملازمتیں پیدا کرسکیں۔ چونکہ اسے امریکی حکومت کی مکمل ضمانت اور ساکھ حاصل ہے، اس لیے ایکسِم ایسے قرض اور ملکی خطرات بھی قبول کرتا ہے جنہیں نجی شعبہ قبول کرنے سے قاصر یا گریزاں ہوتا ہے۔

ادارے کے چارٹر کے تحت اس کی جانب سے منظور کیے جانے والے تمام لین دین میں قرض کی واپسی کے معقول امکانات کا ہونا ضروری ہے۔ ایکسِم مسلسل کم شرحِ ڈیفالٹ برقرار رکھتا ہے اور اپنے پورٹ فولیو میں قرضوں اور دیگر خطرات کی کڑی نگرانی کرتا ہے۔‘‘

امریکی ایکسِم نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ 2000 سے اب تک وہ انتظامی اور پروگرام سے متعلق تمام اخراجات ادا کرنے کے بعد امریکی خزانے کو 14.6 ارب ڈالر فراہم کرچکا ہے۔

امریکی ایکسِم بینک کی جانب سے عائد کمرشل انٹرسٹ ریفرنس ریٹس (سی آئی آر آر) برآمدی کریڈٹ ایجنسیوں کی سرکاری قرضہ شرحیں ہیں، جن کا تعین امریکی ٹریژری بانڈز کی مارکیٹ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ عموماً بینک پہلے قرض کی رقم جاری کیے جانے کے وقت قابلِ اطلاق سی آئی آر آر کے مطابق شرح سود مقرر کرتا ہے، تاہم طیاروں سے متعلق لین دین میں بڑے طیاروں کے شعبے سے متعلق مفاہمت (ایل اے ایس یو) یا ایئرکرافٹ سیکٹر انڈراسٹینڈنگ (اے ایس یو) کا اطلاق ہوتا ہے۔

اگرچہ ویب سائٹ پر ایل اے ایس یو یا اے ایس یو کی مزید وضاحت نہیں کی گئی، تاہم یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور روس، یوکرین تنازعات کے جاری رہنے اور پابندیوں اور ڈالر کو مسلسل بطور ہتھیار استعمال کیے جانے کے باعث امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجوہ میں (i) حریف ممالک، خصوصاً چین، اور اتحادی ملک جاپان سمیت مرکزی بینکوں کی جانب سے امریکی ٹریژری بانڈز کی ہولڈنگز میں کمی، اور (ii) چین کی جانب سے ایک دہائی قبل قائم کیے گئے ڈیجیٹل سرحد پار بین بینکی ادائیگی نظام کے استعمال میں اضافے کے باعث سوئفٹ کے استعمال میں کمی شامل ہے۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ امریکی ٹریژری بانڈز پر کم شرح منافع نے امریکی حکومت کو ماضی میں انتہائی کم لاگت پر فنڈز حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا، تاہم اب صورت حال بدل چکی ہے، جس کی وضاحت آزاد امریکی ماہرینِ اقتصادیات کی جانب سے بڑھتی ہوئی قرض گیری کی لاگت پر بار بار تشویش کے اظہار سے ہوتی ہے۔

اس وقت امریکی ٹریژری بانڈز پر منافع کی شرحیں بالترتیب یہ ہیں: (i) تین ماہ کے لیے 4.1 فیصد، (ii) چھ ماہ کے لیے 4.32 فیصد، (iii) دو سال کے لیے 4.86 فیصد، (iv) پانچ سال کے لیے 5.08 فیصد، (v) 10 سال کے لیے 5.28 فیصد اور (vi) 30 سال کے لیے 5.62 فیصد۔

پی آئی اے کی نجکاری دسمبر 2025 میں بڑے پیمانے پر تشہیر کے ساتھ عمل میں آئی، جس کے تحت 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں عارف حبیب اور فاطمہ فرٹیلائزر (34.1 فیصد)، فوجی فرٹیلائزر (34 فیصد)، لیک سٹی ہولڈنگز (14 فیصد) جبکہ سٹی اسکول اور اے کے ڈی گروپ پر مشتمل کنسورشیم کو فروخت کیے گئے اور حکومت نے 25 فیصد حصص اپنے پاس رکھے۔ کنسورشیم کے کسی بھی رکن کو ہوا بازی کے شعبے کا سابقہ تجربہ حاصل نہیں تھا۔

پی آئی اے کے پرانے قرضے، جن کا تخمینہ 268.5 ارب روپے سے لے کر 650 ارب روپے سے بھی زیادہ لگایا گیا تھا، مبینہ طور پر پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کردیئے گئے، جو پاور سیکٹر ہولڈنگ کمپنی سے مشابہ انتظام ہے۔ اس قرض کی تنظیم نو کے بعد سود کی مد میں تقریباً 30 ارب روپے سالانہ ٹیکس دہندگان کو ادا کرنا ہوں گے، جبکہ نئے خریداروں کو پرانے قرضوں میں سے صرف تقریباً 26 ارب روپے کی محدود رقم سنبھالنے کی ذمہ داری دی گئی۔

اپریل 2026 میں کنسورشیم نے باقی 25 فیصد حصص بھی 45 ارب روپے میں حاصل کرلیے۔

کنسورشیم نے حکومت کو مجموعی طور پر 55 ارب روپے ادا کیے، جبکہ باقی 125 ارب روپے کمپنی میں نئے ایکویٹی سرمایہ کے طور پر رائٹس ایشو کے ذریعے لگائے جانے ہیں۔ رائٹس ایشو ایک ایسا کارپوریٹ اقدام ہے جس کے تحت موجودہ حصص داروں کو اپنے موجودہ حصص کے تناسب سے نئے حصص خریدنے کا اختیار دیا جاتا ہے، عموماً یہ حصص مارکیٹ کی موجودہ قیمت سے کم نرخ پر پیش کیے جاتے ہیں۔

یہ 125 ارب روپے دو مراحل میں فراہم کیے جائیں گے، جن میں پہلے مرحلے میں 83.25 ارب روپے، جو تقریباً 30 کروڑ ڈالر کے مساوی ہیں، فوری طور پر جبکہ باقی 41.625 ارب روپے 12 ماہ کے اندر سرمایہ کاری کیے جائیں گے۔

پی آئی اے کے خسارے کی بڑی وجوہ میں اس کے غیرمعاشی طور پر ناقابلِ جواز حد تک زائد ملازمین بھی شامل رہے ہیں۔ بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی پر پی آئی اے کو اپنے وفادار کارکنوں کی بھرتی کے لیے ایک بڑے مرکز کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ چنانچہ پی آئی اے میں فی طیارہ 500 سے 550 ملازمین تک موجود رہے، جبکہ عالمی معیار 100 سے 250 ملازمین فی طیارہ ہے۔

ماضی کے برعکس، جب پی آئی اے کی نجکاری زیرِ بحث آتی تھی تو ہڑتالیں بھی ہوجاتی تھیں، اس بار کوئی ہڑتال نہیں ہوئی اور معاہدے کے تحت ملازمین کو تقریباً 12 سے 18 ماہ تک ملازمت کا تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اسے تین سال تک بڑھانے کی تجویز اب بھی زیرِ غور ہے یا نہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ آئندہ سال جون کے آس پاس متوقع ملازمین کی تعداد میں کمی کے نتیجے میں ہڑتال ہوسکتی ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو اس کی کامیابی کا انحصار اس وقت ملک میں موجود معاشی و سیاسی نظام پر ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ اورنگزیب نے پی آئی اے کے لیے امریکی ایکسِم بینک سے فنانسنگ حاصل کرنے کی کوشش کیوں کی؟

پاکستانی حکومت نے طیاروں کی براہِ راست خریداری کے بجائے فنانسنگ اور سپلائرز تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے اور یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے کوئی قرض یا لازمی خودمختار حکومتی ضمانت فراہم نہیں کی جائے گی، کیونکہ کریڈٹ کی بنیاد پر طیاروں کو براہِ راست ضمانت بنا کر فنانسنگ حاصل کی جاسکتی ہے۔

ایک بوئنگ طیارے کی لاگت کا تخمینہ 24.8 کروڑ سے 33.8 کروڑ ڈالر ہے، جس میں 250 سے 290 مسافروں کی گنجائش ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں حکومت کے ساتھ طے شدہ اور لاگت کا حصہ بننے والی ابتدائی ایکویٹی سے ایک طیارہ خریدا جاسکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کی نئی انتظامیہ بوئنگ کے ساتھ 16 بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کررہی ہے، جن کی مجموعی لاگت تقریباً 4 ارب ڈالر بنتی ہے۔

اگر قرض کی مدت پانچ سال ہو، جو دیگر ایئرلائنز کو دیے گئے روٹس کے باعث پی آئی اے سے دور ہوجانے والے مسافروں کو واپس حاصل کرنے کے لیے شاید بہت کم مدت ہے، تو سالانہ قرض کی ادائیگی تقریباً 20 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ اس اضافی مالی بوجھ کے نتیجے میں ٹکٹوں کی قیمتیں ممکنہ طور پر دیگر ایئرلائنز کے مروجہ نرخوں سے بھی بڑھ سکتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر 16 بوئنگ طیاروں کی خریداری کے لیے امریکی ایکسِم بینک سے معاہدہ طے پاتا ہے تو اس کی شرائط کیا ہوں گی؟

حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کی منظوری کے بعد طیاروں اور ان کے پرزہ جات پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ، جیٹ فیول پر نئے ٹیکسوں سے چھوٹ اور 15 سال کے لیے منافع کی ادائیگی پر انکم ٹیکس میں رعایت دی ہے، جبکہ پرانے قرضوں کا بوجھ بھی محدود ہے۔

تاہم اس کے منفی پہلوؤں میں نجی مالکان کا ہوا بازی کے شعبے میں تجربہ نہ ہونا اور وراثتی نوعیت کے وہ مزدور مسائل شامل ہیں جو دوبارہ سر اٹھا سکتے ہیں۔

آخر میں امید کی جانی چاہیے کہ نئے مالکان پی آئی اے کو ایک کامیاب ادارہ بنانے میں کامیاب ہوں گے اور حکومت کے پاس موجود پرانے قرضوں اور اثاثوں، جن میں روزویلٹ ہوٹل بھی شامل ہے، کو ضمانت کے طور پر استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اسی طرح ہڑتال کی صورت حال بھی پیدا نہیں ہوگی، کیونکہ 16 نئے بوئنگ طیارے ممکنہ طور پر اضافی ملازمین کے مسئلے کو کسی حد تک حل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026