پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) نے جمعہ کو کہا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملبوسات اور ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 44 فیصد اضافے کے باوجود بلند پیداواری لاگت، کاروباری امور میں مشکلات، پالیسی سے متعلق رکاوٹیں اور غیر مساوی مسابقتی ماحول ملک کی برآمدی صنعت کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں۔
نومنتخب مرکزی چیئرمین پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن سید ضیا علمدار حسین، سابق چیئرمین محمد بابر خان، مرکزی سینئر وائس چیئرمین عبدالجبار گجیانی اور مرکزی وائس چیئرمین میاں فرخ اقبال نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات مالی سال 2015-16 میں 12.447 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 17.933 ارب ڈالر ہوگئیں جو گزشتہ 10 برس کے دوران 44.07 فیصد اضافہ ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق اسی عرصے کے دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات 20.787 ارب ڈالر سے بڑھ کر 30.139 ارب ڈالر ہوگئیں جو 44.99 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
پی ایچ ایم اے کے عہدیداروں نے کہا کہ ملبوسات اور ٹیکسٹائل کا شعبہ بدستور ملک کی برآمدات، معاشی ترقی اور زرمبادلہ کمانے میں سب سے بڑا حصہ دار ہے۔ ٹیکسٹائل برآمدات کے مجموعی شعبے میں نٹ ویئر اور ہوزری کا حصہ تقریباً 28 فیصد ہے، جبکہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے سے تقریباً 15 لاکھ افراد کو روزگار ملتا ہے اور یہ قومی جی ڈی پی میں تقریباً 8.5 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔
پی ایچ ایم اے کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر حکومت برآمدی صنعتوں کو اولین ترجیح دے اور ان ساختی مسائل کو حل کرے جنہوں نے برآمدات کی شرح نمو کو سست کر رکھا ہے تو برآمدات میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کاروبار اور پیداوار کی بلند لاگت، کاروباری سہولت کاری میں مشکلات اور مساوی مسابقتی ماحول کے فقدان کو برآمدات میں اضافے اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کے لیے بڑی رکاوٹیں قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ برآمد دوست پالیسیاں مرتب کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کے ساتھ ساتھ ایسا کاروباری ماحول پیدا کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے جو برآمد کنندگان کو عالمی منڈی میں مؤثر انداز میں مسابقت کے قابل بنائے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدی پالیسی اور اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے برآمد کنندگان کی نہیں۔