صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی حکومت میڈیکیئر میں رجسٹرڈ 20 ملین سے زائد امریکیوں کو ایک مرتبہ 90 ڈالر کی ادائیگی کرے گی۔ میڈیکیئر بزرگ افراد کے لیے صحت بیمہ پروگرام ہے اور یہ رقم ان کے ماہانہ طبی بیمہ پریمیم کی لاگت کو کم کرنے میں مدد دے گی۔
ٹرمپ نے جمعہ کی رات سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ادائیگیاں میڈیکیئر امپروومنٹ فنڈ سے کی جائیں گی جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کانگریس نے میڈیکیئر کے فیس فار سروس پروگرام میں بہتری کے لیے اسے 2 ارب ڈالر فراہم کیے تھے۔
یہ اعلان نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹرز سے ریپبلکن رہنما کی جانب سے کیے گئے مالی فوائد کے وعدوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جن میں کانگریس کا کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔
ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو اس وقت سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے، تاہم ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے دوران تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکی عوام کے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی کے بلند اخراجات سے نمٹنے کے معاملے پر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح کم رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اپنی ویب سائٹ پر ٹرمپ کے منصوبے کی کچھ تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر اہل بزرگ شہریوں کو اکتوبر کے اوائل میں 90 ڈالر کی رقم براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق جن افراد نے براہِ راست رقم کی منتقلی کی سہولت حاصل نہیں کر رکھی، انہیں بھی اکتوبر کے اوائل میں چیک بھیجا جائے گا، جو میڈیکیئر کے ریکارڈ میں درج ان کے ڈاک کے پتے پر ارسال کیا جائے گا۔
گزشتہ ماہ ٹرمپ نے تجویز دی تھی کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو تمام بالغ شہریوں کو 5,000 ڈالر کے چیک بھیجے جائیں۔ تاہم تجزیہ کاروں، ماہرینِ اقتصادیات اور حتیٰ کہ کانگریس میں موجود بعض ریپبلکن ارکان نے بھی اس منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ اس کے علاوہ تقریباً 10 لاکھ امریکیوں کو 500 ڈالر کی ادائیگیاں بھی کر رہی ہے جس کے بارے میں سیاسی حکمتِ عملی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ممکنہ طور پر بعض انتخابی حلقوں میں نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ ادائیگیاں ان افراد سے وصول کی گئی اضافی فیس کی واپسی کے طور پر کی جا رہی ہیں جنہوں نے افورڈ ایبل کیئر ایکٹ کے تحت ہیلتھ انشورنس خریدی تھی۔