امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند شرح منافع سے ڈالر مضبوط
- ایشیا کی ابتدائی تجارت میں ڈالر انڈیکس 101.48 پر رہا
عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا، جسے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں مسلسل اضافے سے سہارا ملا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔
رائٹرز کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی توقعات سے کم بڑھنے اور جولائی کے اعدادوشمار میں کمی کے بعد رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ تاہم یورپ میں مہنگائی میں تیزی سے اضافے نے توانائی کی بلند قیمتوں کے عالمی معیشت پر اثرات سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔
ایشیا کی ابتدائی تجارت میں ڈالر انڈیکس 101.48 پر رہا، جو ستمبر کے دوران تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو معمولی کمی کے بعد 1.1330 ڈالر پر آگیا، جبکہ ستمبر میں اس کی قدر تقریباً 2.5 فیصد گری۔ برطانوی پاؤنڈ 1.3264 ڈالر پر مستحکم رہا، تاہم گزشتہ ماہ اس میں 2.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
نیشنل آسٹریلیا بینک کے سربراہ برائے زرمبادلہ حکمت عملی رے ایٹریل کے مطابق امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار سے کچھ اطمینان ضرور ملا ہے، لیکن مستقبل میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
ستمبر میں عالمی بانڈ مارکیٹوں کو کئی برسوں کی بڑی ماہانہ گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث بانڈز کی شرح منافع میں اضافہ ہوا۔ امریکی 10 اور 30 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرح منافع بھی نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب جاپانی ین 0.2 فیصد کمی سے 157.82 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر دو ماہ کی کم ترین سطح 0.6940 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5636 ڈالر پر رہا۔ آسٹریلیا میں مہنگائی توقعات سے کم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔