✕
دنیا

مودی کی ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو، بھارت امریکا سے عبوری تجارتی معاہدے کا خواہاں

  • بھارتی وزیر اعظم اور امریکی صدر کا اسٹریٹجک تعلقات مزید مستحکم کرنے پر اتفاق، بھارتی وزیر تجارت امریکا میں اہم دوطرفہ تجارتی معاہدے کے لیے کوشاں
شائع اپ ڈیٹ

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ نئی دہلی نے بدھ کو بتایا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارتی وزیر تجارت امریکا میں عبوری تجارتی معاہدہ طے کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران مودی اور ٹرمپ نے تجارت، دفاع، توانائی اور اہم ٹیکنالوجیز سمیت دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’’دونوں رہنماؤں نے بھارت۔امریکا جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا اور تعاون مزید گہرا کرنے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔‘‘

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے عالمی امن و سلامتی کے فروغ کی کوششوں سمیت علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے اور عبوری انتظام سے متعلق مذاکرات کے لیے 29 ستمبر سے 5 اکتوبر تک امریکا کے دورے پر ہیں۔

نئی دہلی نے رواں ہفتے کے اوائل میں بتایا تھا کہ گوئل بھارت اور امریکا کے درمیان ’’متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی‘‘ دوطرفہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں اپنے امریکی ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے۔

بھارتی وزارت تجارت کے مطابق گوئل منگل کو جی 20 کے وزرائے تجارت کے اجلاس میں شرکت کے لیے ملواکی پہنچے، جہاں انہوں نے نیشنل ایسوسی ایشن آف مینوفیکچررز کی میزبانی میں ہونے والے گول میز اجلاس میں امریکی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔

انہیں امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کی دعوت پر وسکونسن میں ہونے والے جی 20 کے وزرائے تجارت کے اجلاس میں بھی شرکت کرنا تھی۔

بھارت اور امریکا کے درمیان کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے باوجود اب تک اتفاقِ رائے نہیں ہوسکا، جبکہ نئی دہلی مجوزہ معاہدے میں بہتر شرائط کا خواہاں ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں بھارت نے کہا تھا کہ اس نے واشنگٹن کو آگاہ کردیا ہے کہ روسی تیل کی بھارتی خریداری سے متعلق امریکا کے نئے ٹیرف اقدامات دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرسکتے ہیں۔