پی ٹی آئی کی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں ناکام، عطاء اللہ تارڑ
- کے پی حکومت سیاسی و مالی مفادات کے لیے دہشت گردوں کی سہولت کاری کر رہی ہے، وزیراطلاعات کا الزام
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے نہ تو دہشت گردی کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھایا ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
پیر کو اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کی سہولت کاری کر رہی ہے کیونکہ اسے اس کے ذریعے سیاسی اور مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں، حالانکہ اس کے نتیجے میں متعدد بے گناہ افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی قیادت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی بی ٹیم ہے۔‘‘
تارڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے لیے دہشت گردوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے جان بوجھ کر نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو صوبے میں قانونی دائرے میں لانے سے گریز کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے صوبائی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے مختص وسائل کے صوبے میں استعمال کی تفصیلات فراہم کرے۔ انہوں نے کہا، ’’بھاری فنڈز حاصل کرنے کے باوجود آپ نے سیف سٹی کیمرے تک نصب نہیں کیے۔‘‘
تارڑ نے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’پی ٹی آئی کو صوبے میں حکومت کرتے ہوئے ساڑھے 12 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن خیبرپختونخوا کے عوام آج بھی علاج معالجے کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔‘‘
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اپنے خطاب میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر افغانستان کی مذمت نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس کو نہ تو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مناسب وسائل فراہم کیے ہیں اور نہ ہی اسے ضروری اختیارات دیے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کے ذریعے پولیس کے اختیارات مزید محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔