دہلی میں ریپ کے واقعات، بھارتی سپریم کورٹ کا جواب دہی طے کرنے پر زور
- مقامی میڈیا کے مطابق گزشتہ ماہ 17 سالہ لڑکی کو ایک چلتی بس میں ڈرائیور اور کنڈکٹر نے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے پیر کو دارالحکومت نئی دہلی اور اس کے گردونواح میں حالیہ ریپ کے واقعات پر جواب دہی یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعات قانون نافذ کرنے میں ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں سیکڑوں طلبہ نے خواتین کے تحفظ کے بہتر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔ یہ احتجاج ایک نوجوان لڑکی کے اس بیان کے بعد کیا گیا کہ اسے شہر کے ایک پارک میں تین افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
مقامی میڈیا کے مطابق گزشتہ ماہ 17 سالہ لڑکی کو ایک چلتی بس میں ڈرائیور اور کنڈکٹر نے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
قانونی نیوز ویب سائٹ لائیو لا کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا کہ ناقص روشنی، نگرانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث پارکس اور بسوں سمیت عوامی مقامات کو زیادہ خطرے والے علاقے نہیں بننے دیا جاسکتا۔
بار اینڈ بینچ کے مطابق عدالت نے کہا کہ جواب دہی کا تعین ضروری ہے اور انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اس معاملے پر مفاد عامہ کی درخواست دائر کی جائے تاکہ عدالت اس کی پیروی کرسکے۔
بھارت میں جنسی تشدد ایک بڑا مسئلہ ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق ملک میں روزانہ 80 سے زائد ریپ کے واقعات پولیس کو رپورٹ ہوتے ہیں۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے گزشتہ ہفتے ایک ٹی وی چینل کو بتایا تھا کہ سیکیورٹی میں خامیاں سامنے آئی ہیں اور سیکیورٹی بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا، جبکہ دہلی پولیس نے نمایاں پولیسنگ بڑھانے اور گشت میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے۔