✕
اداریہ

سول سروس کا چیلنج

شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں سول سروس اصلاحات کے لیے خیالات کی کمی نہیں؛ تاہم طویل عرصے سے جس چیز کا فقدان رہا ہے، وہ ایسے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے سیاسی عزم ہے جو اصلاحات کی مزاحمت کرتا چلا آرہا ہے۔

19 ستمبر کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے پیش کیے گئے سول سروس اصلاحات کے تازہ پیکیج میں کئی قابلِ غور تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں جن میں خصوصی پیشہ ورانہ کیڈرز کا قیام اور ترقیِ ملازمت و مراعات کو کارکردگی سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ منسلک کرنا شامل ہے۔

لیکن اصل امتحان ان ساختی تبدیلیوں سے آگے ہے: آیا حکومت اس سیاسی مداخلت اور سرپرستی کے نظام کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں جس نے برسوں سے بیوروکریسی کے ڈھانچے کو مسخ کر رکھا ہے۔

یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے سول سروس اصلاحات کی کوششیں کی ہیں، تاہم ان کے دیرپا اثرات بہت کم رہے ہیں۔ بیوروکریسی کی مزاحمت، اسے درپیش مسائل کی نامکمل تشخیص اور مفادات کے قائم شدہ نظام کو متاثر کرنے کی سیاسی قیمت نے بارہا ایسی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔

تاہم اصلاحات ناگزیر ہیں کیونکہ سول سروس طرزِ حکمرانی کا ایک بنیادی ستون ہے اور ایک غیر مؤثر بیوروکریسی لازماً ریاست کی پالیسی سازی اور اس پر مؤثر عمل درآمد کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے۔

تازہ اصلاحاتی پیکیج میں طویل عرصے سے موجود بعض کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں قانون، انجینئرنگ، سائنس و ٹیکنالوجی، آئی ٹی، توانائی، موسمیاتی تبدیلی، زراعت، تعلیم اور صحت سمیت 11 پیشہ ورانہ کیڈرز کی تجویز پیش کی گئی ہے جو تخصص کی جانب ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ پاکستان کو ان شعبوں میں حقیقی مہارت رکھنے والے افسران کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے نظام کی جس میں جنرل کیڈر کے افسران انتہائی تخصصی نوعیت کے مختلف شعبوں کی ذمہ داریاں سنبھالتے رہیں۔

بھرتی، ملازمت میں ترقی اور مالی مراعات کو کارکردگی سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ منسلک کرنا بھی خوش آئند ہے جبکہ سی ایس ایس امتحان اور بھرتی کے عمل میں ایسی تبدیلیاں بھی قابلِ تحسین ہیں جن کا مقصد انتخاب کے عمل کے معیار اور شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، اگرچہ یہ اقدامات اہم ساختی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار بالآخر اس بات پر ہوگا کہ وسیع تر ادارہ جاتی ماحول اور طرزِ کارکردگی میرٹ، احتساب اور پیشہ ورانہ خودمختاری کے لیے سازگار ہیں یا نہیں۔

یہاں مسئلہ محض یہ نہیں کہ سیاست دان بعض اوقات انتظامی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ایک ایسا نظام تشکیل پا گیا ہے جس میں تعیناتیاں، تبادلے اور ترقیاں سیاسی سرپرستی کے ذرائع بن چکی ہیں، جبکہ سیکریٹریٹ کی اہم عہدوں اور بیرونِ ملک تعیناتیوں کو ان افسران کے لیے مراعات کے طور پر دیکھا جاتا ہے جنہیں سیاسی طور پر قابلِ اعتماد یا ذاتی طور پر پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔

جب ملازمت میں ترقی کا انحصار، خواہ جزوی طور پر ہی سہی، سیاسی روابط استوار کرنے پر ہو تو پیشہ ورانہ خودمختاری لازماً متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خوشامد اور تابعداری کا ایک ایسا کلچر جڑ پکڑ لیتا ہے جہاں کسی وزیر کو وہ بات بتانا جو وہ سننا چاہتا ہے، اس بات کے بجائے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے جو اسے سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔

نتیجتاً میرٹ، سینیارٹی اور اہلیت پسِ پشت چلے جاتے ہیں جس سے یس مین افسران کا ایک طبقہ ابھر آتا ہے اور بیوروکریسی اپنی ذمہ داریاں غیر جانبداری سے ادا کرنے کے بجائے سیاسی سرپرستوں کے لیے زیادہ جواب دہ بن جاتی ہے۔

یہ وہ مقام بھی ہے جہاں مجوزہ کارکردگی پر مبنی نظام مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ کارکردگی سے منسلک تنخواہوں اور ترقیوں سے احتساب کا نظام اسی صورت مضبوط ہوسکتا ہے جب کارکردگی کا جائزہ آزادانہ طور پر اور معروضی معیار کے تحت لیا جائے۔ اگر سیاسی اثر و رسوخ اہم عہدوں پر تعیناتیوں اور پیشہ ورانہ ترقی کے عمل کو متاثر کرتا رہا تو نیا نظام بھی محض ان افراد کو نوازنے کا ایک اور ذریعہ بن سکتا ہے جن کے درست سیاسی روابط ہوں۔

بھرتی کے عمل میں بھی میرٹ کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔ سول سروس کا بڑا حصہ علاقائی کوٹے کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے جس میں آبادی کے حجم اور مختلف علاقوں کی نسبتاً پسماندگی کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

کم ترقی یافتہ علاقوں کی نمائندگی یقینی بنانے کے لیے علاقائی کوٹے کی ایک جائز بنیاد موجود ہے لیکن اس کا مطلب ان زمروں کے اندر میرٹ کو نظر انداز کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ کسی مخصوص علاقے کے لیے مختص آسامیوں پر مقابلہ کرنے والے امیدواروں کے درمیان بھی شفاف اور میرٹ پر مبنی معیار کے تحت مسابقت ہونی چاہیے۔

حکومت کو اس پیکیج کو محض ایک داخلی انتظامی معاملہ سمجھنے کے رجحان سے بھی گریز کرنا چاہیے، صرف اس لیے کہ اس کے لیے آئینی ترمیم درکار نہیں ہے۔ طرزِ حکمرانی پر اس کے اثرات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پارلیمان میں اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور میڈیا، علمی حلقوں، تھنک ٹینکس اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان بھی وسیع بحث کی جائے۔

تاہم، زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ان اصولوں کو نافذ بھی کرے گی جن کی وہ تجویز دے رہی ہے۔ میرٹ کو منتخب طور پر برقرار نہیں رکھا جاسکتا اور پیشہ ورانہ خودمختاری سیاسی سرپرستی کے ساتھ بیک وقت قائم نہیں رہ سکتی۔ جب تک حکومت سیاسی مداخلت اور بیوروکریسی کی مزاحمت، دونوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی، اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ اصلاحات بیوروکریسی کے ڈھانچے میں تبدیلی تو لے آئیں گی، لیکن اس کے اندر موجود سیاسی مداخلت کے کلچر کو برقرار رکھیں گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026