✕
کھیل

پیٹرسن کی انگلینڈ کوچ فلیمنگ سے ایشز سیریز پر بات چیت

کیون پیٹرسن نے ٹیسٹ کوچ اسٹیفن فلیمنگ سے آئندہ ایشز سیریز سے قبل ریڈ بال ٹیم کی مدد کے حوالے سے بات چیت کی ہے، تاہم...
شائع اپ ڈیٹ

کیون پیٹرسن نے ٹیسٹ کوچ اسٹیفن فلیمنگ سے آئندہ ایشز سیریز سے قبل ریڈ بال ٹیم کی مدد کے حوالے سے بات چیت کی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ مصروف شیڈول کے باعث وسیع تر کردار ادا کرنے کا امکان کم ہے۔

46 سالہ پیٹرسن جو تمام فارمیٹس میں انگلینڈ کی جانب سے تیسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز ہیں کو رواں ماہ 2027 ورلڈ کپ سے قبل وائٹ بال ٹیم کے لیے خصوصی مینٹور مقرر کیا گیا تھا۔

پیٹرسن نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا شیڈول کافی مصروف ہے، تاہم میں انکار نہیں کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اسٹیفن سے بات کی ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ مجھے ڈریسنگ روم میں موجود ہونا چاہیے۔ ایشز سیریز سے قبل کافی وقت موجود ہے اور اس دوران بہت سی بات چیت کی جاسکتی ہے۔

میں نے فلیمنگ سے اس زبان اور انداز کے بارے میں بھی بات کی ہے جو وہ چاہتے ہیں کہ میں جنوبی افریقہ کے دورے اور پھر اگلے سال کے موسمِ گرما میں ٹیسٹ بلے بازوں کے ساتھ استعمال کروں، تاہم مجھے نہیں لگتا کہ میں اس سے زیادہ وقت دینے کا وعدہ کرسکتا ہوں۔

پیٹرسن نے ایک دہائی سے زائد عرصے بعد انگلینڈ کی ٹیم میں واپسی پر بھی گفتگو کی جو بین الاقوامی کرکٹ سے ان کی متنازع علیحدگی کے بعد ہوئی ہے۔

جارحانہ انداز کے مڈل آرڈر بلے باز پیٹرسن نے انگلینڈ کی جانب سے تینوں فارمیٹس میں تقریباً 14 ہزار رنز بنائے۔ انگلینڈ نے آخری مرتبہ 2019 میں اپنی سرزمین پر ون ڈے ورلڈ کپ جیتا تھا۔

تاہم پیٹرسن کا انگلینڈ کا کیریئر 2014 میں آسٹریلیا کے خلاف 5-0 کی ایشز وائٹ واش کے بعد متنازع انداز میں ختم ہوا۔ اس دوران ڈریسنگ روم کے اندر اور بلے باز اور ٹیم مینجمنٹ کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

پیٹرسن اس سیریز میں انگلینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز تھے اور انگلینڈ کے لیے کھیلنے کے خواہشمند بھی تھے، تاہم انہیں بتایا گیا کہ اب وہ ٹیم کے مستقبل کے منصوبوں کا حصہ نہیں ہیں جس کے ساتھ ان کے بین الاقوامی کیریئر کا تلخ اختتام ہوا۔

پیٹرسن نے کہا کہ میں 46 سال کا ہوں، وہ سب کچھ بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ میں بھی اب بالکل مختلف انسان ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں خوش قسمت رہا ہوں کہ انگلینڈ کے کرکٹر کی حیثیت سے پہننے والی ہر شرٹ پہن چکا ہوں۔ اچھا، برا اور بدترین سب کچھ دیکھا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کے کیریئر کے کچھ ایسے پہلو ہیں جن سے میں انہیں بدترین صورتحال سے دور رہنے میں ممکنہ طور پر مدد دے سکتا ہوں۔

انگلینڈ کے سیٹ اپ کا حصہ بننے کے بعد پیٹرسن کی پہلی سیریز میں انگلینڈ نے اسپن بولنگ پر انحصار کرنے والی سری لنکن ٹیم کو 3-0 سے وائٹ واش کردیا اور ٹی20 عالمی رینکنگ میں بھارت کو پیچھے چھوڑ کر پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔